پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری صدارتی انتخابات میں 479الیکٹرول ووٹ حاصل کرکے ملک کے چودھویں صدر منتخب، جسٹس(ر) سعید الزمان صدیقی 153ووٹ لیکر دوسرے نمبر، مشاہد حسین سید صرف43ووٹ حاصل کرسکے۔صدارتی انتخابات میں پولنگ کے لیے پارلیمنٹ ہائوس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ ہوئی پارلیمنٹ ہائوس میں ارکان سینٹ اور قومی اسمبلی نے پولنگ میں حصہ لیا۔صدارتی الیکشن کیلئے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس ٹھیک 10 بجے شروع ہوا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے کی۔ چیف الیکشن کمشنر نے ارکان پارلیمنٹ کو پہلے الیکشن کا طریقہ کار بتایا اور اس موقع پر ایوان کو تین بوتھ پر تقسیم کیا گیا اور کہا گیا کہ نام پکارنے کے ساتھ ساتھ ان کا بوتھ نمبر بھی سنایا جائے گا جس کے بعد ووٹنگ کا آغاز ٹھیک 10 بج کر 15 منٹ پر کیا گیا۔سب سے پہلے سینٹرز نے ووٹ ڈالے۔اس حوالے سے سب سے پہلا نام سینیٹرعبدالغفار قریشی کا پکارا گیا تھا جوکہ وقت پر نہ پہنچ سکے جس کے باعث مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا نے پہلا ووٹ ڈالا ۔ اراکین قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ چوہدری عبدالغفور نے ڈالا۔ وفاقی وزیر رحمت اللہ ، قمر الزمان کائرہ ، رضا ربانی ، اعجاز ورک نے پی پی پی کی جانب سے پولنگ ایجنٹس کے فرائض سنبھالے جبکہ نصیر بھٹہ اور عابد شیر علی ن لیگ انور بھنڈر ق لیگ کی جانب سے پولنگ ایجنٹ تھے۔ قومی اسمبلی میں پولنگ کا عمل تقریباً دو بج کر 15 منٹ پر ختم ہو گیا مگر چیف الیکشن کمشنر نے 3 بجے تک انتظار کیا ۔دو بج کر 55 منٹ پر آخری ووٹ پیر صدرالدین شاہ راشدی' محمد جازم منگریو اور عبدالرزاق تھیم نے پول کئے۔ ٹھیک 3 بجے چیف الیکشن کمشنر نے ووٹوں کی گنتی شروع کروا دی جس کے مطابق پارلیمنٹ ہائوس میں مجموعی طورپر436ووٹ پول ہوئے جن میں پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار آصف علی زرداری کو281 مسلم لیگ (ن) کے جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی کو111 اور مسلم لیگ (ق) کے مشاہد حسین سید کو 34ووٹ حاصل ہوئے، دس ووٹ مسترد ہوئے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے نامزد امیدوار سعید الزمان صدیقی کا پلڑا بھاری رہا اور انہوں نے 201ووٹ حاصل کیے ۔پیپلزپارٹی کے امیدوار کو 123 اور مشاہد حسین کو 36ووٹ ملے جبکہ دس ووٹوں کو مسترد قرار دیا گیا ۔ سندھ اسمبلی سے آصف علی زرداری کو 162ووٹ ملے جبکہ مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ(ق) کے نامزد امیدوار کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے ۔ ایک ووٹ مسترد کیا گیا۔صدارتی انتخاب میں سب سے پہلے صوبہ سرحد کے نتائج سامنے آئے جن کے مطابق ایک سو چوبیس اراکین میں سے چار ووٹ مسترد ہوئے جبکہ ایک سو بیس اراکین کے ووٹوں کو درست قرار دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کو ایک سو سات اراکین کے ووٹ ملے اور صدارتی ووٹوں کے فارمولے کے مطابق ان کے صدارتی ووٹ 56 بنتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سعید الزمان صدیقی کو دس اراکین نے ووٹ دیے اور فارمولے کے مطابق ان کے صدارتی ووٹ پانچ گنے جائیں گے جبکہ مسلم لیگ (ق) کو تین اراکین نے ووٹ دیے اور فارمولے کے مطابق ان کے دو صدارتی ووٹ گنے جائیں گے۔سندھ اسمبلی کے کل ایک سو چھیاسٹھ ارکان میں سے تین غیر حاضر رہے، دو لوگوں کے ووٹ مسترد ہوئے اور باقی تمام ارکان نے زرداری کے حق میں ووٹ دیا۔ اس طرح آصف زرداری کو سندھ اسمبلی میں صدارتی انتخاب کے لیے 63 ووٹ ملے اور ان کے مخالفین کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔بلوچستان اسمبلی سے آصف علی زرداری کو59 جسٹس (ر) سعید الزمان اور مشاہد حسین سید کو دو دو ووٹ ملے ۔پیپلزپارٹی کے نامزید امیدوار آصف علی زرداری نے مجموعی طورپر 732ووٹ حاصل کیے جبکہ جسٹس(ر) سعید الزمان صدیقی 324 جبکہ مشاہد حسین سید مجموعی طورپر75ووٹ حاصل کرسکے ۔ آصف علی زرداری کو پیپلزپارٹی عوامی نیشنل پارٹی ایم کیو ایم جے یو آئی مسلم لیگ(ف) نیشنل پارٹی پیپلزپارٹی شیرپائو اور بی این پی کی حمایت حاصل تھی۔
جبکہ مسلم لیگ ق کے دس ارکان اسمبلی نے پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی اورآصف علی زرداری کو ووٹ دیا مسلم لیگ ق کی ایم این اے کشمالہ طارق،اسراراللہ ترین،ریاض فتیانہ، نصر اللہ بجرانی، سردار بہادر خان سیڑھ،نعمان لنگڑیال،سردارطالب نکئی،پرنس محی الدین ،پرنس نواز الہی اور سید ایاز شاہ شیرازی نے صدارتی الیکشن میں ووٹنگ سے قبل پیپلزپارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت کی اوربعدازاں کشمالہ طارق اور اسرار ترین آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سے علیحدہ ملاقات کی جس کے بعد ان تمام ارکان نے آصف زرداری کو صدر کا ووٹ دیا کشمالہ طارق جب ووٹ ڈالنے آئیں تو انہوں نے پرچی بیلٹ باکس میں ڈالنے سے قبل فضاء میں لہرائی تو جس کا پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر خیرمقدم کیا
نو منتخب صدر کا پہلا خطاب
6 ستمبر کو آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں ان کا پہلا خطاب جو کہ 7 یا 8 ستمبر کو ان کے حلف اٹھانے کے بعد ہوگا ملک کی آئندہ سیاست اور معیشت کا رخ متعین کریگا۔ یہ خطاب اس لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا کہ اس سے اس بات کا حتمی اندازہ ہوگا کہ آئندہ سیاست میں ٹھہراؤ آئے گا کہ غیر یقینی صورتحال جاری رہے گی۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آصف زرداری کے خطاب اور آئندہ پالیسی کے بنیادی خدو خال تیارکر لئے گئے ہیں۔ ان کی پہلی تقریر میں قومی مفاہمت کے فروغ اور دہشت گردی کے خاتمے کی بات ہو گی۔ آصف زرداری بلوچستان فاٹا اور صوبہ سرحد میں قبائل کی جانب خاص طور پر مفاہمت کا ہاتھ بڑھانے کی بات کریں گے۔ وہ تمام ججوں کو حلف اٹھانے کی دعوت دیں گے اور 58ـ2B کے خاتمہ کا بھی اعلان کر سکتے ہیں۔ تا ہم اس بات کا امکان ہے کہ وہ سترہویں ترمیم کی ان شقوں کو برقرار رکھیں جو کہ صدر کو ججوں اور سروسز چیفس کی تعیناتی جیسے اختیارات دیتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزراء سے استعفوں کی واپسی کا بھی مطالبہ کریں گے لیکن کیونکہ نواز شریف ہفتہ یا دس روز کیلئے لندن جا رہے ہیں۔ اس لئے یہ معاملات زیر التواء رہیں گے اور ممکن ہے کہ اس دوران آصف زرداری وزیر اعلیٰ پنجاب جو کہ مسلم لیگ کے صدر بھی ہیں سے بعض امور پر گفت و شنید ہو ۔
صدارتی ا نتخابات ،مہمانوں کی گیلریاں ویران پڑی رہیں
صدارتی ا نتخابات کے موقع پر سیکیورٹی کے پیش نظر مہمانوں کو سیکیورٹی پاس الاٹ نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے مہمانوں کی گیلریاں ویران پڑی رہیں۔ سیکیورٹی کے پیش نظر شاہراہ دستور پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ صحافیوں کو بھی خصوصی چیکنگ کے بعد پارلیمنٹ میں جانے کی اجازت دی گئی۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز کا گروپ پولنگ عمل کا بغور مشاہدہ کرتا رہا
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار' احسن اقبال' خواجہ آصف اور حمزہ شہباز ایک گروپ کی شکل میں کھڑے ہو کر پولنگ کے عمل کو بغور دیکھتے رہے۔ بعدازاں ان کے گروپ میں مخدوم جاوید ہاشمی بھی شامل ہوگئے اوروہ سب تقریباً ایک گھنٹہ تک کھڑے رہے۔
صدارتی الیکشن، غیرملکی صحافیوں کی بڑی تعداد کوریج کرتی رہی
صدارتی الیکشن کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن میں غیرملکی صحافیوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے بڑی دلچسپی سے صدارتی الیکشن کی کارروائی دیکھی۔ اس موقع پر چند غیرملکی مہمانوں نے باہر کھڑے ہو کر متعدد ارکان اسمبلی سے گفتگو بھی کی۔
فاروق ستار کی خواجہ آصف اور اسحاق ڈار سے ملاقات
ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کی مسلم لیگ نواز کے خواجہ آصف اور سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات۔ ڈاکٹر فاروق ستار اپنی نشست سے اٹھ کر وفاقی وزیر خزانہ سید نوید قمر سے ملاقات کے آئے تواس کے بعد خواجہ آصف اور سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی گلے لگایا اور کچھ دیر تک ان کے گروپ میں کھڑے ہو کر مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے رہے۔
مشترکہ اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر نے کی، ووٹنگ کا آغاز ٹھیک 10 بج کر 15 منٹ پر ہوا
صدارتی الیکشن کیلئے سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس ٹھیک 10 بجے شروع ہوا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے کی۔ چیف الیکشن کمشنر نے ارکان پارلیمنٹ کو پہلے الیکشن کا طریقہ کار بتایا اور اس موقع پر ایوان کو تین بوتھ پر تقسیم کیا گیا اور کہا گیا کہ نام پکارنے کے ساتھ ساتھ ان کا بوتھ نمبر بھی سنایا جائے گا جس کے بعد ووٹنگ کا آغاز ٹھیک 10 بج کر 15 منٹ پر کیا گیا۔
وزیر اعظم 10 بج کر 30 منٹ پر ایوان میں داخل ہوئے،حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا
صدارتی الیکشن کے موقع پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ایوان میں ٹھیک 10 بج کر 30 منٹ پر پہنچے تو ایوان میں موجود پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم نے تمام ارکان اسمبلی کو ہاتھ ہلاک کر سلام کا جواب دیا۔
مشاہد حسین سید کا اپوزیشن اراکین نے تالیوں سے استقبال کیا
صدارتی امیدوار سینیٹر مشاہد حسین سید ایوان میں داخل ہوئے تو اپوزیشن ارکان کا تالیوں سے استقبال ، سینیٹر مشاہد حسین جب اپنا ووٹ کاسٹ کرنے گئے تو اس وقت ان کا والہانہ استقبال کیا گیا اور اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے اپنی نشست سے اٹھ کر ان سے مصافحہ کیا۔
مولانا فضل الرحمن کی ایوان میں آمد ، وزیراعظم نے گلے لگا لیا،سپیکر کا کھڑے ہو کر استقبال
جمعیت علماء اسلام(ف) کے قائد مولانا فضل الرحمن کی ایوان میں آمد ، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی نشست سے اٹھ کر انہیں گلے لگا لیا۔ ہفتہ کو صدارتی الیکشن کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمن ایوان میں پہنچے تو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی نشست سے اٹھ کر ان کا استقبال کیا اور انہیں گلے لگا لیا اور ساتھ بٹھایا۔ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے بھی اپنی نشست سے کھڑے ہو کر مولانا فضل الرحمن کا استقبال کیا۔