پاکستان میں چھ ستمبر کو صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور ایسے میں حکمران جماعت سے مسلم لیگ ن کی علیحدگی کے بعد نیب نے شریف برادران کے خلاف زیر التواء ریفرنسز ری اوپن کرنے کے لئے احتساب عدالت کو درخواست دے دی۔
نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ریفرنسز ری اوپن کرنے کی درخواست نیب کے پراسیکیوٹر جنرل ڈاکٹر دانشور ملک نے دی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت شریف برداران کے خلاف التوا میں رکھے گئے مقدمات پر نظر ثانی کرے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ شریف برادران اب ملک میں موجود ہیں لہٰذا ان کے خلاف باقاعدہ کارروائی شروع کی جائے۔ نیب کی درخواست پر سماعت چار ستمبر کو کی جائے گی۔
اسی دوران وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نیب کی کوئی حیثیت نہیں اور نواز شریف یا شہباز کے خلاف کوئی کیس ری اوپن نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی یا صوبائی حکومت کو غیر مستحکم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے مسلم لیگ ن کی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ معزول ججز کی بحالی کے بعد نواز لیگ کو دوبارہ اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔