بلوچستان کے ضلع نصیرآبادکی تحصیل تمبومیں غیرت کے نام پرقتل کی جانے والی دوخواتین کاپوسٹ مارٹم ہوگیاہے۔
القمرآن لائن کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیاہے کہ قتل کی جانے والی لڑکیوں کو ڈنڈے مار کر قتل کیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ اسپتال ڈیرہ مراد جمالی میں بلوچستان کی پولیس سرجن ڈاکٹرشمیم مشوانی کی نگرانی میں دونوںخواتین کا پوسٹ مارٹم کیاگیا۔قتل کی جانے والی خواتین کی عمریں بیس سے بائیس سال کے درمیان تھیں۔جنہیں دوماہ قبل قتل کیاگیا۔ ڈی این اے ٹیسٹس کے لیے لاشوں کی باقیات کو سخت حفاظتی انتظامات میں کوئٹہ منتقل کردیاگیاہے۔
نصیرآباد میں زندہ دفن کی جانے والی دو لڑکیوں کی لاشیں گزشتہ دنوں قبرکشائی کے بعد نکال لی گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق ان کے جسم پر گولیوں کے نشان ہیں اور انھیں کفن کے بغیر دفنایا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نصیر آباد شبیر احمد شیخ نے بتایاتھا کہ قبریں لڑکیوں کے آبائی گاؤں بابا کوٹ سے دس کلومیٹر دور تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں، پولیس اور مجسٹریٹ کی موجودگی میں قبر کشائی کی گئی جہاں سے دو لڑکیوں کی لاشیں ملیں اور ان لاشوں پر گولیوں کے نشان تھے۔
پاکستان کے قائم مقام چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی نے کہا تھا کہ میڈیا نے بلوچستان میں خواتین کے قتل کا معاملہ ایسے اٹھایا جیسے قیامت آ گئی ہے، تحقیقات کے بغیر رپورٹنگ کی جائے نہ نعرے بازی، ہم کسی دباو میں نہیں آئیں گے۔ پیر کو بلوچستان میں خواتین کے قتل کے حوالہ سے ارکان کے نکتہ اعتراض پر بیانات پر اپنی رولنگ دینے سے قبل انہوں نے کہا کہ میڈیا نے جس تیزی سے یہ معاملہ اٹھایا اس سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے قیامت آ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اس معاملہ پر ازخود نوٹس لیا ہے، اس لئے اس پر بات کرتے ہوئے خیال رکھا جائے۔
القمر آں لائن کے مطابق انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے بغیر میڈیا کو رپورٹنگ نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی نعرے بازی کرنی چاہئے کیونکہ ہم اس طرح دبائو میں نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے۔ قائم مقام چیئرمین نے رولنگ دینے سے قبل تجویز دی کہ اس معاملہ پر تین قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین حکومت کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں شامل ہوں تاہم قائد ایوان رضا ربانی نے کہا کہ یہ قابل عمل نہیں ہو گا۔ یہ معاملہ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سپرد کر دیا جائے۔
قائم مقام چیئرمین نے بی بی یاسمین شاہ کو قرارداد پیش کرنے کے دوران اس وقت ٹوک دیا جب وہ اس ضلع کا نام غلط پڑھ رہی تھیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ جس ضلع میں یہ واقعہ پیش آیا اس کا نام نصیر آباد ہے۔ جان جمالی نے جمال لغاری کی طرف سے اس بات کی بھی تردید کی کہ عمرانی، کھوسہ قبیلے کی سب کاسٹ ہے اور کہا کہ بلوچستان میں ایسا نہیں۔
القمرآن لائن کے مطابق اسی روز سینٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقہ میں خواتین کو قتل کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کرتی ہے، اس واقعہ میں پیپلز پارٹی کا کوئی وزیر یا رہنما ملوث نہیں، ایوان میں اس واقعہ کی مذمت کیلئے پیش کی گئی متفقہ قرارداد کی حمایت کرتے ہیں۔ پیر کو ایوان میں نکتہ اعتراض پر انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز بھی ایوان میں ہم نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی تھی اور ہم آج ایک بار پھر اس واقعہ کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں پیپلز پارٹی کا کوئی رہنما یا وزیر یا اس کا رشتہ دار ملوث نہیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا ٹریک ریکارڈ موجود ہے، اس طرح کے معاملات میں جو پالیسی ان کی تھی ہماری بھی وہی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایوان میں پیش کی جانے والی متفقہ قرارداد مذمت کی حمایت کرتی ہے۔
نصیر آباد میں خواتین کو زندہ دفن کرنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ڈی پی او نصیر آبادغلام حیدر بلوچ کے مطابق گرفتار شدگان میں دو خواتین کے والد اور ایک کا کزن شامل ہے۔انہوں نے مزید بتایاکہ گرفتار ملزمان سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
تئیس اگست کوپاکستان کے ایک صحافی روف کلاسرا نے انکشاف کیا تھا کہ پسند کی شادی کی خواہش کا اظہار اور کوشش کرنے والی 3 بے گناہ لڑکیوں کو ان کی والدہ اور قریبی عزیزہ سمیت صحرائے بلوچستان میں زندہ دفن کر دیا گیا تھا ۔ تینوں لڑکیوں کی عمر 16 سال سے 18 سال کے درمیان تھی اور وہ سکول، کالج کی طالبات تھیں۔ یہ اندوہناک واقعہ پچھلے ماہ قبل بلوچستان کے عمرانی قبیلے میں پیش آیاتھا ۔
القمرآن لائن کے مطابق روف کلاسرا نے لکھا کہ لڑکیاں اپنی مرضی سے کورٹ میرج کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں تاہم راز افشا ہو جانے کے بعد قبیلے کے عمائدین نے صدیوں پرانی روایت توڑنے کے جرم میں سرکاری گاڑی میں انہیں گھروں سے اٹھایا۔ صحرائے بلوچستان میں انہیں قطار میں کھڑا کر کے گولیاں ماردیں اور بعد ازاں زخمی حالت میں انہیں زندہ درگور کر دیا۔ لڑکیوں کی والدہ اور قریبی عزیزہ ان کو بچانے کے لئے آگے بڑھیں تو ان کو بھی زخمی کرکے ساتھ ہی زندہ دفنا دیا گیا۔
حاصل کردہ معلومات کے مطابق زندہ درگور کی جانے والی خواتین میں فاطمہ زوجہ امید علی، منت بی بی زوجہ قیصر خان، فوزیہ دختر عطاء محمد اور 16 سے 18 سال کی عمر کی 2 لڑکیاں شامل ہیں۔ ان دو لڑکیوں کے نام سخت قبائلی ماحول اور کنٹرول کے باعث معلوم نہیں ہوسکے۔ یہ خواتین بابا کوٹ میں چانڈیو کے گھر میں موجود تھیں اور ضلع جعفر آباد میں عدالت میں جا کر اپنی پسند کے مردوں کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھیں کیونکہ کئی روز تک بحث کے بعد انہیں مرضی کی شادی کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
لڑکیوں کے والد نے پولیس سٹیشن میں اپنے حقیقی بھائی کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کرائی تاہم خاندانی دباؤ کی وجہ سے اس نے ایف آئی آر واپس لے لی۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس واچ نے پی پی پی کے صوبائی وزیر ہاؤسنگ میر صادق عمرانی کے چھوٹے بھائی عبدالستان عمرانی پر اس بربریت آمیز جرم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا تاہم وزیر میر صادق عمرانی نے الزام کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ قاتل لڑکیوں کا چچا سردار فتح محمد عمرانی ہے جس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی۔
اس کے بعد سینیٹ میں جمعہ کو بلوچستان میں پانچ خواتین کو زندہ درگور کرنے کے معاملے پر سینیٹر یاسمین شاہ کے نکتہٴ اعتراض پر بلوچستان کے سینیٹر اسرار اللہ زہری غصے میں آگئے تھے اور انہوں نے خاتون سینیٹر سے کہا کہ بلوچوں کی روایات کو ایوان میں زیر بحث نہ لایا جائے
اسرار اللہ زہری نے غصے میں کہا تھا کہ سیاہ کاری میں ملوث عورتوں کیساتھ ایسا سلوک ہماری قبائلی روایات کا حصہ ہے، اس لیے ایسے معاملات کو نہ چھیڑا جائے، قائم مقام چیئرمین جان جمالی نے کہا کہ اسلام آباد کے انگریزی اخبارات میں جو کچھ چھپتا ہے انہیں ہماری روایات کا علم نہیں ہے
آجپیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر مواصلات میر صادق عمرانی نے نصیرآباد میں تین خواتین کو قتل کرنے کے واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کراکر ملزمان کو سزا دی جائے ۔پیر کو بلوچستان اسمبلی میں اپنے چیمبر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا یا ان کے خاندان کے کسی فرد کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ایک خاتون کے والد عطا محمد نے واقعہ کی متعلقہ تھانے میں رپورٹ بھی درج کرائی ہے جس میں نامزد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ واقعہ نصیرآباد کے علاقے باباکوٹ میں عمرانی قبیلے کے سربراہ سردار فتح علی عمرانی کی رہائش گاہ پر پیش آیا خواتین کو اوستہ محمد میں ایک صدام ہوٹل سے پکڑ کر ضلع ناظم کی سرکاری گاڑی میں بابا کوٹ میں فتح علی عمرانی کی رہائش گاہ لے جایا گیا جہاں انہوں نے ان کے قتل کا حکم دیا اور انہیں ہلاک کرنے کے بعد بابا کوٹ میں کونگ لڑی کے مقام پر دفنایا گیا ۔
انہوںنے کہا کہ ان خواتین کے نام عزت خاتون زوجہ زاہداور مائی سیانی زوجہ امداد ہیں عزت خاتون کے والد عطا محمد نے متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی جس پر دو افراد امید علی ولد احمد خان اور غوث بخش ولدا حمد خان کو گرفتار کرلیا گیا جن کی نشاندہی پر ایک مقتولہ عزت خاتون کے خاوند زاہد کو بھی گرفتار کیا گیا ۔انہوں نے خواتین کے قتل کا اعتراف کرلیا ہے جس کے بعد قبرکشائی کرکے لاشیں پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دی گئی ہیں اور ڈاکٹر خالدہ مینگل کی قیادت میں خواتین ڈاکٹروں کی ٹیم نعشوں کا پوسٹ مارٹم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی سبی کی قیادت میں ڈی پی او نصیرآباد ، ڈی پی او بولان اورڈی پی او جعفرآبادپر مشتمل ٹیم واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی طرف سے بھی تحقیقات کیلئے ایک خصوصی ٹیم بھیجی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عطا محمد نے اپنی رپورٹ میں تین ملزم نامزد کئے ہیں جن میں رحمت اللہ ،محمد قاسم اور جبار ولد عبدالرحیم شامل ہیں ۔ان افراد نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انہوں نے قتل نہیں کئے بلکہ ایک قبائلی جھگڑے میں ماری گئی ہیںتاہم تحقیقات کے بعد اصل صورتحال سامنے آئے گی۔