آصف علی زرداری سندھ اسمبلی سے 100 فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ایوان میں 166 ووٹ کاسٹ کئے گئے جس میں سے آصف علی زرداری نے 162 ووٹ حاصل کئے جبکہ ایک ووٹ مسترد کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں پولنگ کا آغاز ہفتے کو صبح 10 بجے سے ہوا سندھ اسمبلی میں صدارتی انتخابات کیلئے کی جانیو الی رائے شماری کے نتائج کااعلان ایوان میں پریزائیڈنگ آفیسر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کیا جبکہ چیف الیکشن کمشنر سندھ چوہدری قمر الزماں، رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ عبدالرسول میمن اور اسمبلی سیکریٹری ہادی بخش نے ان کی معاونت کی۔آصف علی زرداری کے پولنگ ایجنٹ وزیر قانون ایاز سومرو، مشاہد حسین سید کے پولنگ ایجنٹ یوسف علوی اور جسٹس سعید الزماں صدیقی کے پولنگ ایجنٹ سلیم ضیاء تھے۔پولنگ کے آغاز پر پہلا ووٹ دس بجکر دس منٹ پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن عبدالحق نے ڈالا جبکہ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن صوبائی اسمبلی رقیہ خانم سومرو اسڑیچر پر ووٹ ڈالنے آئیں جس پر ایوان میں موجود تمام ارکان احتراماً کھڑے ہوگئے۔سندھ اسمبلی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ اسمبلی ارکان مقررہ وقت سے پہلے ایوان میں پہنچ گئے واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کے 168 نشستوں کے ایوان میں 166 ارکان موجود ہیں۔ دو نشستوں پر مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کا فیصلہ تاحال نہیں ہوسکا ہے۔صدارتی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 93 ارکان میں سے 92 نے ووٹ ڈالا جبکہ پیپلزپارٹی کے محسن شاہ بخاری خصوصی طور پر لندن سے ووٹ ڈالنے آئے۔ایم کیو ایم کے51 ارکان میں سے 50 ارکان جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے دو اور مسلم لیگ(ق) کے 9 میں سے 8 ارکان نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے ایوان میں جوںہی نتائج کا اعلان کیا ارکان صوبائی اسمبلی کی جانب سے جئے بھٹو کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی گئی۔تین ارکان صوبائی اسمبلی نے ووٹ کاسٹ نہیں کئے۔پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رکن صوبائی اسمبلی وسابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم دبئی میں ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے میر نادر علی مگسی بلوچستان میں ہیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر محمد علی شاہ بھی بیرون ملک (لندن)ہونے کے باعث اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرسکے۔پاکستان مسلم لیگ(فنکشنل) سے تعلق رکھنے و الے تمام 8 ایم پی ایز جام مدد علی کی سربراہی میں ایوان میںآئے اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔غلام مصطفیٰ جتوئی کی نیشنل پیپلزپارٹی کے تین ارکان نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔سندھ اسمبلی میں کاسٹ ہونے والے ووٹوں میں سے ایک بھی ووٹ دیگر دونوں صدارتی امیدواروں مشاہد حسین سید اور جسٹس سعید الزماں صدیقی کو نہیں مل پایا۔سندھ اسمبلی میں سے 162 ووٹ آصف علی زرداری کے حق میں آئے جبکہ فارمولے کے تحت غیر سرکاری نتائج کے مطابق آصف علی زرداری کو 63 ووٹ ملے۔ اسطرح پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پر مشتمل حکومت نے یہ دعویٰ درست کردکھایا کہ آصف علی زرداری کو سندھ اسمبلی سے 100 فیصد ووٹ ملیں گے ۔