سوات کے علاقے گٹ میں طیاروں کی بمباری سے دس شدت پسندوں سمیت پندرہ افرادہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ۔ القمرآن لائن کے مطابق سیکورٹی فورسزکے جیٹ طیاروں نے گٹ بازار اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دس شدت پسند ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد ٹھکانے بھی تباہ ہوئے ہیں ۔
دوسری طرف چین کی زونگ ڑنگ ٹیلی کمیو نی کیشن ایکوپمنٹ کمپنی کے دو انجینئرز کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے ۔ضلع سوات کے علاقے دیر سے دو چینی انجینئروں کو اغواء کرنے کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کی ہے۔ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان نے جمعہ کو لاپتہ ہونے والے دو چینی انجینئروں کو اغواء کرنے کا دعوٰی کیا ۔ان انجینئروں کو تین دن قبل ضلع دیر کے خال کے علاقے تور منگ میں ایک موبائل کمپنی کے ٹاور کی مرمت کے بعد واپسی پر محافظ اور ڈرائیور سمیت اغواء کر لیا گیا تھا۔
القمرآن لائن کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق زونگ موبائل فون کمپنی کے دو چینی انجینئرز اور ان کے دو پاکستانی ساتھی ایک محافظ اور ڈرائیور کے ساتھ یونین کونسل خال کے علاقے میں جمعہ کو موبائل فون کے ایک ٹاور پر مرمت کا کام کرنے آئے تھے۔
سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان کے مطابق چینی انجینئروں اور ان کے ساتھیوں کے مستقبل کا فیصلہ طالبان کی مرکزی شورٰی کرے گی۔
القمرآن لائن کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق انہوں نے چینی انجینئروں کے اغواء کی وجہ بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ سال جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والی کارروائی چین کے دباوٴ کے نتیجے میں کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ کے طلباء کی جانب سے اسلام آباد سے چینی شہریوں کی اغواء کے بعد ہی لال مسجد کیخلاف کارروائی کی گئی۔
بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان یوجیانگ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین نے پاکستان سے کہاہے کہ لاپتہ چینی انجینئرز کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ترجمان کے مطابق چین کی حکومت کی نظر میں یہ معاملہ بہت اہم ہے۔
ترجمان نے اس بات پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ مقامی عسکریت پسندوں نے چینی انجینئرز کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ادھر القمرآن لائن کے مطابق کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں قبائلی جھڑپوں کے دوران مزید8 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔ لوئر کرم کے علاقوں باگزئی‘ اڑاولی‘صدہ‘ بالش خیل‘ جیلامے اور چار دیوار میں قبائلی جھڑپیں رات بھر جاری ہیں۔ جس میں مزید 8 افراد ہلاک اور 15 افراد زخمی بھی ہوئے۔ گزشتہ ماہ سے جاری جھڑپوں کے دوران اب تک 553 افراد ہلاک اور810 زخمی ہوچکے ہیں۔
کرم ایجنسی کی صورتحال گزشتہ ڈیڑھ سال سے کشیدہ ہے جس کی وجہ سے علاقے میں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی شدید قلت ہے اور مقامی آباد ی کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔