Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 07 Jan 2009 14:23:43   |   |   |  Text Only Version

Sun, 31 Aug 2008 18:42:00

امرناتھ یاترا بورڈ کوزمین کی واپسی،سرینگر میں کرفیو


صریر خالد، سری نگر

کشمیر میں جموں میں ہندو تنظیموں کے احتجاج کے بعد ریاستی انتظامیہ نے امرناتھ یاترا بورڈ کو الاٹ کی گئی آٹھ سو کنال زمین کی منسوخی کا فیصلہ واپس لے لیا ہے اور الاٹمنٹ بحال کردی گئی ہے۔ اس سے پہلے سرینگر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں شدید احتجاج کے بعد حکومت نے یہ الاٹمنٹ منسوخ کردی تھی۔

 سرکاری پینل کے سربراہ ڈاکٹر ایس ایس بلوریا نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی حکومت نے آٹھ سو کنال زمین امرناتھ شرائن بورڈ کے استعمال کے لیے مختص کر دی ہے جو ماضی میں امرناتھ یاترا کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی ملکیت پر کوئی فرقی نہیں پڑے گا۔

امرناتھ یاترا سنگھرش سمتی کے ترجمان ڈاکٹر سریندر سنگھ نے اس فیصلے کے اعلان کے بعد کہا کہ ان کے زمین کے بارے میں مطالبے کو حل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ سو کنال زمین ان کے سپرد کر دی گئی ہے جو کہ امرناتھ شرائن کے مقاصد کے لیے مخصوص ہو گی۔ سنگھرش سمیتی کے کنوینر لیلا کرن شرما نے کہا کہ انہیں اب اس سے زیادہ مِل گیا جو پہلی بار زمین کی شرائن بورڈ کو منتقلی کے وقت دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ زمین کا تنازعہ دو ماہ سے زیادہ عرصہ قبل اس وقت شروع ہوا تھا جب کشمیر کے جنوب میں پہاڑی سلسلے پر واقع ہندووٴں کے بھگوان شِو سے منسوب ایک غار’امرناتھ گپھا‘ کی سالانہ یاترا سے قبل ریاستی گورنر کی سربراہی میں کام کرنے والے امرناتھ شرائن بورڑ کی درخواست پر ریاستی کابینہ نے بال ٹل کے قریب آٹھ سو کنال اراضی بورڑ کو منتقل کردی۔

اس فیصلے کے خلاف وادی کشمیر کے مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور کہا گیا کہ1999 کے اوائل کے بعد پہلی بار کشمیری پہلی بار اتنے متحرک نظر آئے۔ زمین کی منتقلی کے فیصلہ کو بعد ازاں واپس لے لیا گیا تھا جس پر جموں میں ہندو نے احتجاج کیا تھا۔

لگاتار 61دنوں تک بندھ اور پرتشدد مظاہروں کے بعد جموں کے لوگ اگرچہ آج راحت کی سانس لینے اور ریاستی حکومت کے ساتھ امرناتھ شرائن بورڈ اراضی تنازعے پر معاہدہ طے ہونے کی خوشیاں بانٹ لینے کی تیاری کررہے تھے تاہم انتظامیہ نے پورے جموں شہر اور مضافاتی اضلاع میں کرفیو نافذ کرکے جموں والوں کی خوشیوں کا مزہ کرکراکردیا۔ ادھر کئی مقامات پر کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے ۔انتظامیہ نے جموں کرفیو کے نفاذ کی وجہ شہرمیں مشتبہ جنگجوئوں کی موجودگی بتایا۔ دوسری جانب اندرونی علاقوں اور گلی کوچوں میں نوجوانوں کی ٹولیوں، عورتوں اور بچوںکو پٹاخے سر کرتے اور مٹھائیاں بانٹتے ہوئے دیکھا گیا۔

القمرآن لائن کے نمائندے سہیل پنجابی نے اطلاع دی ہے کہ آج پرانی منڈی، جیول چوک اور ریذی ڈنسی روڑ پر پولیس کو اس وقت لاٹھی چارج کرنا پڑا اورآنسو گیس کے گولے داغنے پڑے جب سینکڑوں افراد پر مشتمل جلوس نے کرفیو کی خلاف ورزی کرکے مولانا آزاد اسٹیڈیم کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع نے بتایاکہ کل رات امرناتھ سنگھرش سمتی کے نمائندوں اور ریاستی گورنر کی جانب سے تشکیل دی گئی ایس ایس بلوریہ کی سربراہی والی کمیٹی کے مابین امرناتھ شرائن بورڈ اراضی تنازعے پر معاہدہ طے ہونے کے بعد سمتی نے آج عام لوگوں کو جموں کے مولانا آزادسٹیڈیم میں جمع ہونے کے لئے بلایا تھا جہاں سمتی کو معاہدے کی تفصیلات عوام کے گوش گذار کرنے کے علاوہ آئندہ کی حکمت عملی مشتہر کرنا مقصود تھا۔

معلوم ہوا ہے کہ آج کی ریلی میں ریاست کے باہر سے چند نامی گرامی سادھو اور سوامی شرکت کرنے والے تھے۔ اس ریلی کے لئے پہلے پریڈ گرائونڈ کا مقام طے کیا گیا تھا تاہم بعد میں ریلی کا اہتمام مولاناآزاد اسٹیڈیم میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔تاہم انتظامیہ کی جانب سے جموں شہر اور مضافاتی اضلاع میں کرفیو نافذ کئے جانے کی وجہ سے سمتی کی طرف سے بلائی گئی ریلی کا اہتمام نہ ہوسکا۔ڈپٹی کمشنر جموں مندیپ بھنڈاری نے کرفیو کے نفاذ کی جوازیت دیتے ہوئے بتایاکہ انٹلی جنس ایجنسیوں کو جموں شہر میں چند مشتبہ جنگجوئوں کی موجودگی کی خبر ملی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایاکہ آج کی ریلی میں 3سے 4لاکھ لوگوں کی شرکت متوقع تھی اور ایسے میں جنگجوئوں کی موجودگی سے ریلی میں شامل لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق تھا۔ انہوں نے بتایاکہ جنگجو اپنی کاروائیوں کے لئے اس طرح کے مجمعے کو آسانی سے نشانہ بناسکتے تھے اس لئے انتظامیہ کو کرفیو نافذ کرنا پڑا۔

 ڈپٹی کمشنر کے مطابق سمتی کے سربراہ لیلا کرن شامر کو ریلی موخر کرنے کے لئے کہا گیا تھا لیکن وہ اس پر بضد رہے۔ ایس ایس پی جموں منوہر سنگھ نے بتایاکہ انہیں خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ جموں کے مضافاتی علاقے راجپور دومانہ میں سنگ تالاب کے مقام پر ایک گھر میں 2جنگجو گھس گئے ہیں جن کے متعلق خدشہ ہے کہ وہ سمتی کی جانب سے آج نکالی جانے والی ریلی کے دوران اپنی کاروئیاں انجام دیں گے جس سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے نقصان کا خدشہ لاحق ہوا تھا۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ علاقے میں جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکانے کے لئے فوج اور پولیس مشترکہ طور پر کاروائی میں مصروف ہے۔ مسٹر منوہر سنگھ نے بتایاکہ جنگویانہ کاروائیوں کے خدشے کے پیش نظر امرناتھ سنگھرش سمتی کو وکٹری ریلی کا اہتمام کرنے سے روکا گیا۔

جیسا کہ پہلے ہی خبروں میں آچکا ہے کہ امرناتھ سنگھرش سمتی اور ریاستی سرکار کے نمائندوں کے مابین گذشتہ شب ایک معاہدہ طے ہوا جس کی رو سے بال تل اور دمیل میں 800کنال راضی امرناتھ یاترا کے دوران شرائن بورڈ کے مصرف میں رکھے جائیں گے تاہم اس اراضی کے مالکانہ حقوق ریاستی سرکار کے محکمہ جنگلات کے پاس ہی رہیں گے اور شرائن بورڈ کو اراضی استعمال کرنے کے عوض سرکار کو معاوضے کی رقم بھی ادا نہیں کرنا ہوگی۔ معاہدے کے مطابق شرائن بورڈ کی ازسرِ نو تشکیل ہوگی جس میں شرائن بورڈ ایکٹ کا خاص خیال رکھا جائے گا۔ معاہدے کی رو سے گذشتہ 61دنوں کے دوران، ہڑتالوں، بندھ اور کرفیو کی وجہ سے جموں اور کشمیرمیں ہوئے نقصان کا جائزہ لینے کے لئے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائیگا اور امداد کے لئے لازمی رقومات کی فراہمی کے لئے مرکزی حکومت سے درخواست کی جائے گی۔

معاہدے میں یہ بھی طے پا یا ہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ یاترا کے تمام انتظامات کا پہلے کی طرح ذمہ دار رہے گا اور ریاستی گورنر شرائن بورڈ کے بدستور سربراہ رہیں گے۔ بورڈ کے ذمے یاتریوں کوہرممکن سہولیات بہم پہنچانے کا کام بھی ہوگا۔ امرناتھ سنگھرش سمتی اور ریاستی سرکار کے مابین طے پائے معاہدے پر اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے لئے سمتی نے آج ایک بڑے جشن کا اہتمام کیا تھا جو انتظامیہ کی جانب سے کرفیو کے نفاذ کے بعدملتوی ہوگیا۔ ادھر جموں شہر کے اندرونی علاقوںاور گلی کوچوں میں لوگ دن بھر پٹاخے سرکرتے رہے اور مٹھائیاں بانٹتے رہے۔ عورتوں ، بچوں اور نوجوانوں کی ٹولیوں کو ڈھول بجاتے اور رقص کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ادھر سنگھرش سمتی کے ممبروںنے آج شام گیتا بھون میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں سمتی کے سربراہ لیلا کرن شرما نے سرکار کے ساتھ ہوئے معاہدے کی تفاصیل دیدیں۔

پرتشدد مظاہروں کے بعد شہر خاص کے بیشتر علاقوں اور بارہمولہ، سوپور اور کپوارہ میں دوبارہ کرفیو نافذ کردیا گیا۔ راجوری کدل میں فورسز کی فائرنگ سے ایک نوجوان زخمی ہوا۔ جبکہ نواب بازار اور زالڈگر میں مشتعل فورسز اہلکاروں نے بزرگوں اور بچوں سمیت کئی لوگوں کو زد وکوب کرنے کے علاوہ رہائشی مکانوں کے شیشے توڑ دئیے۔ دن کے 10بجے اچانک کرفیو نافذ کئے جانے کے سبب ایک محلہ کے لوگ شام دیر گئے تک دوسرے محلوں میں محصور ہو کر ر ہ گئے ۔ جن علاقوں میں کرفیو میں ڈھیل دی گئی وہاں زندگی مفلوج رہی، دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ ٹرانسپورٹ سروس بھی متاثر رہی۔ حسب معمول اتوار کو بھی وادی میں لوگوں کو اشیاء ضروریہ کے حصول کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

القمرآن لائن کے سٹی رپورٹرجاسم رسول کے مطابق ریاستی انتظامیہ کی غیر معمولی میٹنگ کے بعد اتوار کو بعد دوپہر وادی کے بیشتر علاقوں سے مکمل طور پر کرفیو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں اتوار کو صبح کے 9بجے سے دن کے 12بجے تک کرفیو میں ڈھیل دئیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ جسے بعد میں شب کے 8بجے تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ کرفیو میں ڈھیل دیتے ہی نواب بازار میں نوجوانوں نے ایک جلوس نکال کر نواکدل کی طرف بڑھنے کی کوشش کی ۔ جلوس میں شامل لوگ آزادی اور اسلام کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔ اس دوران فورسز کی مزید کمک طلب کرلی گئی ۔ انہوںنے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور ٹیر گیس کے گولے داغے ، اس کے باوجود نوجوانوںنے فورسز کے خلاف پتھرائو کیا۔ادھر زالڈگر میں بھی مشتعل نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائو کیا۔ حبہ کدل، ٹنکی پورہ، زیندار محلہ ، کنہ کدل ، ملارٹہ، کائو ڈارہ اور زینہ کدل میں بھی نوجوانوں نے احتجاجی جلوس نکال کر فورسز پر سنگ باری کی۔فورسز نے حسب دستور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اشک آور گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ راجوری کدل میں بھی کرفیو میں ڈھیل دئیے جانے کے ساتھ ہی ایک جلوس نکالا گیا جس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ لاٹھی چارج اور آنسولانے والی گیس کے استعمال کے بعد جب مظاہرین نے منتشر ہونے سے انکار کردیا اور فورسز پر سنگ باری کی تو فورسز نے ربر کی گولیاں چلائیں، جس سے ارشاد احمدکینو نامی ایک نوجوان زخمی ہوا۔

ادھر کسی بھی امکانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ریاستی انتظامیہ نے سرینگر شہر کی مکمل ناکہ بندی کردی   جبکہ گھنٹہ گھر کو فی الحال عام لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند ھ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا  ۔

 ریاستی انتظامیہ نے کسی بھی امکانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سرینگر شہر کی مکمل ناکہ بندی کردی ہے شہر کے حساس مقامات پر خار دار تار نصب کئے گئے ہیں۔ تاکہ لوگوں کو ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی طرف جلوس کی صورت میں بڑھنے سے روکا جاسکے۔ یہ خار تار کرن نگر ، حبہ کدل، فتح کدل، بڈشاہ پل ، امیر ا کدل پل، زیروبرج ، نواکدل، زینہ کدل ، صفا کدل اور شہر کے حساس مقامات پر نصب کردئیے گئے ہیں۔ ادھر گھنٹہ گھر کی ناکہ بندی بدستور جاری ہے۔ لالچوک چلو پروگرام کے پیش نظر لوگوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے 24اگست کو گھنٹہ گھر کی ناکہ بندی کردی گئی تھی۔ اس سلسلے میں لالچوک کی طرف سے گھنٹہ گھر کی طرف جانے والی شاہراہ پر کانٹے دار تار نصب کئے جانے کے علاوہ علاقے کو ٹین کی چادر سے ڈھک دیا گیا۔

 ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انتظامیہ نے فی الحال گھنٹہ گھر کی موجوددہ صورتحال کو جوں کا توں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں راہ گیروں اور گاڑیوں کی آمدورفت پر بھی قدغن لگائی جارہی ہے۔ موجودہ صورتھال سے وہ لوگ متاثر ہوگئے ہیں۔ جن کی دکانیں اور تجارتی مراکز گھنٹہ گھر کی اطراف میں موجود ہیں۔گھٹہ گھر اور سرینگر کے موجودہ صورتحال کو دیکھ کر وادی میں فلسطینی شہر غزہ پٹی کا گمان ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فون نے بھی فلسطین میں جگہ جگہ کاٹنے دار تار بچھا کر اکثر علاقوں کی ناکہ بندی کرکے لوگوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کردی ہے۔

 ذرائع کے مطابق ارشاد احمد کی ٹانگ میں گولی پیوست ہوگئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز اور پولیس اہلکاروں نے آنسو لانے والی گیس کے سینکڑوں گولے داغے جس سے پورا علاقہ دھویں سے بھر گیا اور لوگوں کے لئے سانس لینا دشوار ہوگیا۔ پرتشدد واقعات کے بعد ریاستی انتظامیہ نے مہاراج گنج پولیس تھانہ سے ملحقہ علاقے زالڈگر ، نواب بازار ، نیوفتح کدل، پتھر مسجد، دلال محلہ، زینہ کدل، شہید گنج پولیس تھانہ سے ملحقہ علاقوں حبہ کدل، راجوری کدل، کائوڈارہ اور نوہٹہ میں دوبارہ کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی نقل وحرکت ناممکن بنا دی۔ اس دوران خواتین، بزرگوں اور بچوں کو ایک محلہ سے دوسرے محلہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے سبب سینکڑوں لوگ جن میں خواتین بھی شامل ہیں محصور ہو کر رہ گئے۔ سٹی رپورٹر جاسم رسول کے مطابق اس دوران مریضوں کو اسپتال اور ادویات کے دکانوں پر بھی جانے سے روکا گیا۔ اس دوران سرینگر شہر کے بیشتر علاقوں میں شام کے7بجے تک کرفیو کے اوقات میں ڈھیل دی گئی۔ تاہم اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ حیدر پورہ ، پیرباغ اور ہمہامہ سے ملحقہ محلہ جات میں دن کے 11بجے تک کرفیومیں راحت دی گئی۔ اسی طرح ضلع بڈگام ، گاندربل، اننت ناگ، پلوامہ، شوپیان اور کپوارہ میں کرفیو میں بازی باری ڈھیل دی گئی ۔ تاہم سوپور اور بارہمولہ قصبہ میں مسلسل 8ویں روز بھی کرفیو کے نفاذ پر سختی سے عمل کرایا گیا۔اس دوران کسی بھی شخص کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر پرتشدد مظاہروں کے بعد کپوارہ قصبہ میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔

کپوارہ، بارہمولہ اور سوپور سے  القمرآن لائن کے مطابق فوجی اور نیم فوجی دستوںنے کرفیو کے دوران نہ صرف نہتے لوگوں کی مارپیٹ کی بلکہ انہیں نتائج بھگتنے کی دھمکی بھی دی۔ بانڈی پورہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق وہاں صبح کے 8بجے سے شب کے 8بجے تک کرفیو میں ڈھیل دی گئی ۔ اس دوران بانڈی پورہ میں حالات پرامن رہے۔ ادھر مسلسل کرفیو اور دکانوں کے بند رہنے سے لوگوں کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے ۔ رقومات کی ادئیگی کے باوجود وہ اشیاء ضروریہ حاصل نہیں کرپارہے ہیں ۔ کئی دکانداروں نے بتایاکہ ان کے پاس موجود اشیاء ضروریہ کا سٹاک ختم ہوچکا ہے اور وہ مسلسل کرفیو کے سبب مطلوبہ مقامات تک نہیں پہنچ سکے۔

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Rauf Amir Pappa Baryar, Kot Addu
 

 مزید خبریں اورمضامین

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Jan 2009
SuMoTuWeThFrSa
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com