Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Sat, 04 Jul 2009 02:58:39  |   |   |  Text Only Version


Thu, 04 Sep 2008 23:13:00

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی عدالت میں پیش نہیں ہوئیں


القمر لندن بیورو

ڈاکٹر عافیہ صدیقی  امریکی عدالت میں پیش نہیں ہوئیں جس پرسماعت بائیس ستمبر تک ملتوی کردی گئی ۔

آج جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو انکے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ ہو عدالت میں پیش ہو سکیں ۔انکی ذہنی کیفیت بھی درست نہیں ہے جس کی وجہ سے انہوں نے احتجاجا عدالت میں پیش ہو نے سے انکار کر دیا ہے ۔

عدالت کو یہ بھی بتایاگیاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے بچوں کی گمشدکی کی وجہ سے بھی ذ ہنی طور پر اذیت کا شکار ہیں ۔عدالت سے کہا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو نفساتی معالج کی بھی ضرورت ہے ۔

عدالت نے اس درخواست پر غور کرنے کے بعد سماعت ملتوی کردی

 معروف امریکی اخبار ''نیویارک ٹائمز'' کو اپنے انٹرویو میں ایلزبتھ فنک نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو دوران حراست ناکافی طبی سہولتوں کی فراہمی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو علاج معالجہ، بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور انسانوں جیسے سلوک کی ضرورت ہے لیکن امریکی حکام ایسا بالکل نہیں کر رہے۔ ایلزبتھ فنک نے قبل ازیں اس بات پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا تھا کہ امریکی حکام ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو عدالت کی ہدایت کے مطابق علاج معالجہ کی سہولت فراہم نہیں کر رہے حالانکہ وہ شدید زخمی ہیں اور ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اس سے قبل کل امریکی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر القاعدہ کے رکن کی حیثیت سے دہشت گردی اور امریکی فوجیوں پر حملے کی باقاعدہ فرد جرم عائد کردی۔

امریکی عدالت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ پر بیرون ملک امریکیوں کو قتل کی کوشش ،امریکی افسران اور ملازمین کے قتل ،امریکی افسران اور ملازمین پر مسلح حملے ،دہشت گردی اور بندوق رکھنے کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔

جبکہ ان پر القاعدہ سے تعلق کا الزام عائد نہیں کیاگیا۔ عافیہ صدیقی کی   وکیل ایلین شارپ  کے مطابق  امریکی حکومت نے ڈاکٹرعافیہ کیخلاف دہشتگرد تنظیم سے تعلق ہونے کا الزام نہیں لگایا ہے جوحیران کن بات ہے-

القمرآن لائن کی اطلاعات کے مطابق اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر الزامات ثابت ہوگئے تو انھیں ہر قتل پر کم از کم بیس سا ل قید،مسلح حملے اوربندوق رکھنے کے الزام میں عمر قید اور دیگرالزامات میں آٹھ سال تک قید کی سزاہوسکتی ہے ۔

ادھر کراچی میں القمرآن لائن کے نمائندے ممتاز حیدر کے مطابق  ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بچوں کو پاکستانی شہری تسلیم کرنے اور افغان حکومت سے لے کر پاکستان میں اہلخانہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

 ایک ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی فیملی نے امریکی عدالت میں بچوں کی تحویل سے متعلق مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور ان کی وکیل نے انہیں بتایا ہے کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے عدالت کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان ڈاکٹر عافیہ کے بچوں کو پاکستانی تسلیم نہیں کرتی اور وہ انہیں افغان حکومت سے لے کر ہمارے خاندان کے حوالے نہیں کرنا چاہتی ہے۔

 ڈاکٹر فوزیہ کے مطابق سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے امریکا میں ان کے بھائی محمد علی صدیقی کو ایک خط بھی لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکی عدالت میں بچوں کی تحویل سے متعلق مقدمے میں دو ہفتے سے زائد عرصے سے پیش نہیں ہوئے ہیں اس لئے اب ڈاکٹر عافیہ کے بچوں کو ان کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور وہ امریکا میں ہی رہیںگے ڈاکٹر فوزیہ کے مطابق امریکی عدالت میں بچوں کی تحویل سے متعلق مقدمے میں سرگرمی نہ دکھانے کی وجہ پاکستانی حکومت کی ان یقین دہانیوں کو تسلیم کر لینا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ کے بچوں کی ملک واپسی کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔

وکیل استغاثہ مائیکل گارسیا کے مطابق 18 جولائی کو افغانستان کے صوبے غزنی میں تین امریکی فوجی افسروں، ایف بی آئی کے دو اہلکاروں اور ان کے دو مترجموں پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم ڈاکٹر صدیقی سے پوچھ گچھ کے لیے پہنچی تو ڈاکٹر صدیقی نے پردے کے پیچھے سے اٹھا کر ان پر گولی چلانی چاہی اوراس دوران ایک امریکی فوجی نے اپنی پستول سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر گولی چلائی جو ان کے پیٹ میں لگی۔

امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس واقعے سے ایک روز پہلے جب انہیں حراست میں لیا گیا تھا تو ان کے پاس سے کئی مشکوک اشیا برآمد ہوئی تھیں، مثلًا ہاتھ سے لکھے نوٹس جن میں ایک بڑے حملے کا ذکر تھا اور اس کے لیے امریکہ میں کئی مقامات کے نام تھے، مثلًا نیو یارک کی مشہور ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ، مجسمہٴ آزادی، وال سٹریٹ اور بروکلین برج وغیرہ۔

امریکی حکام کے مطابق ڈاکٹر صدیقی کے پاس سے ڈرٹی بم بنانے اور دشمنوں پر مختلف طریقوں سے حملے کرنے سے متعلق کاغذات برآمد ہوئے۔

القمرآن لائن کی اطلاعات کے مطابق 36 سالہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی 1991ءسے 2002 ءتک امریکہ میں رہیں اور انہوں نے برینڈائس یونیورسٹی اور ایم آئی ٹی سے ڈگریاں حاصل کیں۔

2003 ءمیں وہ کراچی میں اپنے تین بچوں سمیت غائب ہو گئی تھیں۔ 2004ءمیں امریکہ نے ان کا نام القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے پانچ سال سے امریکہ کی حراست میں ہیں اور ان پر تشدد بھی کیا گیا ہے جبکہ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صدیقی کو 17 جولائی کو افغانستان کے صوبے غزنی میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب مقامی حکام صوبے کے گورنر ہاؤس کے باہر ان کی نقل و حرکت پر شک میں مبتلا ہو گئے تھے۔

القمرآن لائن کی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وکیل اِلین وٹفیلڈ شارپ کا خیال ہے کہ ڈاکٹر صدیقی اپنے غائب ہونے کے بعد سے امریکی حراست میں تھیں اور انہیں زیادہ وقت افغانستان میں بگرام ہوائی اڈے پر رکھا گیا تھا۔

اس سے پہلے پانچ اگست منگل کوگزشتہ پانچ برسوں سے لاپتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو نیویارک کی عدالت یونائٹیڈ سٹیٹس کورٹ سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیاگیا۔ یہ عافیہ صدیقی کی کسی امریکی عدالت میں پہلی پیشی تھی۔

القمرآن لائن کی اطلاعات کے مطابق عافیہ صدیقی کی پیدائش کراچی میں ہوئی، اعلی تعلیم انہوں نے امریکہ کے عالمی شہرت یافتہ میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے حاصل کی، اور تیس مارچ دو ہزار تین کو وہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں۔

اگلے دن پاکستانی اخبارات میں خبر چھپی کے القاعدہ سے روابط کے الزام میں ایک عورت کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق پاکستان کی وزارت داخلہ نے کی، اور پھر وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے حوالے سے خبر چھپی کے عافیہ صدیقی کو امریکیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

بعد میں حکومت پاکستان اور امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے صاف انکار کیا کہ عافیہ کے گم شدگی سے ان کا کوئی تعلق تھا۔

تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں اور ان کے والد نے برطانیہ میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے ایک بھائی امریکہ میں آرکیٹیکٹ ہیں اور بڑی بہن فوزیہ دماغی امراض(نیورولوجی) کی ماہر ہیں اور پہلے نیو یارک میں کام کرتی تھیں۔

عافیہ نےابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور ایم آئی ٹی سے حیاتیات میں ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران انہوں نے اسلامی تنظیموں کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔

ڈگری مکمل کرنے کے بعد عافیہ نے نوجوان پاکستانی ڈاکٹر محمد امجد خان سے شادی کر لی۔ بعد میں انہوں نے نیورولوجی میں ریسرچ شروع کی۔

عافیہ کی والدہ کے مطابق شادی کے بعد امجد سے ان کا جھگڑا اس بات پر تھا کہ بچوں کی پرورش امریکہ میں ہو یا پاکستان میں۔ عافیہ بچوں کو امریکہ میں ہی رکھنے کے حق میں تھیں۔

لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ ایف بی آئی نے امجد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا کیونکہ انہوں نے رات میں دیکھنے والی دور بین، زر بکتر اور عسکری موضوعات پر کتابیں خریدی تھیں۔

عافیہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی لیکن بعد میں دونوں کو چھوڑ دیا گیا۔ امجد کا موقف تھا کہ یہ سامان انہوں نے شکار کھیلنے کے لیے خریدا تھا۔

اس کے کچھ دن بعد وہ پاکستان لوٹ گئے کیونکہ ان کے خیال میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ میں پاکستانیوں کے خلاف امتیاڑ بڑھ رہا تھا۔

سن دو ہزار دو میں انکی طلاق ہوگئی، اس وقت عافیہ کے یہاں تیسرے بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔

وہ کن حالات میں غائب ہوئیں، اس بارے میں کئی طرح کی کہانیں ہیں۔

القمرآن لائن کی اطلاعات کے مطابق پہلے امریکی جریدے نیوز ویک میں خبر چھپی کہ وہ القاعدہ کے ’سلیپر سیل‘ کا حصہ تھیں۔ پھر امجد خان پر الزام لگا کہ انہوں نے امریکہ میں پیٹرول سٹیشنوں کو دھماکے سے اڑانے کامنصوبہ بنایا تھا۔

سن دو ہزار چار میں ایف بی آئی نے کہا کہ پوچھ گچھ کے لیے عافیہ اسے مطلوب ہیں۔ بعد میں کہا گیا کہ القاعدہ کے ایسے گروہ میں شامل تھیں جو لائبیریا سے ہیروں کی سمگلنگ کرتا تھا۔

نیوز ویک جیسے جریدوں کے مطابق سمگلنگ کا مقصد القاعدہ کے کیمیاوی اور حیاتیاتی اسلحے کے پروگرام کے لیے فنڈز اکھٹا کرنا تھا۔

اس دوران یہ دعوے کیے جاتے رہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی قید میں ہیں۔

القمرآن لائن کی اطلاعات کے مطابق اس سب کے بعد اب اچانک امریکہ نے اعلان کیا کہ انہیں افغانستان سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اب وہ امریکہ میں ہیں اور انہیں افغانستان میں حراست کےدوران امریکی فوجیوں کو قتل کرنےکی کوشش کے الزام کا سامنا ہے۔

ایف بی آئی ان کے خلاف پہلے سے عائد کردہ کوئی بھی الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ماہرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر عافیہ دہشت گردی کے الزام میں قید میں ہیں تو ان کے شوہر کیسے آزاد ہیں؟

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Rauf Amir Pappa Baryar, Kot Addu
 

 مزید خبریں اورمضامین

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Jul 2009
SuMoTuWeThFrSa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30 31  

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 34 555 3 99 66

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com