پاکستان کےوزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بلوچستان اور فاٹا کی صورتحال پر آرمی چیف پارلیمنٹ کو بریفنگ دیں گے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ افتخار چوہدری سمیت تمام ججز کو بحال کیا جائے گا تاہم اس کے لئے آئینی تقاضوں کو سامنے رکھا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ اداروں کے درمیان تصادم نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو امن و امان اور معیشت کے استحکام کے مسائل کا سامنا ہے۔ وہ امریکہ کی بجائے عوام کے پابند ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کرم ایجنسی کے فرقہ وارانہ فسادات میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سترہویں ترمیم اور اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزیا صوبائی حکومت کو غیر مستحکم نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نیب کی کوئی حیثیت نہیں اور شریف برادران کے خلاف کوئی کیس ری اوپن نہیں کیا جا رہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے مسلم لیگ ن کی خدمات فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ان کا کہنا تھا کہ ججز کی بحالی کے بعد ن لیگ کو دوبارہ اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سترہویں ترمیم اور اٹھاون ٹو بی نہ پہلے قبول تھی نہ اب کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں توازن پیدا کیا جائے گا۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر بن کر چاروں صوبوں میں ہم آہنگی پیدا کریں گے۔