پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری صدارتی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے چار سو انتالیس رکنی ایوان میں آصف علی زرداری نے دو سو اکیاسی ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ یہاں جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی نے ایک سو گیارہ اور مشاہد حسین سید نے چونتیس ووٹ حاصل کیے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں مجموعی طور پر چار سو چھتیس ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، دس ووٹ مسترد کردیئے گئے۔ سرحد اسمبلی میں ایک سو چوبیس ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا، چار ووٹ مسترد کر دیئے گئے۔ آصف علی زرداری نے یہاں سے ایک سو سات ووٹ حاصل کیے ، جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی نے دس اور مشاہد حسین سید تین ووٹ حاصل کرسکے۔ سرحد اسمبلی میں انتخابی قواعد کی کئی بار خلاف ورزی کی گئی جس پر پریزائڈنگ آفیسر جسٹس طارق پرویز نے ارکان کو تنبیہ کی۔ ایک موقع پر پریذائڈنگ آفیسر نے پیپلز پارٹی شیرپاؤ کی رکن نرگس ثمین کی جانب سے بیلٹ پیپر ظاہر کرنے پر پولنگ روک دی تاہم کچھ دیر بعد پولنگ جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ بلوچستان اسمبلی کے تریسٹھ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا ، دو ارکان غیر حاضر رہے۔ یہاں آصف علی زرداری نے انسٹھ ووٹ حاصل کیے۔ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی نے دو اور مشاہد حسین سید نے بھی دو ووٹ حاصل کیے۔ سندھ اسمبلی کے ایک سو چھیاسٹھ میں سے ایک سو تریسٹھ ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہاں آصف علی زرداری نے ایک سو باسٹھ ووٹ حاصل کیے۔ ایک ووٹ مسترد کردیاگیا۔ سندھ اسمبلی میں جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی اور مشاہد حسین سید کوئی ووٹ نہ حاصل کرسکے۔ صدارتی انتخاب میں سینیٹ ،قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل الیکٹورل کالج کے ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ صدارتی الیکشن خفیہ رائے شماری کے تحت بیلٹ پیپر کے ذریعے ہو ا۔ قومی اسمبلی میں چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق نے ریٹرننگ آفیسر۔ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے پریزائڈنگ آفیسرز کی خدمات انجام دیں