آج نہ کوئی لمبی بات کرنے کو جی چاہتا ہے اور نہ ہی کسی مدلل گفتگو کی ضرورت ہے کیونکہ جب آپ کے ارد گرد غیر مدلل واقعات رونما ہو رہے ہوں وہاں دلیل کار زیاں لگتا ہے۔
آج دسمبر کی تیس تاریخ ہے اور ایک روز بعد تقویم ماہ و سال ایک اور نئے سال کو جنم دے گی لیکن اس جاتے ہوئے سال نے ایک طرف پاکستانی عوام سے انکی دلعزیز سیاسی رہنما بے نظیر بھٹو کو چھین لیا اور دوسری طرف خود اسی پیپلز پارٹی نے خود اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی شسکت و ریخت کی بنیاد رکھ دی ہے۔
بے نظیر کے سوئم کے موقع پر پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا ایک اجلاس ہوا جس کے بعد جو فیصلے سنائے گئے ان میں سے ایک فیصلہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے جو بلا شبہ جماعت کا فیصلہ ہے اور انہیں اسکا اختیار ہے لیکن کچھ فیصلے ایسے ہیں جو زمینی حقائق کے بر عکس جزباتی زیادہ ہیں۔
پیپلز پارٹی پر جو ایک الزام بڑے بھٹو صاحب کے بعد سے لگتا چلا آ رہا تھا اور جسکی وجہ سے اس جماعت کا سنجیدہ طبقہ پارٹی کو چھوڑ گیا وہ یہ تھا کہ پیپلزپارٹی خاندانی اور موروثی پارٹی بن گئی ہے اور اب اس فیصلے سے اس جماعت کے مخالفین کے ہاتھ ایک بہت بڑا ہتھیار آ جائے گا کہ یہ جماعت جو عوامی ہونے کا لنادہ اوڑھے ہوئے ہے وہ اندر سے ایک موروثی اور آمریت مزاج کی جماعت ہے جس کے ارکان تو کجا اکابرین بھی قائد کے فیصلے سے اختلاف نہیں کر سکتے۔
مجھ جیسے لکھنے والوں پر پہلے پیپلز پارٹی کا فرد ہونے کا الزام لگتا رہا اور پھر بہت سے حلقے ہمیں بھٹو نظریے کا اسیر کہتے رہے حالانکہ یہ دونوں باتیں فقط الزامات ہیں ورنہ ہم جیسے قلم کار نہ تو کسی نظریے کے اسیر ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی شخصیت پرستی کے مرض میں مبتلا۔
ہم لکھنے والے تو قلم سے وفاداری کا حلف اپنے رب اور اس قلم کے مالک باب شہر علم امیرالمومین علی ابن ابی طالب کے سامنے اٹھا چکے ہیں اس لیئے بات صرف وہ کہتے ہیں جو ہماری دانست میں درست ہوتی ہے اور آج بھی ہم اپنے اسی موقف پر قائم ہیں۔
پیپلز پارٹی کے فیصلہ ساز لوگ شاید بھارت میں نہرو خاندان کے سیاسی فیصلے اور فلسفے کو اپنے حق میں سمجھتے ہیں کہ جس کے مطابق راجیو کے بعد سونیا اور اب ان کا بیٹا راہول پارٹی قیادت سنبھالنے کے قریب ہے۔
اصل کہانی بے نظیر کی وصیت کے مطابق یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر آصف زرداری کو جماعت کا سربراہ چاہتی تھیں لیکن پارٹی کے اجلاس میں خود آصف زرداری نے اپنے بیٹے بلاول کو پارٹی کا چیرمین بنا دیا اور خود شریک چیرمین بن گئے اور شاہی فرمان کے مصداق اجلاس میں شریک کسی ایک شخص نے بھی اس فیصلے سے اختلاف کی جرآت نہیں کی۔
ایک اہم قانونی اور شرعی مسلہ یہ ہے اور اس پر روشنی فقہا ہی ڈال سکتے ہیں کہ کیا اول تو کسی کو کسی کی وصیت تبدیل کرنے کی اجازت ہے۔ اور کیا بیوی کی وفات کے بعد شوہر کسی عام جلسے یا پارٹی اجلاس میں بیٹھ کر اپنی مرضی کے مطابق اس وصیت کو بدل سکتا ہے۔
یہ چونکہ میرا موضوع نہیں اس لیئے اس بحث کو دینی علوم کے ماہرین کے لیئے چھوڑ رہا ہوں۔ مجھے صرف دو تین باتیں بنیادی کرنی ہیں۔
ایک تو یہ کہ وفاق کی علامت بے نظیر کا متبادل ایک ایسا بچہ جسکو شاید سیاسیات کی ابجد کا بھی علم نہیں اور جو سیاسیات کی توضیح بھی نہ کر سکتا ہو?
اسکو اگر کوئی اہمیت ہے تو وہ بے نظیر کا بیٹا اور ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ہونا ہے جسکی سیاسی عمل میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ خود آصف زرداری کی پاکستان میں جو شہرت رہی ہے وہ انکے گھوڑوں کے اصطبل اور مسٹر ٹین پرسنٹ کی وجہ سے ہے اور اسی شہرت نے پارٹی کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
اب ایسے حالات میں جب جزباتی عرصہ ختم ہو گا تو پارٹی کا کیا حال ہو گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اس سارے واقعے میں اگر کسی کا کوئی نقصان ہوا ہے تو وہ امین فہیم ہیں جو شاید امین تو ضرور ہوں کہ انہوں نے ایک عرسے تک بی بی کی عدم موجودگی میں بھی جماعت کی امانت کو سنبھالا ہے لیکن میرے خیال میں وہ فہیم ہر گز نہیں ہیں۔
پیپلز پارٹی کا مستعمل اردو ترجمہ ''عوامی جماعت'' ہے لیکن ایسے فیصلوں سے یہ عوامی ہر گز نہیں بلکہ خاندانی،موروثی اور آمرانہ مزاج کی جماعت لگتی ہے کیونکہ ایسے فیصلوں سے قطع نظر خود جماعت میں انتخاب کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔
انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ،بلاول کو چیر مین بنانے کا فیصلہ اور آصف زرداری کو شریک چیر مین بنانے کا فیصلہ۔ یہ سب میرے نزدیک جزباتی فیصلے ہیں اور کسی مشیر نے شاید انہیں یہ بتایا ہے کہ وہ ہمدردی کا ووٹ حاصل کر سکتے ہیں لیکن شاید انہیں یہ علم نہیں کہ سیاست نہایت ظالمانہ کھیل ہے جو حساب کا فارمولا ہر گز نہیں جس مییں دو جمع دو چار ہوتے ہیں بلکہ سیاست میں دو جمع دو صفر کا بھی امکان رہتا ہے۔
میرے اپنے خیال میں ان فیصلوں نے پارٹی میں شکست و ریخت کی بنیاد رکھ دی ہے۔