قومی احتساب بیورو نے سینٹرل جج سپیشل شوکت علی ساجد کی عدالت میں موقف اپنایا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف اور شریف فیملی کے دیگر 7 افراد کے خلاف اربوں روپے مالیتی 3 الگ الگ کرپشن ریفرنسز اگست 2007ء میں ری اوپن ہوئے تھے، پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کوئی نئی درخواست دائر نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ سیاسی انتقام ہے، سابقہ دور حکومت میں دوبارہ اوپن کئے گئے ریفرنسز کو چلا رہے ہیں۔ فاضل جج نے سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور شریف فیملی کے دیگر افراد اور تجارتی شراکت داروں کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، منی لانڈرنگ، حدیبیہ پیپر مل، اتفاق فائونڈریز، رائیونڈ اراضی ( ناجائز اثاثہ جات) پر مشتمل اربوں روپے مالیتی 3 الگ الگ کرپشن ریفرنسز اگست 2007ء میں ری اوپن کرائے جبکہ احتساب عدالت نمبر 4 کے جج خالد محمود نے اپنی ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل نیب کی عدم دلچسپی پر غیر معینہ مدت کیلئے ان ریفرنسز کی سماعت کو دوبارہ ملتوی کر دیا۔
قومی احتساب بیورو نے نظرثانی سے متعلق درخواست سپیشل جج سینٹرل شوکت علی ساجد کی عدالت میں دائر کی کیونکہ راولپنڈی کی چاروں احتساب عدالتوں میں ججز نہیں ہیں۔ بدھ کو سپیشل جج سنٹرل شوکت علی ساجد نے قومی احتساب بیورو کی نظرثانی کی اس درخواست کی باقاعدہ سماعت شروع کی قومی احتساب بیورو کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل دانشور ملک پیش ہوئے اور عدالت میں موقف اپنایا کہ قومی احتساب بیورو نے شریف برادران کے خلاف کرپشن ریفرنسز دوبارہ اوپن کرنے کیلئے کوئی نئی درخواست نہیں دی بلکہ اگست 2007 میں سابقہ حکومت نے جو مقدمات باقاعدہ ری اوپن کرائے تھے اسی کو چلا رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد ہم نے کوئی نئی درخواست نہیں دی۔ عدالت سے التماس ہے کہ وہ ان کرپشن ریفزنسز میں تمام قانونی تقاضے پورے کرے۔ فاضل جج نے نیب کے موقف کے بعد سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔