Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 03 Dec 2008 01:08:33   |   |   |  Text Only Version

Tue, 09 Sep 2008 12:09:00

حلف برداری کے بعد صدر آصف زرداری کی پریس کانفرنس


محمد ہارون عباس ۔اسلام آباد، صفدر ھمٰدانی۔لندن ، ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی

مبارکباد کے اشتہارات پر پابندی،بلاول ہاؤس اور زرداری ہاؤس کو ایوان صدر کا درجہ

نو منتخب صدر آصف علی زرداری نےپاکستان کے 12ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ان سے حلف لیا ۔ آصف علی زرداری کے حلف اٹھانے کے بعد ایوان صدر میں جئے بھٹو کے نعرے لگائے گئے۔

آصف زرداری ہال میں داخل ہوئے تو ایوان میں زندہ ہے بی بی زندہ ہے اور جیئے بھٹو کے نعرے لگے جو قومی ترانے کے دوران بھی جاری رہے۔ صنم بھٹو اس دوران آبدیدہ رہیں۔

حلف برداری کے بعد صدر زرداری نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کومعاف کرنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی میں ذاتی طور پر کسی کے خلاف نہیں ہوں

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صدر بنانے پر عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، میں نے صدارت کا عہدہ بے نظیر بھٹو کے نام پر قبول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسائل کے حل کے لئے اپنے ہمسایوں کی مدد کرینگے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستانی قوم مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم جمہوری لوگ ہیں ۔

اسلام آباد سے القمر آن لائن کے ہارون عباس کے مطابق  ایک سوال کے جواب میںصدر زرداری نے کہا کہ ہمیں عوام کے مسائل کا پوری طرح علم ہے۔ حکومت کو طلب اور رسد کا فرق ختم کرنا چاہئے۔ ایک او ر سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں اور ہم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے منصوبہ بنارکھاہے ۔

کشمیر کے حوالے سے سوال پر ان کاکہناتھا کہ کشمیر کے بارے میں ہمارے رابطے جاری ہیں اور بھارت میں نئے انتخابات سے قبل خوشخبریملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کشمیر پر بیک ڈور رابطوں کاعلم ہے۔ کشمیر پر جلد پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور اس ضمن میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ان کا کہناتھا کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے متاثرین کیلئے بین الاقوامی فنڈ قائم کرنے کی کوشش کرونگا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنا پہلا سرکاری دورہ چین کا کرونگا اور انہیں پاکستانی عوام کی نیک خواہشات پیش کرونگا۔

اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی کے آصف زرداری کو صدر بننے پر مبارکباد دی اور حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دینے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان جڑواں ممالک ہیں ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم ہیں۔ اس لئے دونوں ممالک ایک جیسے مسائل اور ایک جیسے دشمنوں کا سامنا کررہے ہیں۔میں افغانستان کے عوام کی طرف سے یقین دلاتا ہے کہ ہم خطے اور دونوں ممالک میں قیام امن کے لیے پاکستان کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔

آصف زرداری سے دہشت گردی کیخلاف جنگ سمیت تمام ایشوز پر بات ہوئی ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ آصف علی زرداری کو وژن والی شخصیت کے طورپر محسوس کیاہے اور ان سے ملاقات کے بعد مجھے نئی امید نظر آئی ہے۔


اس سے قبل اسلام آباد میںحلف برداری کی تقریب میں افغان صدر حامد کرزئی اور فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پگارا نے خصوصی دعوت پر شرکت کی ۔ حلف برداری کی تقریب میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، بختاور اور آصفہ ، بے نظیر بھٹو کی ہمشیرہ صنم بھٹو نے بھی شرکت کی ۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما اسحاق ڈار ، وزیر اعلی پنجاب بھی دیگر پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ شریک ہوئے ۔

حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم یوسف رضاگیلانی، سپیکر قومی اسمبلی ،چیئرمین سینٹ ، وفاقی وزراء ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ، تینوں مسلح افواج کے سربراہ، چاروں صوبو ں کے گورنرز اور وزرائے اعلی ، غیر ملکی سفارتکاروں، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔

حلف برداری کے ہال میں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی تصاویر نمایاں تھیں۔

حلف اٹھانے کے بعد نو منتخب صدر کو تینوں مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

اطلاعات کے مطابق حلف برداری کی تقریب کے بعد صدر آصف علی زرداری ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ بعد میں وہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، وفاقی کابینہ کے ارکان، چئیرمین سینیٹ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل طارق مجید اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان ان سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کریں گے۔

اس سے قبل یہ اطلاع بھی تھی کہ تقریب جناح‌کنونشن سینٹر میں منعقد پو گی تاہم بعد میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ ایوان صدر میں منعقد کی جائے گی۔

القمر آن لائن کو معلوم ہوا ہے کہ پہلی مرتبہ ایوان صدر میں ذوالفقار علی بھٹو کی تصاویر آویزاں کی جارہی ہیں۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے صدر منتخب ہونے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر سے آمریت کے خاتمے کا خواب پورا ہو گیا۔

صدر منتخب ہونے کے بعد جاری کئے گئے اپنے بیان میں آصف علی زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بطور صدر فیڈریشن کو مضبوط بنانے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان صدر سے آمریت کے خاتمے کا بے نظیر بھٹو شہید کا خواب پورا ہو گیا ہے۔

آصف زرداری کے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بلاول ہاؤس کراچی اور زرداری ہاؤس نواب شاہ کو پریذیڈنٹ ہاؤس قرار دینے کافیصلہ کیا گیا ہے۔

القمر آن لائن کی اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں ضروری کارروائیاں کی جارہی ہیں اور وہاں حفاظت کے لئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔  بلاول ہاؤس سے پیپلزپارٹی کراچی کے صدر کے دفتر کے علاوہ میڈیا سیل سمیت تمام دفاتر پیپلزسیکریٹریٹ کراچی منتقل کئے جائیں گے۔

القمرآن لائن کو معلوم ہوا ہے کہ ہ نومنتخب صدر آصف علی زرداری قومی اسمبلی یا حکومت کو برخاست کرنے کا اپنا اختیار ختم کر دیں گے لیکن وہ اہم تقرریوں کا امتیازی اختیار خاص طور پر چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کا اختیار اپنے پاس رکھیں گے۔

 پیپلز پارٹی کے رہنما جو آصف زرداری کے قریب اور ان کی سوچ سے واقف ہیں نے اب صدر اور وزیراعظم کے اختیارات کے توازن کے لئے بات شروع کر دی ہے جیسے کہ گزشتہ عشروں میں پی پی کے دور حکومت اور 1973ء کے اصلی آئین کے مطابق صدر سربراہ مملکت کے طور پر صرف علامتی سربراہ تھا۔

حکمران اتحاد کو یقین ہے کہ قومی اسمبلی میں دوسری بڑی اکثریتی جماعت مسلم لیگ (ن) 58(2B) کے خاتمے میں خوش ہو گی اس لئے وہ حکمران اتحاد کا ساتھ دے گی۔

القمرآن لائن کو معلوم ہوا ہے کہ  آصف علی زرداری نے تمام وزارتوں‘ ڈویژنوں اور حکومتی اداروں کی طرف سے انہیں منتخب ہونے پر مبارکباد کے اشتہارات پر پابندی عائد کردی ہے۔

 نو منتخب صدر کی ہدایت کے بعد حکومت سندھ نے تمام صوبائی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ آصف زرداری کی کامیابی پر مبارک باد کے اشتہارات اور پیغامات ٹی وی چینلز اور اخبارات کو جاری نہ کئے جائیں۔ پیر کو صوبائی حکومت کی طرف سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ نومنتخب صدر نے مبارکباد کے اشتہارات کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان غریب ملک ہے اور ایسی فضول خرچی سے گریز کیا جائے۔
ادھر حکومت سندھ نے کل پیر کے روز جوعام تعطیل کا اعلان کیاتھا نو منتخب صدر نے اسے منسوخ کرواتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت چھٹیوں کی بجائے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں ہفتےکی شام الیکشن کمیشن نے آصف زرداری کے صدر مملکت منتخب ہونے کا باضابطہ اعلان کردیا۔چیف الیکشن کمشنرقاضی محمد فاروق نے صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایاکہ آصف علی زرداری نے چارسواکیاسی الیکٹرول ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ نواز کے امیدوار محمد سعیدالزماں صدیقی نے ایک سوتریپن اور مسلم لیگ قاف کے مشاہدحسین سید نے چوالیس الیکٹرول ووٹ‌حاصل کیے۔اس طرح آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے۔

اسلام آباد سے قمر منیر یوسفزئی نے بتایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنرآف پاکستان نےکہا ہےکہ چاروں صوبوں‌میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کی نگرانی میں انتخاب ہوا۔جبکہ اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر نے خود انتخابی عمل کی نگرانی کی ۔

قاضی محمد فاروق نے آصف علی زرداری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کی دعا ہے آصف علی زرداری کا انتخاب جمہوریت کے فروغ ، امن و امان اور معاشی خوشحالی کا سبب بنے۔پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری ملک کے نئے12ویں صدر منتخب ہوگئے ۔صدر کے انتخاب کیلئے سینیٹ ،قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ووٹنگ ہوئی۔

نو منتخب صدر  اصف  علی زرداری نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب کے ساتھ ہی جمہوری عمل کا ایک مرحلہ مکمل ہو گیا ہے ۔

وزیراعظم ہاوس میں وزیراعظم کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر سے  خطاب کرتے ہوئےآصف علی زرداری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور ذوالفقارعلی بھٹو شہید کے فلسفے کو لے  کر اگے بڑھیں گے  ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کا یہ فلسفہ تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے  وہ دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت سے صدر منتخب ہوئے ہیں یہ اعزاز کبھی ڈکٹیٹروں کو بھی حاصل نہیں ہوا ۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پوری قوم اس کامیابی پر مبارکباد کی مستحق ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کہ فیڈریشن کی علامت پیپلز پارٹی ملک کو مظبوط سے مظبوط تر کرے گی انہوں نے کہا اس کامیا بی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا خواب ،تصور اور ان کے مشن کی جھلک نظر ارہی ہے ۔

وزیراعظم نے  کہا کہ وہ صوبائی حکومتوں کو غیر مستحکم نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ پاکستان کی جنگ ہے اور اس اڑ میں کسی بیرونی  طاقت کو پاکستان کے اندر کاروائی کی اجازت نہیں دیں گے وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے امریکہ کو واضع کر دیا ہے ۔

مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف نے آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے امیدظاہر کی ہے کہ وہ غیر سیاسی صدر ثابت ہونگے۔

 میاں نوازشریف نے کہا کہ آصف علی زرداری کا صدر متخب ہونا آمریت کی شکست ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کی جماعت پائیدار جمہوریت کیلئےآصف زرداری سے تعاون کرے گی۔

میاںنواز شریف نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز کو بحال کیا جائیگا۔

اس سے قبل القمر آن لائن کےمطابق اسلام آباد سے بتایا تھا کہ  پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری صدارتی انتخابات میں 481الیکٹرول ووٹ حاصل کرکے ملک کے چودھویں صدر منتخب، جسٹس(ر) سعید الزمان صدیقی 153ووٹ لیکر دوسرے نمبر، مشاہد حسین سید صرف43ووٹ حاصل کرسکے۔صدارتی انتخابات میں پولنگ کے لیے پارلیمنٹ ہائوس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ ہوئی پارلیمنٹ ہائوس میں ارکان سینٹ اور قومی اسمبلی نے پولنگ میں حصہ لیا۔

صدارتی الیکشن کیلئے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس ٹھیک 10 بجے شروع ہوا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے کی۔ چیف الیکشن کمشنر نے ارکان پارلیمنٹ کو پہلے الیکشن کا طریقہ کار بتایا اور اس موقع پر ایوان کو تین بوتھ پر تقسیم کیا گیا اور کہا گیا کہ نام پکارنے کے ساتھ ساتھ ان کا بوتھ نمبر بھی سنایا جائے گا جس کے بعد ووٹنگ کا آغاز ٹھیک 10 بج کر 15 منٹ پر کیا گیا۔سب سے پہلے سینٹرز نے ووٹ ڈالے۔اس حوالے سے سب سے پہلا نام سینیٹرعبدالغفار قریشی کا پکارا گیا تھا جوکہ وقت پر نہ پہنچ سکے جس کے باعث مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا نے پہلا ووٹ ڈالا ۔

 قومی اسمبلی میں پولنگ کا عمل تقریباً دو بج کر 15 منٹ پر ختم ہو گیا مگر چیف الیکشن کمشنر نے 3 بجے تک انتظار کیا ۔دو بج کر 55 منٹ پر آخری ووٹ پیر صدرالدین شاہ راشدی' محمد جازم منگریو اور عبدالرزاق تھیم نے پول کئے۔ ٹھیک 3 بجے چیف الیکشن کمشنر نے ووٹوں کی گنتی شروع کروا دی جس کے مطابق پارلیمنٹ ہائوس میں مجموعی طورپر436ووٹ پول ہوئے جن میں پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار آصف علی زرداری کو281 مسلم لیگ (ن) کے جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی کو111 اور مسلم لیگ (ق) کے مشاہد حسین سید کو 34ووٹ حاصل ہوئے، دس ووٹ مسترد ہوئے۔

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے نامزد امیدوار سعید الزمان صدیقی کا پلڑا بھاری رہا اور انہوں نے 201ووٹ حاصل کیے ۔پیپلزپارٹی کے امیدوار کو 123 اور مشاہد حسین کو 36ووٹ ملے جبکہ دس ووٹوں کو مسترد قرار دیا گیا ۔

 سندھ اسمبلی سے آصف علی زرداری کو 162ووٹ ملے جبکہ مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ(ق) کے نامزد امیدوار کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے ۔ ایک ووٹ مسترد کیا گیا۔

صدارتی انتخاب میں سب سے پہلے صوبہ سرحد کے نتائج سامنے آئے جن کے مطابق ایک سو چوبیس اراکین میں سے چار ووٹ مسترد ہوئے جبکہ ایک سو بیس اراکین کے ووٹوں کو درست قرار دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کو ایک سو سات اراکین کے ووٹ ملے اور صدارتی ووٹوں کے فارمولے کے مطابق ان کے صدارتی ووٹ 56 بنتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سعید الزمان صدیقی کو دس اراکین نے ووٹ دیے اور فارمولے کے مطابق ان کے صدارتی ووٹ پانچ گنے جائیں گے جبکہ مسلم لیگ (ق) کو تین اراکین نے ووٹ دیے اور فارمولے کے مطابق ان کے دو صدارتی ووٹ گنے جائیں گے۔

سندھ اسمبلی کے کل ایک سو چھیاسٹھ ارکان میں سے تین غیر حاضر رہے، دو لوگوں کے ووٹ مسترد ہوئے اور باقی تمام ارکان نے زرداری کے حق میں ووٹ دیا۔ اس طرح آصف زرداری کو سندھ اسمبلی میں صدارتی انتخاب کے لیے 63 ووٹ ملے اور ان کے مخالفین کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔

بلوچستان اسمبلی سے آصف علی زرداری کو59 جسٹس (ر) سعید الزمان اور مشاہد حسین سید کو دو دو ووٹ ملے ۔پیپلزپارٹی کے نامزید امیدوار آصف علی زرداری نے مجموعی طورپر 732ووٹ حاصل کیے جبکہ جسٹس(ر) سعید الزمان صدیقی 324 جبکہ مشاہد حسین سید مجموعی طورپر75ووٹ حاصل کرسکے ۔ آصف علی زرداری کو پیپلزپارٹی عوامی نیشنل پارٹی ایم کیو ایم جے یو آئی مسلم لیگ(ف) نیشنل پارٹی پیپلزپارٹی شیرپائو اور بی این پی کی حمایت حاصل تھی۔
جبکہ مسلم لیگ ق کے دس ارکان اسمبلی نے پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی اورآصف علی زرداری کو ووٹ دیا مسلم لیگ ق کی ایم این اے کشمالہ طارق،اسراراللہ ترین،ریاض فتیانہ، نصر اللہ بجرانی، سردار بہادر خان سیڑھ،نعمان لنگڑیال،سردارطالب نکئی،پرنس محی الدین ،پرنس نواز الہی اور سید ایاز شاہ شیرازی نے صدارتی الیکشن میں ووٹنگ سے قبل پیپلزپارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اوربعدازاں کشمالہ طارق اور اسرار ترین آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سے علیحدہ ملاقات کی جس کے بعد ان تمام ارکان نے آصف زرداری کو صدر کا ووٹ دیا۔


پارلیمنٹ ہاؤس میں چیف الیکشن کمشنراور ریٹرننگ آفیسر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے رائے شماری سے قبل ارکین سینٹ و قومی اسمبلی کو ووٹنگ کے طریقہ کار سے آگاہ کیا، جس کے بعد انگریزی حروف تہجی کے لحاظ سے اراکین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اسلام آباد میں سینیٹ و قومی اسمبلی اور لاہور، پشاور ، کراچی اور کوئٹہ میں صوبائی اسمبلیوں میں 5پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے۔ اس موقع پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے ۔


قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہوا۔ جس میں پہلی بار متحدہ قومی موومنٹ بھی شریک ہوئی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان، جے یو آئی، آزاد اراکین اور فاٹا کے بعض اراکین بھی شریک ہوئے۔

مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جان محمد جمالی اپنی جماعت کے اجلاس میں جانے کے بجائے پیپلز پارٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

ادھر مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کا علیحدہ اجلاس ہوا جس میں ریاض فتیانہ، کشمالہ طارق اور نصر اللہ بجارانی سمیت دو درجن کے قریب اراکین شریک ہوئے۔ ریاض فتیانہ نے کہا کہ ان کےگروپ میں پچیس اراکین شامل ہیں اور انہوں نے آصف علی زرداری کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی سے القمر آن لائن کے نمائندے آصف خان نے بتایا ہے کہ صدارتی انتخابات میں مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین کا ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ۔ مسلم لیگ فنکشنل کے 8اراکین اسمبلی،مسلم لیگ (ق) کے 4اراکین سمیت متحدہ قومی موومنٹ کے ایک رکن سمیت 13ارکان سندھ اسمبلی ووٹنگ کے عمل میں غیر حاضررہے ۔166 کے ایوان میں سے 153 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا۔

مسلم لیگ فنکشنل کے صدارتی ووٹنگ میں حصہ نہ لینے والے ارکان سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف جام مدد علی، غلام علی نظامانی، شمس الدین راجڑ، رانا عبدالستار، محمد رفیق، ماروی راشدی، نصرت عباسی، رحیم بخش بوزدار شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے والے اراکین میں سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب رحیم، ارباب ذوالفقار، رزاق راھموں اور نزہت پٹھان شامل ہیں جو غیر حاضر رہے اورانہوں نے بائیکاٹ کے فیصلے کے تحت ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

القمر آن لائن کے نامہ نگار نے اسلام آباد سے بتایا ھے کہ صدارتی انتخاب کیلئے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بھی مکمل ھو چکی ھے ۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق ریٹرئنگ آفیسر کے فرائض سرانجام دیں رھے ھیں جبکہ تین پولنگ آفیسر جن میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد ، سیکرٹری قومی اسمبلی کرامت نیازی اور سیکرٹری سینٹ راجہ امین شامل ہیں۔

قومی اسمبلی کو باقاعدہ الیکشن آفس بنانے کانوٹیفیکیشن ا سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے جاری کیا تھا ۔ پولنگ میں تمام سینیٹرز ، اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی صدر مملکت کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالے ۔ سب سے پہلے اراکین سینٹ اپنا ووٹ پول کیا ۔ ووٹنگ کیلئے حروف تہجی کا طریقہ استعمال کیا گیا ۔ووٹ کاسٹ کرنے والوں کو امیدوار کے نام کے سامنے کراس کا نشانہ لگانا ہوگا۔ بیلٹ پیپرز کے ذریعے خفیہ رائے شماری کے تحت ہونیوالی پولنگ کیلئے پارلیمنٹ سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں کی عمارتوں کو پولنگ سٹیشنوں کا درجہ دیا گیا ہے ۔

صدر کے لئے ہونیوالے انتخابات میں100 سینیٹرز ، 342 ممبران قومی اسمبلی ،371 ممبران پنجاب اسمبلی ،168 ممبران سندھ اسمبلی ،124 ممبران سرحد اسمبلی اور 65 ممبران بلوچستان اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور اٍس وقت ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ھو چکا ھے ۔
سرحد اسمبلی میں حکمراں اتحاد کے امیدوار آصف علی زرداری نے ایک سو سات ووٹ حاصل کئے ہیں۔ قومی اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ سرحد اسمبلی میں ایک سو چوبیس ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا ۔ چار ووٹ مسترد کردیئے گئے۔ آصف علی زرداری نے سرحد سے ایک سو سات ووٹ حاصل کیے۔ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی نے دس اور مشاہد حسین سید نے تین ووٹ حاصل کیے۔

سرحد اسمبلی میں انتخابی قواعد کی کئی بار خلاف ورزی کی گئی جس پر پرئزائیڈنگ آفیسر جسٹس طارق پرویز نے ارکان کو تنبیہ کی۔ ایک موقع پر پرئزائیڈنگ آفیسر نے پیپلز پارٹی شیرپاﺅ کی رکن نرگس ثمین کی جانب سے بیلٹ پیپر ظاہر کرنے پر پولنگ روک دی تاہم کچھ دیر بعد پولنگ جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

صدارتی انتخاب میں سینیٹ ،قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل الیکٹورل کالج کے ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ صدارتی الیکشن خفیہ رائے شماری کے تحت بیلٹ پیپر کے ذریعے ہو ا۔

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Sareer Khalid, Srinagar, Kashmir
 

 مزید خبریں اورمضامین

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Dec 2008
SuMoTuWeThFrSa
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com