پنجابی پاپ سنگر دلیر مہدی اِن دنوں اپنےپہلے صوفی البم بسم اللہ کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ صوفی شاعر قتیل شیفائی اور فراق گورکھپوری کے کلام کے مُرید دلیر مہندی کی اِس نئی البم میں چار نغمے ہیں جو کی صوفی طرز پر گا کر مہدی نے اپنی گائیکی کو ایک نئی پہچان دینے کی کوشش کی ہے۔ مہندی کے نئے البم کا اجراء دلی کی وزیراعلی شیلادکشت کے ہاتھوں ہوا۔
بولو تارا را را، بے دردی رب، اور سپر ہٹ فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کا ٹائٹل ٹریک گانے والےدلیر مہندی اپنی نئی صوفی البم کے ذریعے لوگوں میں پیار، امن اور قومی یک جہتی کا پیغام پہچانا چاہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میہندی کے نئے صوفی البم کا اجرا ٹھیک اُس دن رکھا گیا جب رمضان کا چاند دیکھ کر مسلمانوں نے روزے رکھنےکی تیاری شروع کی۔
مہدی کے مطابق بھارتی تہذیب ہر کام کا آغاز رب کا نام لے کر شروع کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔آج جب معاشرہ زلزلے، سیلاب اور بم دھماکوں جیسی آفات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے،ایسے میں خدا کا شکر ہےکہ وہ ہماری حفاظت کر رہا ہے۔ اور اُن کی نئی البم خدا کی اِسی عظمت کو بیان کرتی ہے۔مہندی کو یقین ہے کی اُن کے پاپ گائیکی کے لاکھوں شیدائی اُن کی نئی صوفی البم کو سراہیں گے۔
یوں تو اب تک صوفی کلام کے لیے لوگ نصرت فتح علی اور عابدہ پروین جیسے لافانی گلوکاروں کو سنتے تھے۔ پاپ سنگر دلیر بھی کسی دن صوفیانہ کلام پیش کریں گے یہ بات شاید بہت کم لوگوں کے تصور میں تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ صوفی البم کو خصوصی طور پر رمضان کے موقع پر ریلیز کیا گیا ہے۔