پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی اور اتحادی افواج کی فائرنگ سے 20 لوگوں کی ہلاکت کی اطلاعات ملی ہیں۔
القمرآن لائن کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صبح تقریباً تین بجے تین ہیلی کاپیٹروں میں امریکی اور اتحادی فوج کے دستے موسی نیکہ کے علاقے میں اترے جو افغانستان کی سرحد پر انگور اڈہ کے قریب واقع ہے۔
امریکی اور اتحادی فوجی پاؤجان نامی ایک شخص کے گھر میں داخل ہوگئے اور ارد گرد کے علاقے کو بھی اپنے گھیرے میں لے لیا۔پاؤجان احمدزئی وزیر کے مکان میں آپریشن کے دوران 20 مقامی لوگ ہلاک ہوگئے جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ پاؤجان کے گھر کے ملبہ سے دس لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں تین خواتین دو بچے اور پانچ مرد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاؤجان کا مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ پاؤجان کے گھر سے پاکستان فوج کا ایک ٹھکانہ صرف تین سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے
پاکستانی وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے جنوبی وزیرستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے حملے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کو پاکستان میں حملے کی اجازت نہیں ہے
انہوں نے کہا کہ حکومت نے نیٹو افواج کو پاکستان کی سرزمین کے اندر کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دی
ادھر سوات میں تحریک طالبان نے جاسوسی کے الزام میں ایک بھائی کا سرقلم کردیا جبکہ دوسرے بھائی کے ناخن نکالنے سمیت اس پر شدید تشدد کیا گیا۔
القمرآں لائن کی اطلاعات کے مطابق ضلع سوات کی تحصیل مٹہ کے بالائی علاقہ پیوچار میں چند روز پہلے طالبان نے جاسوسی کے الزام میں دو بھائیوں حسین علی اور نوابزادہ کو اٹھا کر اپنی نجی جیل میں بند کردیا تھا۔
القمرآں لائن کی اطلاعات کے مطابق حسین علی کا سر قلم کر دیا گیا جبکہ اس کے بھائی نوابزادہ کے ھاتھ اور پاؤں کے ناخن نکالنے سمیت اس پر شدید تشدد کیا گیا۔
طالبان نے ایک طویل عرصے سے یہ روش اختیار کر رکھی ہے کہ جس شخص کو بھی اپنی مخالفت کرتا ہوا پاتے ہیں امریکیوں کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں اس کا سر قلم کردیا جاتا ہے
القمرآں لائن کے مطابق ادھرباجوڑایجنسی میں مکان پر مارٹر گولا گرنے سے جاں بحق ہونیوالے12افراد کی نماز جنازہ اداکردی گئی ہے ۔ دوسری طرف شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر لشکر کشی کے لیے قبائلیوں کی بڑی تعداد تحصیل سلارزئی پہنچ رہی ہے ۔ سالارزئی قبائل نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر لشکرکشی کی تیاری شروع کر دی ہے
القمرآں لائن کی اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر لشکر کشی کے لیے قبائلیوں کی بڑی تعداد تحصیل سلارزئی پہنچ رہی ہے