سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر عدلیہ کی آزادی اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججوں کی بحالی کیلئے وکلاء نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا ۔ جس کی قیادت سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن ، سردار عصمت اللہ اور ہارون رشید کر رہےتھے۔
مظاہرے میں سول سوسائٹی کے ارکان ، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکن بھی شامل ہیں ۔ دوسری جانب ملتان ہائیکورٹ بار کے وکلاء کا نے پولیس کا حصار توڑ کر سپریم کورٹمیں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس نے وکلاء کو روکنے کیلئے ان پر لا ٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں ملتان ہائیکورٹ بار کے صدر خالد خان زخمی ہوگئے۔ مشتعل وکلاء عدلیہ کی آزادی اور معزول ججز کی بحالی کیلئے نعرے لگاتے رہے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بیرسٹر اعتزاز احسن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ وعدے پورے نہیں کر رہی، اس لیے دھرنے کا فیصلہ کیا۔ آزاد عدلیہ کے بغیر جمہوریت کا قیام ممکن ۔ معزول چیف جسٹس کے بغیر عدلیہ کی بحالی درست اقدام نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اکرام چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت صرف شخصی احکامات پر عمل درآمد کر رہی ہے اور بینظیر کے وعدے کو بھول گئی ہے جنہوں نے افتخار محمد کے گھر پر جھنڈا لہرانے کا وعدہ کیا تھا۔ تین گھنٹے کے دھرنے کے بعد وکلاء منتشر ہوگئے۔