گذشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں سینکڑوں شہری لاپتہ ہوچکے ہیں تاہم چند افراد ایسے بھی ہیں جو بازیاب بھی ہوئے لیکن ان کی تعداد خاصی کم ہے۔بازیاب ہونے والے یہ افراد ہفتہ وار بنیاد پر اپنے علاقے کے تھانے میں رپورٹ کرتے ہیں اور قانون کے مطابق ایسے افراد کا شماردرجہ چہارم کے ملزمان میں ہوتا ہے۔لیکن گذشتہ چند دنوں سے ایسے افراد سے حکومت نے ضمانت کے لئے ایک کروڑ روپے طلب کئے ہیں جس کی ادائیگی ان افراد کے لئے ناممکن کی حد تک مشکل ہے۔
حکومت کے ان اقدامات سے متاثر ہونے والے کراچی کے دو شہریوں عفان لغاری اور رفیع صدیقی نے اس پالیسی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔جس پر سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے اس بارے میں تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں۔
متاثرہ شہریوں میں سے ایک عفان لغاری کمپیوٹر انجینئر ہیں۔جنہیںدو ہزار چار میں گلشن اقبال میں واقع اس کے فلیٹس سے حساس اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔جس کے بعد ان کے والد ڈاکٹر عبدالمجید لغاری کی کوششوں سے ڈھائی سال کے بعد کوئٹہ جیل سے بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر بازیاب کرایا گیا۔اس دوران عفان لغاری کو بھارتی ایجنٹ اورشناختی دستاویزات سے محروم ایسا شخص قرار دیا گیاجو کہ سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے ان مضحکہ خیز الزامات کو رد کرتے ہوئے عفان لغاری کی رہائی کا حکم دیا۔جس کے بعد سے عفان لغاری اپنے گھر میں رہائش پذیر ہیں اورعلاقے کے تھانے میں پولیس کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ عفان لغاری کی سماجی زندگی مکمل طور پرختم ہوچکی ہے اور اب گذشتہ دنوں ایس ایچ او سچل نے سرکاری مراسلہ دکھاتے ہوئے عفان لغاری کے اہل خانہ سے ایک کروڑ روپے کی ضمانت طلب کی۔عفان لغاری نے پولیس کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے خلاف اگر کوئی مقدمہ یا ایف آئی آر ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔
کراچی کے ایک اور شہری رفیع صدیقی ایسی ہی مشکلات سے دوچار ہیں جنہوں نے کورکمانڈر حملہ کیس میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت سے بری ہونے والے ڈاکٹر اکمل وحید کی دس ہزار روپے کی ذاتی ضمانت دی تھی۔
ڈاکٹر اکمل وحید ان دنوں دبئی میں مقیم ہیں اور پولیس نے رفیع صدیقی سے کہا ہے کہ یا تو ڈاکٹر اکمل وحید کو پیش کیا جائے یاپھر ایک کروڑ روپے کی ضمانت جمع کرائی جائے۔پولیس کے ان اقدامات کی وجہ سے ایسے تمام افراد میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ناانصافی پر مبنی اس فیصلے کو فوراً واپس لیا جائے۔