بھارت نے ممبئی میں ہونے والے حملوں پر پاکستان سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔
بھارتی حکومت نے پاکستان کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان سے احتجاج کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کو کنٹرول نہیں کر رہا ہے۔
پاکستان نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔
پاکستان نے ممبئی کے واقعات میں ملوث ہونے سے متلعق بھارتی میڈیا کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ دفتر خارجہ نے نئی دہلی میں خارجہ امور کے خصوصی سیکرٹری سے پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات کی تصدیق کی ہے ۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ممبئی دھماکوں کے تناظر میں پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے مابین سفارتی رابطے معمول کے مطابق جاری ہیں۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر نے بھی پاکستانی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کی ۔ملاقات میں سیکریٹری خارجہ نے بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔
انہوں نے بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنے تعاون کے عزم کو دہرایا ۔ سیکریٹری خارجہ نے بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان پر عائد کئے جانے والے الزامات کو بھی مسترد کیا۔
اس سے پہلے پاکستان کے صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ دہشتگرد علاقے کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انڈیا کو ممبئی میں ہونے والی دہشتگردی کی سزا پاکستان کو دینے کی کوششوں سے احتراز کرنا چاہیے۔
پاکستانی صدر نے بھارتی وزیر اعظم سے کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج آنےسے پہلے ہی پاکستان کو ممبئی میں ہونے والے واقعات کا ذمہ دار قرار دینا ان غیر ریاستی شرپسند عناصر کےعزائم کی تکمیل ہو گی جو علاقے میں جنگ کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
برطانوی اخبار فائنشنل ٹائمز کو دیئے گئےایک خصوصی انٹرویو میں صدر آصف زرداری نے کہا کہ غیر ریاستی شرپسند عناصر کی اشتعال انگیزی دو نیوکلیئر ریاستوں کو جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ ممبئی میں دہشت گردی کے واقعات میں حکومت پاکستان کے ملوث ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔
واشنگٹن میں وائٹ ہائوس کی ترجمان ڈانا پرینو نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ، ممبئی دہشت گردی کی تحقیقات جاری ہے ، اور امریکہ کو تاحال ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ پاکستانی حکومت اس واقعے میں ملوث ہے۔
ڈانا پرینو نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ممبئی دہشت گردی کی تحقیقات کےلئے تعاون کی پیشکش کی گئی ہے جس کا امریکہ خیر مقدم کرتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کو سراہتا ہے۔