سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر کامل علی آغا کی طرف سے قائم مقام چیئرمین جان محمد جمالی کے بارے میں ریمارکس کے بعد مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن ارکان کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ بدھ کو اجلاس کے دوران قائم مقام چیئرمین کے بارے میں ریمارکس کے بعد جب قائد حزب اختلاف نے ایوان سے واک آئوٹ کیا تو ان کی اپنی جماعت کے ارکان نے ان کا ساتھ نہیں دیا، اس کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کی سابق دور میں اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ (ف) اور پیپلزپارٹی (شیرپائو) گروپ کے سینیٹر بھی ایوان میں بیٹھے رہے اور اس موقع پر مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کے علاوہ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بھی سینیٹر کامل علی آغا کے رویہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر ان کے موقف کے دفاع کیلئے کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں تھا، صرف سینیٹر پری گل آغا نے کہا کہ وہ کامل علی آغا کے ریمارکس پر ان کی طرف سے قائم مقام چیئرمین سے معذرت کی خواہاں ہیں۔