سینٹ کو بتایا گیا کہ ایران۔ پاکستان۔ بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ کو حتمی شکل دینے کیلئے کام ہو رہا ہے، گیس کی خریدوفروخت کے معاہدہ کیلئے ایران کے جواب کا انتظار ہے، تمام معاملات طے پانے کے بعد منصوبہ 2012ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔ بدھ کو سینٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی، پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر محمد اسماعیل بلیدی کے مختلف سوالات کے تحریری جواب میں وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایوان کو بتایا کہ تفصیلی مذاکرات کے بعد پاکستان اور ایران نے دسمبر 2007ء میں گیس کی خریدوفروخت کے معاہدے پر بات چیت شروع کی۔ دونوں اطراف سے رواں سال جنوری میں ایک اندرونی منظوری لینے کے بعد معاہدہ پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اندرونی منظوری حاصل کر چکا ہے لیکن ایران کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ فیس کے بارے میں بھارت نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ اندرونی صلاح مشورہ کے بعد اس کو حتمی شکل دیدی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ابھی تک باضابطہ طورپر پائپ لائن منصوبہ کا حصہ بننے کے سلسلہ میں فیصلہ کرنا ہے اور اس نے گیس کی خریدوفروخت کے معاہدہ پر بھی دستخط نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے شعبہ کو تیل و گیس کی مد میں کوئی سبسڈی نہیں دی جا رہی، اس کے علاوہ اس شعبہ کیلئے تیل و گیس کے کوئی مخصوص نرخ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کل چار ارب 50 کروڑ ٹن کے ذخائر موجود ہیں، یکم جنوری 2007ء سے 30 جون 2008ء تک تیل و گیس کی تلاش کیلئے 86 کنوئوں کی کھدائی کی گئی اور اس عرصہ کے دوران تیل و گیس کے 21 ذخائر دریافت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی طلب کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے حب بلوچستان میں خلیفہ کوسٹل ریفائنری کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا ہے جس سے یومیہ دو لاکھ سے تین لاکھ بیرل کی پیداوار حاصل ہو گی۔ اس منصوبہ پر لاگت کا اندازہ 5 ارب ڈالر لگایا گیا ہے اور اس پر دسمبر 2012ء تک کام مکمل ہو جائے گا۔