پاکستانی عوام پانی کے بعد سب سے زیادہ چائے پینے کے شوقین ہیں اور سالانہ چار ارب روپے سے زیادہ رقم چائے کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ بات پاکستان بوٹینیکل سوسائٹی کے زیراہتمام زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے مختلف ٹیکنیکل سیشنز کے دوران سامنے آئی ۔کانفرنس میں اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے ہزارہ یونیورسٹی ہزارہ کے پی ایچ ڈی سکالر صاحب گل نے بتایا کہ ہر پاکستانی سالانہ 1کلو گرام سے زائد چائے کی پتی استعمال کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس وقت چائے درآمد کرنے کے حوالے سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے ۔
مسٹر صاحب گل نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے موسمی و زمینی حالات چائے کاشت کرنے کے حوالے سے مناسب قرار دیئے جا رہے ہیں اور مانسہرہ میں وسیع رقبے پر اس وقت چائے کاشت کی جا رہی ہے اور اس منافع بخش فصل کے زیرکاشت رقبے میں اضافہ کرکے ہم کثیر زرمبادلہ بچا سکتے ہیں۔ کانفرنس کی ایک اور مقرر پنجاب یونیورسٹی کی مس اے کے علوی نے گنے کی پیداواری کمی کے اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ گنے کے تنے میں پیدا ہونے والے سوراخ اور ریڈروٹ کی وجہ سے 29سے 38فیصد تک فصل خراب ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے کسانوں کو پیداواری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری امریکہ سمیت' چائنہ' تائیوان اور بھارت میں پیدا ہونے والے گنے میں بھی پائی جاتی ہے جس کے سدباب کیلئے مربوط اور سنجیدہ کوششیں بروئے کارلانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں چاول کے حوالے سے تحقیقی پیش رفت کا احاطہ کرتے ہوئے کانفرنس کے مقرر نے بتایا کہ گندم کے بعد چاول انسانی غذا کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے اور پاکستان میں اس کی متعدد اقسام کاشت کی جا رہی ہیں اور ان میں بہترین سپرباسمتی کو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو بہترین غذائیت کے حامل چاول کی اقسام کو بین الاقوای اداروں سے پیٹنٹ کروالینا چاہئے تاکہ WTOکے آزاد تجارتی میدان میں سامنے آنے والے چیلنجوں سے کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہوا جا سکے۔ اس بین الاقوامی کانفرنس کے دوسرے روزایک درجن کے لگ بھگ ٹیکنیکل سیشنز ہوئے جن میں ماہرین نباتات نے اپنے مقالے پڑھے اور دوسرے سائنس دانوں سے تحقیقی حوالے سے خیالات کا تبادلہ کیا۔