خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں لشکر اسلام نے اپنا مرکز بند کر کے گاگرینہ منتقل ہو گئی ہے پولٹیکل حکام نے لشکر اسلام کی حمایت کرنے پر سابق ایم این اے سمیت چار افراد کو لشکر اسلام کی حمایت ترک کرنے اور انتظامیہ کو سرنڈر کرنے کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں جبکہ پولٹیکل حکام نے تحریک طالبان کے مرکز کو سیل کر کے ایف ایم ریڈیو کے آلات قبضے میں لے لئے ۔
ادھر کرم ایجنسی میں تازہ جھڑپوں کے دوران 77 عسکریت پسندوں سمیت 95 افراد ہلاک اور 194 زخمی ہوگئے۔
پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ قبائلی لشکر اور طالبان کے حامی عسکریت پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب عسکریت پسندوں نے قبائلی لشکر کے زیر کنٹرول مورچوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ مخالفین ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔
لنڈی کوتل میں لشکر اسلام کے امیر منگل باغ نے تین روز قبل لنڈی کوتل میں مرکز قائم کر کے اپنے منشور پر عملدرآمد اور مسلح گشت کا سلسلہ شروع کیا جس پر پولٹیکل حکام نے انہیں علاقے سے نکل جانے کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہاکہ وہ گذشتہ آپریشن کے دوران قبائلی عمائدین کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے پابند ہیں جس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ منگل باغ دوسرے علاقوں میں مداخلت نہیں کریں گے جس پر منگل باغ نے موقف اختیار کیا کہ وہ حکومت اور حکومتی اداروں کے ساتھ ٹکراو کے بغیر اپنا مشن جاری رکھیں گے اور حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے ختم ہو گئے ہیں کیونکہ ان معاہدوں میں حکومت مخلص نہیں تاہم نوٹس کے بعد اتوار کے روز سیکورٹی فورسز نے لشکر اسلام کے خلاف آپریشن کی تیاری شروع کر کے اور اہم مقامات کی جانب پیش قدمی کی جس پر لشکر اسلام کے امیر منگل باغ اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ لنڈی کوتل بازار سے گاگرینہ منتقل ہو گئے۔
سیکورٹی فورسز نے آپریشن کی تیاری کے دوران جمرود میں لنڈی کوتل جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کر کے ناخوشگوار واقعات سے نمٹنے کے لئے پاک افغان شاہراہ بند کردی جبکہ پولٹیکل حکام نے جمرود بازار بھی اعلانات کے ذریعے بند کردیا جو لشکر اسلام کے لنڈی کوتل کے انخلاء کے بعد کھول دیا گیا ۔ پولٹیکل حکام نے لشکر اسلام کی حمایت پر سابق ایم این اے محمد ایوب آفرید ی اور اس کے بھتیجے زاہد خان، جمعیت علماء اسلام خیبر ایجنسی کے امیر مفتی اعجاز اور تحریک طالبان کے ترجمان مولانا حضرت نبی عرف طمانچے کو سرنڈر کرنے کے نوٹس جاری کردیئے ہیں ۔ تحریک طالبان کے ترجمان حضرت نبی کے فرار ہونے کے بعد پولٹیکل حکام نے تحریک طالبان کے مرکز اور مسجد قبا کو تالے لگا دیئے۔
اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ لنڈی کوتل محمد طہاب خان نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لنڈی کوتل سے عسکریت پسند تنظیم لشکر اسلام کو نکالنے میں پاک آرمی ایف سی کے اہلکاروں اور پولٹیکل انتظامیہ نے کامیاب آپریشن کر کے لنڈی کوتل میں حکومتی رٹ کو بحال کردیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی پالیسی ہے کہ علاقے میں کسی قسم کی عسکریت پسند تنظیم کو نہ چھوڑا جائے جس کے مطابق ہم نے ایکشن لیا اور لنڈی کوتل تحصیل سے لشکر اسلام کو نکلنے پر مجبور کردیا ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ کے لئے بھی ہمارا یہی لائحہ عمل ہو گا کیونکہ عسکریت پسند تنظیموں کی وجہ سے علاقے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ منگل باغ خفیہ پہاڑی راستوں سے تیراہ چلا گیا ہے۔