پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے افغان سرحد کے قریب ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا ہے جس کے بعد فوج کے ترجمان کے مطابق بارہ فوجی ہلاک اور دس زحمی ہوئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں 10شدت پسند مارے گئے۔
اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اتوار کی شام افغان سرحد کے قریب کژہ مداخیل سے میرانشاہ جانے والے قافلے پر مقامی طالبان نے وچہ بی بی کے مقام پر پہاڑی سلسلوں سے راکٹوں اور خود ہیھتیاروں سے حملے شروع کیے ہیں۔جس کے نتیجہ میں جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق قافلے پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی شروع کی جس میں کوبرا ہیلی کاپٹر کے علاوہ توپخانے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہاڑی سلسلوں میں بھر پور حملے ہو رہے ہیں۔
حافظ گل بہادر کے مقامی کمانڈر نے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی
اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں مولوی نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے کہا تھا کہ ان کا حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ غیر موثر ہوچکا ہے اور وہ اس وقت تک سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں گے جب تک علاقے میں امریکی ڈرون حملے بند نہیں ہوتے۔
دو دن پہلے جنوبی وزیرستان ہی میں امریکی جاسوس طیاروں نے ایک ہی روز میں دو مرتبہ محسود کے علاقے میں بیت اللہ گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا جن میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان حملوں حملےمیں طالبان جنگجو بھی مارے گئےتھےجس کی تصدیق عسکریت پسند بھی کر چکے ہیں۔