پولیٹکل انتظامیہ لنڈی کوتل اورملاحضرت نبی گروپ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے خوگہ خیل قبیلے کیخلاف جاری کریک ڈائون ختم ہوگیا بازارمیں دوکانیں کھول دی گئیں اورگرفتارافرادگاڑیوں سمیت رہاکردئیے گئے۔اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لنڈی کوتل محمدطیاب خان نے صحافیوں کوبریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ملاحضرت نبی شنواری انتظامیہ کومطلوب شخص تھا جن کواپنے آپ کو حوالہ کرنے کیلئے ہم نے نوٹس دیا مگر انہوں نے اپنے آپ کوہمیں حوالہ نہیں کیا اور ہم نے علاقائی ذمہ داری کے تحت خوگہ خیل قبیلے کیخلاف کریک ڈائون شروع کیا سینکڑوں افراددرجنوں گاڑیوں سمیت گرفتار کیا بازار میں سینکڑوں دوکانوں کوسیل کردیا۔اے پی اے نے کہاکہ ملاحضرت نبی نے شیلوان جرگے کے ذریعے انتظامیہ کواپنے آپ کوحوالہ کیا اور انتظامیہ کوسترلاکھ روپے ضمانت دی اورلنڈی کوتل سے باہرکسی قسم کی عسکریت پسند تنظیم اور گروہ کودعوت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے کہاکہ جرگے کی درخواست پراورماہ رمضان کی مقدس مہینے کے احترام پرہم نے ان کوگرفتارنہیں کیا تاہم ملاحضرت نبی نے پولیٹکل انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہاکہ ہم جرگہ پر یقین رکھتے ہیں ایف سی اہلکاروں کومستقل گشت کرنے کاحکم دیاگیاہے اورمشکوک ومشتبہ افراد کیخلاف کارروائی کی جائیگی سیکورٹی فورسزکوان افراد کے خلاف شوٹ کرنے کا آرڈر بھی دیا گیا ہے جولنڈی کوتل میں ضرورت سے زیادہ اسلحہ کی بھاری نمائش کے ساتھ گھومتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امن وامان برقراررکھنے کیلئے لنڈی کوتل میں ایف سی کے تین چیک پوسٹیں قائم کئے جائیں گے۔
رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں سے کرم ایجنسی داخل ہونے والے طالبان کی شدت پسندی کو روکنے کے مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہم ملک بھر کی اہم شاہراہوں کو شام 5 بجے سے 7 بجے تک بلاک کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اس پر پیر سے عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ پارلیمنٹ لاجز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ساجد طوری نے کہا کہ دارالحکومت میں عظمت شہداء کانفرنس اور پارلیمنٹ کے سامنے بارہا احتجاجی مظاہروں' پارلیمنٹ میں آواز بلند کرنے اور مشیر داخلہ رحمن ملک سمیت ارباب اختیار سے بات چیت کرنے کے باوجود ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جبکہ پارہ چنار روڈ گزشتہ 14 ماہ سے بند ہونے کی وجہ سے پورے علاقے میں شدید غذائی قلت پیدا ہو چکی ہے اور اس کے باوجود شاہراہ کو نہیں کھولا گیا دیگر علاقوں میں مقیم مقامی لوگوں کو وہاں جانے کے لئے فضائی سروس بھی بحال نہیں کی گئی جس پر یہ اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک تمام بڑے شہروں کی اہم شاہراہیں دو گھنٹے تک بلاک کی جائیں گی۔