پاکستان کے صوبہ سرحد سے القمر آن لائن کے نمائیندوں کو ملنے والی باوثوق اطلاعات کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی سوات کے علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کاروائی جاری ہے اور فورسز نے تحصیل مٹہ اور کبل کے بالائی علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔
اس کاروائی میں کسی جا نی نقصان کی اطلاع نہیںملی۔ادھر تحصیل مٹہ کے علاقے منڈال ڈاگ میں مقامی لوگوں اور شدت پسندوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف کارروائی نہ کر نے کے معاہدے کے بعد شدت پسندوں نے علاقے کا محاصرہ ختم کر دیا ہے۔
شدت پسندوں نے35یر غمالیوں کو بھی رہا کر دیا ہے۔پاک فوج کے اطلاعاتی مرکز آئی ایس پی آر کے مطابق تحصیل کبل اور مٹہ کے علاقہ مینگورہ ، لنڈاکے اور خوازہ خیلہ میں صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک کر فیو میں نر می رہے گی۔
دوسری جانب کرم ایجنسی میں متحارب قبائل کے درمیان لڑائی بدستور جاری ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تین مختلف واقعات میں آٹھ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فائر بندی کے حوالے سے ایک فریق کے چھ قبیلوں کا گرینڈ جرگہ آج ہورہا ہے۔
ایک اور اطلاع کے مطابق شمالی وزیر ستان میں امریکی جاسوس طیارے پر مقامی قبائل نے مشین گنوں سے فائرنگ کی تاہم
جاسوس طیارہ بچ نکلنے میں کامیاب رہا ۔ شمالی وزیر ستان کے علاقے ہم زونی میں امریکی جاسوس طیارے نے صبح چھ بجے پرواز کی ۔مقامی قبائل نے جاسوس طیارے کو مشین گنوں سے نشانہ بنایا ۔ طیارے کوکوئی نقصان نہیں پہنچا۔
صوبہ سرحد سے القمر آن لائن کے مسرت اللہ جان نے بتایا ہے کہ پشاور کے مضافات میں پولیس چیک پوسٹ پر ہفتے کو ہونے والے کار بم حملے کی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے حملہ آور پشاور شہر کی حدود میں کسی مقام کو نشانہ بنانا چاہتا تھا تاہم چیک پوسٹ پر روکے جانے کی وجہ سے اس نے مضافاتی علاقے میں دھماکہ کر دیا۔
بڈابیر سے دس کلومیٹر دور زنگلئی پولیس چوکی کے سامنے ہونے والے اس دھماکے میں تیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔