صدر مملکت کے عہدہ کے لئے 6 ستمبر کو منعقد ہونے والے انتخاب کے سلسلہ میں میدان سج گیا ہے۔ جبکہ تمام انتخابی تیاریاں بھی مکمل کرلی گئی ہیں۔ مذکورہ صدارتی انتخاب میں پی پی پی و حکمران اتحاد کے امیدوار آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے امیدوار جسٹس (ر) سعیدالزماں صدیقی اور پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار مشاہد حسین سید کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔
القمرآن لائن کے مطابق صدر مملکت کے عہدہ کیلئے انتخاب کی غرض سے پولنگ پارلیمنٹ ہائوس سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک ہو گی۔ جس کیلئے الیکٹورل کالج میں شامل تمام سینیٹرز' ممبران قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان صدر مملکت کے چنائو کیلئے ووٹ ڈالیں گے۔
القمرآن لائن کے نمائندے سرفراز عباسی نے بتایا ہے کہ بیلٹ پیپرز کے ذریعے خفیہ رائے شماری کے تحت ہونیوالی پولنگ کیلئے پارلیمنٹ سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں کی عمارتوں کو پولنگ سٹیشنوں کا درجہ دیدیا گیا ہے۔اس سلسلہ میں ملک بھر میں 5 پولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔ مذکورہ پولنگ سٹیشنز پارلیمینٹ ہائوس اسلام آباد، صوبائی اسمبلی بلڈنگ پنجاب لاہور، صوبائی اسمبلی بلڈنگ سندھ کراچی، صوبائی اسمبلی بلڈنگ سرحد پشاور اور صوبائی اسمبلی بلڈنگ بلوچستان کوئٹہ میں قائم کئے گئے ہیں۔ مذکورہ پولنگ سٹیشنز پر پولنگ سٹاف کے طور پر فرائض سر انجام دینے کے لئے ریٹرننگ و پریذائیڈنگ افسران کا تقرر بھی کر دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق پارلیمینٹ ہائوس پولنگ سٹیشن کے لئے ریٹرننگ/ پریذائیڈنگ آفیسر کے فرائض چیف الیکشن کمشنر پاکستان جبکہ چاروں صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں میں پریذائیڈنگ آفیسر کے فرائض متعلقہ صوبوں کی ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سرانجام دیں گے جبکہ صوبائی الیکشن کمشنرز ان کی معاونت کریں گے۔
القمرآن لائن کے مطابق پارلیمینٹ ہائوس اسلام آباد میں قائم مشترکہ پولنگ سٹیشن کے لئے چیف الیکشن کمشنر پاکستان جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کو ریٹرننگ و پریذائیڈنگ آفیسر ، پولنگ سٹیشن صوبائی اسمبلی پنجاب لاہور کیلئے مسٹر جسٹس سید زاہد حسین چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ لاہور کو' صوبائی اسمبلی سندھ کراچی کیلئے مسٹر جسٹس عزیز اللہ میمن قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کراچی کو' صوبائی اسمبلی سرحد کیلئے مسٹر جسٹس جہانزیب رحیم قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ پشاور کو اور صوبائی اسمبلی بلوچستان کوئٹہ کیلئے مسٹر جسٹس امان اللہ خان چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کو پریذائیڈنگ آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ جو صدارتی الیکشن کے موقع پر پولنگ کے سلسلہ میں اپنے فرائض سرانجام دینگے۔ صدر مملکت کے عہدہ کیلئے ہونیوالے انتخابات کے دوران 100 سینیٹرز' 342 ممبران قومی اسمبلی' 371 ممبران پنجاب اسمبلی' 168 ممبران سندھ اسمبلی' 124 ممبران سرحد اسمبلی اور 65 ممبران بلوچستان اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے۔
القمرآن لائن کے مطابق مذکورہ 100 سینیٹرز میں پنجاب' سندھ' سرحد' بلوچستان کے 22,22وفاقی دارالحکومت کے 4 اور فاٹا کے 8 ممبران سینٹ شامل ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے 342 ممبران میں وفاقی دارالحکومت کے 2، پنجاب کے 183' سندھ کے 75' سرحد کے 43' فاٹا کے 12' بلوچستان کے 17 ارکان اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کرینگے۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی کے 371' سندھ اسمبلی کے 168' سرحد اسمبلی کے 124' بلوچستان اسمبلی کے 65 ممبران بھی صدارتی الیکشن میں ووٹ کا حق استعمال کرینگے۔ صدر مملکت کے عہدہ کیلئے انتخاب کے موقع پر ہر رکن پارلیمنٹ (سینٹ و قومی اسمبلی) اور چاروں صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو ایک ایک بیلٹ پیپر فراہم کیا جائیگا جس پر وہ خفیہ رائے شماری کی غرض سے اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔
القمرآن لائن کے مطابق مذکورہ تمام عمل کو انتہائی شفاف' غیر جانبدارانہ' آزادانہ اور منصفانہ بنانے کیلئے خفیہ رائے شماری ہو گی تاکہ ہر رکن اسمبلی و پارلیمنٹ اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق اپنے پسندیدہ امیدوار کو بلاخوف و خطر ووٹ ڈال سکے۔صدر مملکت کے عہدہ کے لئے انتخاب کے سلسلہ میں پولنگ کے موقع پر تمام ارکان پارلیمینٹ (سینیٹرز و ایم این ایز) اور ممبران صوبائی اسمبلی کو بیلٹ پیپر کے حصول کے وقت پارلیمینٹ و اسمبلی کی جانب سے جاری کردی شناختی کارڈ پیش کرنا ہوگا جبکہ مذکورہ شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد متعلقہ رکن الیکٹورل کالج کو بیلٹ پیپر فراہم کیا جائے گا۔ جس کا مقصد پولنگ کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانا ہے۔
القمرآن لائن کی اطلاعات کے مطابق صدر مملکت کے عہدہ کے انتخاب کے لئے بیلٹ پیپرز ریٹرننگ و پریذائیڈنگ آفیسرز کو فراہم کر دیئے گئے ہیں۔ مذکورہ بیلٹ پیپر پر صدارتی امیدواروں کے نام حروف تہجی کے اعتبار سے شائع کئے گئے ہیں۔ اس طرح پی پی پی و حکمران اتحاد کے صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کا نام پہلے، مسلم لیگ (ن) کے امیدوار جسٹس (ر) سعیدالزماں صدیقی کا نام دوسرے اور مشاہد حسین سید کا نام تیسرے نمبر پر شائع کیا گیا ہے۔ نیز صدارتی انتخاب کے لئے بیلٹ باکسز اور الیکٹورل کالج کے ارکان کی ووٹر لسٹیں بھی ریٹرننگ و پریذائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں الیکٹورل کالج کے ارکان کے نام بھی ووٹر لسٹوں میں حروف تہجی کے اعتبار سے تحریر کئے گئے ہیں۔ بیلٹ پیپر کے حصول کے لئے ہر اہل ووٹر کو پارلیمینٹ سیکرٹریٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ شناختی کارڈ پیش کرنا ہوگا۔ پولنگ صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک منعقد ہوگی جبکہ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد کسی شخص کو بیلٹ پیپر فراہم نہیں کیا جائے گا۔ تاہم ایسے ارکان جو مقررہ وقت کے اختتام تک پولنگ سٹیشن کے اندر موجود ہوں گے وہ اپنا ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔ یاد رہے کہ پریذائیڈنگ افسران کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ امن و امان میں خلل ڈالنے والے کسی بھی ووٹر کو پولنگ سٹیشن سے باہر نکال سکیں گے۔
القمرآن لائن کے مطابق صدر مملکت کے عہدہ کیلئے ہونیوالے انتخاب کی غرض سے پولنگ کیلئے پارلیمنٹ (سینٹ و قومی اسمبلی) اور چاروں صوبوں پنجاب' سندھ' سرحد' بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں کے خصوصی اجلاس ہفتہ کی صبح بیک وقت 9 بجے طلب کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے تاکہ الیکٹورل کالج کے ارکان اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے ارکان مشترکہ طور پر اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس میں قائم کئے گئے پولنگ سٹیشن پر صدر مملکت کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالیں گے جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنے اپنے صوبوں کے صوبائی دارالحکومتوں لاہور' کراچی' کوئٹہ' پشاور میں موجود اسمبلیوں کی عمارات کے اندر قائم کئے جانیوالے پولنگ سٹیشنوں پر صدارتی امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ دریں اثناء محکمہ داخلہ حکومت پاکستان نے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عہدہ کے انتخاب کے سلسلہ میں پولنگ کے موقع پر پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کی ہدایت کی ہے۔
چاروں صوبائی حکومتوں کو جاری کئے گئے ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ پنجاب' سندھ' سرحد' بلوچستان کے انسپکٹر جنرلز آف پولیس کو خصوصی طور پر ہدایت کی جائے کہ وہ صدارتی انتخاب کے موقع پر اسلام آباد' لاہور' پشاور' کراچی اور کوئٹہ میں پولنگ سٹیشنوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی خصوصی نفری تعینات کریں اور وہاں کم از کم ڈی آئی جی عہدہ کا افسر تمام صورتحال کی مانیٹرنگ کیلئے تعینات کیا جائے تاکہ کسی شرپسند کو پولنگ کے موقع پر بدامنی پھیلانے یا لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو خراب کرنے کا موقع نہ مل سکے۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ غیر متعلقہ عناصر اور مہمانوں کو بھی پولنگ کے دوران اسمبلیوں کی عمارات یا پولنگ سٹیشنوں میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے تاہم میڈیا کے ارکان اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے متعلقہ حکام اپنے خصوصی کارڈز دکھا کر اسمبلیوں میں جاسکیں گے تاکہ وہ پولنگ کا شفاف انعقاد اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ سرکلر میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ اس موقع پر کلوز سرکٹ کیمرے بھی تمام حساس اور اہم مقامات سمیت پولنگ سٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستوں پر نصب کرنے کے علاوہ پولنگ سٹیشنوں میں داخلے کیلئے میٹل ڈیٹیکٹرز و واک تھرو گیٹس بھی نصب کئے جائیں۔
القمرآن لائن کے مطابق محکمہ داخلہ نے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے انٹرنل سکیورٹی حکام کو بھی ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ تاکہ صدارتی انتخاب کے موقع پر خوشگوار ماحول میں پولنگ کا انعقاد یقینی ہو سکے۔یاد رہے کہ ممبران پارلیمینٹ (سینیٹرز و ممبران قومی اسمبلی) اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے صدر کا چنائو کریں گے۔
القمرآن لائن کے مطابق آئین پاکستان کے تحت صدر مملکت کے عہدہ پر فائز رہنے والا شخص دوبارہ الیکشن لڑنے کا اہل ہے لیکن وہ مسلسل دو مرتبہ سے زیادہ صدر پاکستان کے عہدہ پر فائز رہنے کا اہل نہیں۔ نیز صدر مملکت منتخب ہونے کے بعد اپنے عہدہ کا حلف اٹھانے کے روز سے نومنتخب صدر کے عہدہ کی مدت شروع ہوتی ہے جو 5 سال تک مقرر ہے۔ نیز صدر مملکت کے عہدہ کا انتخاب ان کے عہدہ کی آئینی مدت ختم ہونے سے 60 روز قبل اور مدت ختم ہونے کے زیادہ سے زیادہ 30 روز بعد منعقد کروانا ضروری ہوتا ہے اور اگر قومی اسمبلی کی تحلیل کے باعث مذکورہ الیکشن مقررہ مدت کے اندر منعقد نہ ہو سکے تو عام انتخابات کے انعقاد کے 30 روز کے اندر آئینی و قانونی طور پر صدر پاکستان کے عہدہ کا انتخاب ضروری ہے۔
آئین کے آرٹیکل 41 کے سب سیکشن 5 کے تحت صدر کا انتخاب ان کا عہدہ خالی ہونے کے 30 روز کے اندر منعقد کروانا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ممبران پارلیمنٹ (سینٹ و قومی اسمبلی) اور چاروں صوبائی اسمبلیاں صدر کے الیکٹورل کالج کا حصہ ہیں۔ جس کا ذکر سیکنڈ شیڈول کی کلاز (7) میں بھی کیا گیا ہے۔
صدارتی انتخاب کو کسی عدالت یا کسی بھی اتھارٹی کے روبرو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
القمرآن لائن کے مطابق نو منتخب صدر مملکت کو چیف جسٹس آف پاکستان سے اپنے عہدہ کا حلف لینا ہو گا۔ آئین کے مطابق صدر کے عہدہ کی مدت پانچ سال ہے اور جو شخص دو بار صدر مملکت رہ چکا ہو وہ تیسری مرتبہ صدر مملکت کا انتخاب نہ لڑ سکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 49 کے تحت صدر مملکت کے عہدہ چھوڑ دینے کے بعد چیئرمین سینٹ کو قائم مقام صدر بنایا جاتا ہے اور اگر کسی وجہ سے چیئرمین سینٹ مذکورہ عہدہ سنبھالنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں تو پھر سپیکر قومی اسمبلی قائم مقام صدر کے طور پر فرائض سرانجام دے سکتا ہے۔ صدر پاکستان کے عہدہ کیلئے امیدوار کا مسلمان اور 45 سال عمر سمیت قومی اسمبلی کا الیکشن جیتنے کا اہل ہونا چاہئے۔
قیام پاکستان کے بعد 15 اگست 1947ء سے لے کر 23 مارچ 1956ء تک صدر پاکستان کے عہدہ کا نام گورنر جنرل تھا جبکہ اس عرصہ میں قائداعظم محمد علی جناح، خواجہ ناظم الدین، ملک غلام محمد اور میجر جنرل سکندر مرزا گورنر جنرل رہے تاہم 23 مارچ 1956ء کے آئین کے نفاذ پر پاکستان کو جمہوریہ قرار دے دیا گیا اس لئے گورنر جنرل کے عہدہ کا نام تبدیل کرکے سربراہ مملکت کو صدر پاکستان کا نام دیا گیا