امریکہ کی ایک عدالت نے القاعدہ کی مبینہ رکن ڈاکٹر عافیہ پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ اور ان پر امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
الزامات ثابت ہونے کی صورت میں انہیں فی قتل بیس سال قید، عمر قید اور دیگر الزامات میں آٹھ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
چھ اگست کو امریکہ میں زیر حراست پاکستانی ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ نے کہاتھا کہ ڈاکٹر عافیہ پر تشدد کے باعث انکی حالت انتہائی تشویش ناک ہے لہذا نہیں فوری طبی امداد تک رسائی فراہم کی جائے
اسلام آباد میں سابق سینیٹر اقبال حیدر اور انسانی حقوق کی تنظیم سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ بے گناہ اور گذشتہ پانچ سال نہ صرف ڈاکٹر عافیہ بلکہ انکے تین معصوم بچوں بھی لاپتہ ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے جسم پر زخم کے واضع نشان ہیں لیکن اسکے باوجود انہیں طبی امداد تک رسائی نہیں ہے
نیوز کانفرنس میں ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ نے پاکستانی حکام سے درخواست کی کہ ڈاکٹر عافیہ کو نیویارک میں پاکستانی سفارت خانے کی مدد سے قانونی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنا موقف بہتر طور پر پیش کرسکیں
پانچ اگست کو پانچ برس سے لاپتہ اور القاعدہ سے مبینہ تعلق کے شبے میں گرفتار پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت کے سامنے پیش کیاگیا تھا جہاں انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ۔ڈاکٹر عافیہ کو منگل کو نیو یارک میں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کے خلاف لگائے الزامات انہیں سنائے گئے۔۔امریکی جج کے سامنے پیشی کے وقت36سالہ ڈاکٹر عافیہ بہت کمزور نظر آرہی تھیں۔ وہ جب عدالت میں داخل ہوئیں تو لنگڑا کر سہارے سے چل رہی تھیں۔ جج نے انہیں کرسی پر بیٹھے رہنے کی اجازت دی اور الزامات پڑھ کرسنائے ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی فوجیوں اور اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔
 |
ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں
|
عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کی وکیل سے پوچھا کہ کیا وہ درخواست ضمانت پر بحث کے لیے تیار ہیں جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ انہوں نے تیاری نہیں کی ۔ جج نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے 11اگست کی تاریخ دے دی۔
نیویارک کے وفاقی وکیل مائیکل گارسیا نے کہا تھا کہ عافیہ صدیقی کو، جو امریکا کے ایک اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل ہیں،17 جولائی 2008 ء کو افغان صوبہ غزنی کے گورنر ہاؤس کے کمپاؤنڈ کے باہر مشکوک گھومتے دیکھا گیا اور افغان نیشنل پولیس نے سوالات کرنے پر مشکوک سمجھ کر انہیں تحویل میں لے لیا، تلاشی پر ان کے بیگ سے بم بنانے اور تخریب کاری کے مختلف طریقوں کے بارے میں کاغذات نکلے اس کے علاوہ بوتلوں میں بند مختلف طرح کا مواد بھی ملا، نیز نیویارک سٹی اور امریکا کے مختلف تاریخی مقامات کے بارے میں بھی تفصیلات ملیں۔
ایف بی آئی کے مطابق افغان نیشنل پولیس نے عافیہ صدیقی کو تحویل میں لے کر پردے کے پیچھے ایک کمرے میں بٹھا دیا جب 18 جولائی کو ایف بی آئی کے دو افسران، ایک آرمی وارنٹ افسر، ایک امریکی فوجی کیپٹن اور امریکی فوجی مترجم پر مشتمل ٹیم افغان حکام کے زیر تحویل عافیہ صدیقی سے ملنے کیلئے پہنچی تو عافیہ صدیقی ایک پردہ کے پیچھے بغیر کسی ہتھکڑی کے بٹھائی گئی تھیں اور امریکی حکام کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ امریکا کو مطلوب عافیہ صدیقی ہیں لہذا امریکی وارنٹ افسر اپنی امریکی ساخت کی ایم 4 گن فرش پر پاس رکھ کر جب سوال وجواب کی غرض سے نشست پر بیٹھا تو امریکی کپتان کو ایک عورت کی پردے کے پیچھے سے چیخ سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی ایک عورت کو امریکی وارنٹ افسر کی گن اٹھائے دیکھا جو براہ راست امریکی فوجی کپتان پر تانے ہوئے تھی، عافیہ صدیقی نے کسی کا نام لے کر کہا کہ اس کا خون تمھارے سر ہے اور اس نے امریکی گن سے امریکی کپتان پر گولی چلا دی
عافیہ نے دو گولیاں چلائیں مگر مترجم اور دیگر افراد کی عافیہ سے چھین جھپٹ اور دھکم پیل کے باعث کوئی زخمی نہیں ہوا۔ امریکی وارنٹ افسر نے 9 ایم ایم کی پستول سے عافیہ پر دو راؤنڈ فائر کئے جن میں سے ایک فائر سے عافیہ زخمی ہوگئیں مگر زخمی ہونے کے باوجود امریکی افسروں کو لاتیں مکے مارتیں رہیں اور ساتھ ہی انگریزی میں چیختی رہیں کہ وہ امریکیوں کو ہلاک کرنا چاہتی ہیں۔ امریکی حکام نے عافیہ کو اپنی گرفت میں لے لیا تو وہ بے ہوش ہوگئیں جس پر انہیں طبی امداد دی گئی۔
ایف بی آئی کے پریس ریلیز کے مطابق نیویارک کی وفاقی عدالت میں عافیہ صدیقی کو امریکی سرکاری افسروں کو قتل کرنے کی کوشش، سرکاری امریکی حکام پر حملہ کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کرکے پیش کیا جارہا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر 20 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔
نیویارک کے وفاقی وکیل مائیکل گارسیا نے نیویارک سٹی پولیس، ایف بی آئی، ریاست میساچوسٹس کے اٹارنی آفس کے تعاون اور تحقیقات کا شکریہ ادا کیا ۔ ایف بی آئی کے پریس ریلیز میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے تین بچوں کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ 2003ء میں کراچی سے لاپتہ ہونے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون افغانستان میں غزنی کے علاقے میں کیسے پہنچ گئیں جبکہ وہ امریکی ایف بی آئی کو مطلوب افراد کی اس فہرست پر واحد خاتون ہیں جن کی گرفتاری پر بڑا انعام بھی ہے۔
وکیل وئفیلڈ شارپ نے کہا کہ گرفتاری کے بارے میں ایف بی آئی کی کہانی پر یقین نہیں کیا جا سکتا بلکہ کراچی میں گمشدگی کے وقت سے ہی یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تین بچوں کی ماں اُسی وقت سے ایف بی آئی کی تحویل میں ہیں جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ 18 جولائی سے قبل امریکی تحویل میں نہیں تھیں
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی شہر بالٹی مور میں کچھ عرصہ قبل مقیم ماجد خاں کو امریکا میں دوبارہ آنے میں مدد دی، ماجد خاں اس وقت امریکی قید خانہ گوانتانا موبے میں زیر تحویل ہیں، ماجد خاں کے خالد شیخ سے براہ راست تعلقات بتائے جاتے ہیں، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خالد شیخ کے ایک بھتیجے علی عبد العزیز علی نے جو عامر بلوچی کے نام سے مشہور ہے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ماجد خاں کے لئے امریکا میں داخل ہونے کے لئے کاغذات تیار کرنے کو کہا تھا اور عامر بلوچی کی گرفتاری کے کچھ عرصے قبل عافیہ صدیقی نے عامر بلوچی سے شادی کرلی تھی، ایف بی آئی ڈاکٹر عافیہ کے خلاف عدالت میں داخل مقدمہ اور الزامات کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔
مزید برآں ایف بی آئی اور نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہاگیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو ایک ماہ قبل افغانستان میں غزنی کے صوبے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق افغان پولیس کو عافیہ صدیقی کے قبضے سے شیشے کے مرتبانوں اور بوتلوں میں سے کچھ دستاویزات ملی تھیں جن میں بم بنانے کے طریقے درج تھے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ ہمیں امریکا سے انصاف کی کوئی توقع نہیں جہاں فضول میں الزامات عائد کر دیئے جاتے ہیں ڈاکٹر عافیہ کی زندگی کو شدید خطرہ ہے
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین اقبال حیدر نے کہا کہ عافیہ صدیقی پر امریکا اور ایف بی آئی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات سراسر جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں
کراچی پریس کلب میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے رہنما اقبال حیدر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ 5 سال قبل تحویل میں لی گئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بالا آخر امریکا نے اپنی تحویل میں موجودگی کا اعتراف کر لیا ہے اور اب ان پر بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں، امریکا ان پر پانچ سال تک الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا اور اب انہیں ایک جہنم سے دوسرے جہنم میں دھکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی جرم کی یہ سزا نہیں ہو سکتی جو گزشتہ پانچ سال میں ڈاکٹر عافیہ کو دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب امریکی حکام نے اس بات کا اقرار کر لیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کا بڑا بیٹا ان کی تحویل میں ہے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بچے کو فوری طور پر ہمارے حوالے کیا جائے، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عافیہ صدیقی کو وطن واپس لایا جائے اور ان پر الزامات کو عدالت میں ثابت کیا جائے اور ان کا ٹرائل گوانتا نامو میں نہیں ہونا چاہئے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت جرم ثابت ہونے سے پہلے کسی کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وکلاء کو عافیہ سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ 31جولائی کو ایف بی آئی والوں نے عافیہ کے زخمی اور زندہ ہونے کی خبر دی جس پر میں نے اپنی چپ توڑ دی۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین سابق وفاقی وزیر اقبال حیدر نے کہا کہ ایک بے گناہ خاتون کو 5 سال تک بغیر کسی الزام حراست میں رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے امریکا اور ایف بی آئی کی جانب سے جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔
اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ کی ترجمان نے منگل کو ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغانستان سے نیویارک منتقل کر دیا گیا اور پاکستان کے سفارتی حکام کو ان تک رسائی فراہم کی جائے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بازیابی کے کیس میں درخواست گزار بیرسٹر سید محمد جاوید اقبال جعفری کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے سابق شوہر اور چھوٹی بہن کو فریق بنانے کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی۔
کیس کی ابتدائی سماعت کے بعد درخواست گزار بیرسٹر سید محمد جاوید اقبال جعفری نے اس مقدمے میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے سابق شوہر ڈاکٹر محمد امجد خان اور چھوٹی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو فریق بنانے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ ارسال کی جس میں انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار محمد اسلم سے یہ استدعا بھی کی تھی کہ سابق وزیر مذہبی امور اعجاز الحق اور سابق وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم جاری کیا جائے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں کیا کیا جانتے ہیں۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بذریعہ ڈاک وصول ہونے والی درخواست مسترد کرتے ہوئے بیرسٹر سید اقبال جعفری کو ذاتی طور پر درخواست جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔