پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کو صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔ آصف علی زرداری چھبیس جولائی انیس سو پچپن کو کراچی میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس اسکول کراچی اور پٹارو کیڈٹ کالج جامشورو سے حاصل کی۔اٹھارہ دسمبر انیس سو ستاسی کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم، ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔انیس سو نوے میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اٹھا ون ٹو بی کی استعمال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت کو برطرف کر دیا، آصف علی زرداری کو مختلف مقدمات میں پہلی بار جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ انیس سو ترانوے میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آئی اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے دوسری بار وزیر اعظم کا حلف اٹھایا جس کے فوراً بعد آصف علی زرداری بھی رہا ہوگئے۔بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں آصف علی زرداری رکن اسمبلی بنے اوربطور وزیر ماحولیات فرائض انجام دئے۔انیس سو چھیانوے میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد آصف علی زرداری کو ایک پھر مالی بد عنوانوں اور مرتضی بھٹو قتل کیس میں جیل جانا پڑا۔ پانچ اکتوبر دو ہزار سات کو صدر مشرف نے متنازعہ این آر او جاری کیا جس کا سب سے زیادہ فائدہ آصف علی زرداری کو پہنچا۔ستائس دسمبر دو ہزار سات کو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد وطن واپس پہنچے اور پیپلز پارٹی ے شریک چیئر مین مقرر ہوئے۔ این آر او کے تحت آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے پانچ مقدمات پانچ مارچ دو ہزار آٹھ کو ختم ہو گئے۔ نو مارچ دو ہزار آٹھ کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ججوں کی بحالی کا معاہدہ ہوا۔اس معاہدے کے تحت ججوں کو تیس دن میں بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا، تمام وعدوں کے باوجود ججوں کو بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا۔تمام وعدوں کے باوجود ججوں کو بحال نہ کرنے پر پچیس اگست دو ہزار آٹھ کومسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے اتحاد سے علیحدگی اختیار کیاور اپنا صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔دوسری جانب پی پی نے پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کو صدارتی انتخاب میں اپنا امیدوار نامزدکر دیا