پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے سول محکموں سے فوجیوں کو واپس بلانے کے اعلان کے باوجود اب بھی 1450 سے زائد حاضر سروس فوجی افسران مختلف محکموں میں تعینات ہیں۔
پاکستانی وزیر دفاع احمد مختارنے کہا ہے کہ ’ضروری تقرریوں‘ کی پالیسی کے تحت ان فوجیوں کو واپس فوج میں نہیں بھیجا گیا۔1453 حاضر سروس فوجیوں کی سول محکموں میں تقرری کی تصدیق وزیرِ دفاع احمد مختارنے رکن قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کی ہے۔
وزیر دفاع نے تحریری طور پر قومی اسمبلی کو بھیجی گئی معلومات میں بتایا ہے کہ سویلین محکموں میں تعینات فوجی افسران میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے لے کر کیپٹن کے عہدوں کے 146 جبکہ 1307 جونیئر کمیشنڈ افسر شامل ہیں۔
القمر آن لائن کے مطابق سب سے زیادہ یعنی936 فوجی اہلکار اینٹی نارکوٹکس فورس میں تعینات ہیں جبکہ ایوان صدر میں 64، وزیراعظم سیکریٹریٹ میں 42 اور زلزلہ زدگاں سے متعلق ادارے ’ایرا‘ میں66 فوجی تعینات ہیں۔
حکومت کے مطابق بلوچستان حکومت اور وزارت خارجہ میں دو دو فوجی افسران کو ضروری تعیناتی کی بنیاد پر واپس آرمی میں نہیں بھیجا گیا۔
سابق صدر پرویز مشرف کے نو سالہ دور میں سینکڑوں سویلین عہدوں پر ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی تعینات کیے گئے۔ انہوں نے آرمی چیف کا عہدہ گزشتہ برس چھوڑ دیا تو موجودہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے حاضر سروس افسران کو واپس فوج میں بلانے کا اعلان کیا تھا۔