پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی فورسز نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو پکڑنے کا موقع ضائع کردیا۔ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران رحمان ملک نے کہا کہ ایمن الظواہری پاکستان کے قبائلی علاقوں اور مشرقی افغانستان میں سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مہمند ایجنسی میں ایمن الظواہری کی اہلیہ کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا۔ لیکن الظواہری فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
رحمان ملک نے کہا کہ القاعدہ کو وسعت دے کر تحریک طالبان کی شکل دے دی گئی ہے۔ اور وہ ان کے اشاروں پر کام کررہی ہے۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان القاعدہ کی ایجنٹ ہے اور انہیں پناہ دے رہے ہیں۔
ادھرباجوڑ ایجنسی میں گزشتہ روز ہلاک ہونے والے چودہ افراد سپرد خاک کردیئے گئے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف مقامی قبائل کی لشکر کشی آج بھی جاری ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے علاقے عنایت قلعے میں گزشتہ روز عسکریت پسندوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران دو گھروں پر گولے گرنے سے چودہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ مرحومین کی نماز جنازہ آج ادا کی گئی۔ جس کے بعد انہیں آج مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
اسی دوران رم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں قبائلی جھڑپوں کے دوران مزید آٹھ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے۔ لوئر کرم کے علاقوں باگزئی‘ اڑاولی‘صدہ‘ بالش خیل‘ جیلامے اور چار دیوار میں قبائلی جھڑپیں رات بھر جاری رہیں جس میں مزید آٹھ افراد ہلاک اور پندرہ افراد زخمی بھی ہوئے۔
گزشتہ ماہ سے جاری جھڑپوں کے دوران اب تک پانچ سو ترپن افراد ہلاک اور آٹھ سو دس زخمی ہوچکے ہیں۔ کرم ایجنسی کی صورتحال گزشتہ ڈیڑھ سال سے کشیدہ ہے جس کی وجہ سے علاقے میں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی شدید قلت ہے اور مقامی آباد ی کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔