شوبز کی دنیاکوبھی سیاستدانوں کی طرح پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنے کاشوق ہے۔رپورٹ کے مطابق مرحوم اداکار محمدعلی نے سب سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی سے دلچسپی رکھی اور جنرل ضیاالحق کے ابتدائی دور میں سیاسی قیدی بھی رہے لیکن جلد ہی ضیاالحق مرحوم کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور انکے حمائتی بن گئے، بعدازاں میاں نوازشریف کے اتنے قریب ہوگئے کہ جب میاں محمدنوازشریف وزیر اعظم بنے تو انہوں مرحوم کو اپنامشیر خاص مقرر کردیا
طارق عزیز شو کے کپپئر طارق عزیز کے والد عبدالعزیز مسلم لیگ کے پرجوش کارکن تھے مگر طارق عزیز پاکستان پیپلزپارٹی کے بانیوں میں شمار ہوئے اور پھر جنرل ضیاالحق کے بھی حامیوں میں شمار ہوئے،بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریب بھی رہے لیکن بے نظیر دور میں اپنے پروگرام (نیلام گھر ) کی بندش پر نوازشریف کے کیمپ میں جابیٹھے اور پھر نوازشریف کے نام اور ٹکٹ پر کامیاب ہوکر قومی اسمبلی میں جابیٹھے،لیکن نوازشریف کی حکومت کے برطرف ہوتے ہیں عدت بھی پوری نہ کی مسلم لیگ (ق) کے ابتدائی گروپ (ہم خیال) گروپ سے جاملے ،فلم ساز احد ملک نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز پیپلزپارٹی سے کیا مگر میاں شہبازشریف سے دوستی ہوگئی اور مسلم لیگ میں آگئے ،اداکار حبیب نے بھٹو کی حمائت میں جلسے کیئے مگر انکے بعد خاموش ہوگئے
اداکار مصطفیٰ قریشی اور پی ٹی وی سنٹر لاہور کے سابق جی ایم شاہد محمودندیم کاتعلق ہمیشہ پاکستان پیپلزپارٹی رہا اور وقت کیساتھ ساتھ اور بھی مضبوط ہوتاگیا،اسی طرح یوسف خان اور اداکار الیاس کشمیری شروع سے میاں محمدنوازشریف کیساتھ ہیں ،یوسف خان واحدفنکار ہیں جو سابقہ مشرف حکومت پر کھلم کھلاتنقید کرتے رہے،ڈاکٹرانور سجاد پیپلزپارٹی کوخیرباد کہہ کر عوامی تحریک میں شامل ہوگئے،فضال احمد اورسید نورنے اپنی سیاسی سرگرمیاں ہمیشہ خفیہ رکھیں،مرحوم فلمسٹار رنگیلا کی بیٹی فرح بھی پہلے (ق) لیگ میں تھیں اب پاکستان مسلم لیگ(ن) کی طرف سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں ۔