پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ بیت اللہ محسود گروپ کے طالبان کے ایک ٹھکانے پر مبینہ امریکی جاسوس طیارے سے تین میزائل فائر کیے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔جبکہ خیبر اور اورکزئی ایجنسی کے سرحدی علاقے چپرفیروز خیل میں ایک پاکستانی ہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہونے کی اطلاع ہے جس میں کم ازکم پانچ سیکورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوگئے ہیں
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح دس بجے قریب جنوبی وزیرستان کے سروکئی سب ڈویژن کے ایک دور افتادہ علاقے موچی خیل میں پیش آیا۔
القمر آن لائن ذرائع کے مطابق مبینہ امریکی جاسوس طیارے سے بیت اللہ گروپ کے طالبان کے ایک ٹھکانے پر تین میزائل داغے گئے جس سے وہاں موجود آٹھ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں ۔ ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کے بارے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا ان میں غیر ملکی شامل ہیں یا نہیں۔
القمر آن لائن ذرائع کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹھکانہ بیت اللہ گروپ کے ایک کمانڈر مفتی نور ولی کے زیر کنٹرول تھا جو تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی شورٰی کا رکن بھی ہے۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ حملے کے وقت نور ولی خود وہاں موجود تھے یا نہیں۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب پاکستانی فوج نےجنوبی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے خلاف ’ آپریشن راہ نجات‘ شروع کر رکھا ہے۔ اس آپریشن کو شروع ہوئے دو ہفتے ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک فوج کو بیت اللہ محسود کے خلاف کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے
دوسری طرف خیبر اور اورکزئی ایجنسی کے سرحدی علاقے چپرفیروز خیل میں ایک پاکستانی ہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہونے کی اطلاع ہے جس میں کم ازکم پانچ سیکورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوگئے ہیں
میڈیا ذرائع کے مطابق شدت پسندوں نے سیکورٹی فورسز کے ہیلی کاپٹر پرفائرنگ کی ہے جس سے ہیلی کاپٹر کو نقصان پہنچاہے ۔
سرکاری ذرائع نے اورکزئی ایجنسی میں ہیلی کاپٹر گرنے کی تصدیق کی ہے تاہم کسی جانی نقصان کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر فائرنگ نہیں کی گئی بلکہ وہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا ۔سرکاری ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے میں جانی نقصان کی ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔