آمریت کی بدبو ہر سمت پھیلنے لگی ہے اور آزاد ی اظہار پر قابل مذمت حملہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ جی ایچ کیو نے فوری طور پر اپنے کھسیانے وزیراطلاعات کو جائے وقوعہ پر روانہ کرکے اور خود مشرف سے اس کی مذمت کرواکے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ سب کچھ فوجی حکا م کی مرضی کے بغیر ہوا ہے، لیکن یہ ایسے ہی ہے جیسے چیف جسٹس کو پانچ گھنٹے تک فوجی بیرکوں میں بٹھائے رکھا اور بعد میں کہا گیا کہ صدر نے ان سے ''ملاقات'' کی ہے۔ایسے لگتا ہے کہ بے تحاشہ طاقت میں مضمر خرابی اپنا رنگ دکھانے لگی ہے لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ چاپلوسوں کی پیداوار کے لیے مشہور سیاسی و بیوروکرٹیک زمین ان دنوں اچھی فصل نہیں اُٹھا رہی اور صرف سندھ کے نیم مجہول وزیراعلی اور سودے باز چوہدریوں کے سپوت وزیراعلی پنجاب ہی منمنا رہے ہیں ۔پہلی مرتبہ سینکڑوں موقع پرست جاگیردار، بکائو سردار اورہمیشہ کے چار چشم موسمی سیاستدان تماشہ دیکھنے پر متفق ہوچکے ہیں۔کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ شریف الدین پیرزادہ اور ایس ایم ظفر بھی اس بحران میں فوج اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ چھوڑ جائیں گے بلکہ شیخ رشید اور شیر افگن نیازی بھی ہونٹ سی لیں گے۔
پاکستان کے جرنیل اپنے ہی گورکھ دھندے میں پھنس کر رہ گئے ہیں اورایک معطل شدہ جج نے دنیا کے طاقتور ترین ملکوں اور حکمرانوں کے پسندیدہ جرنیل کو شکست فاش دیدی ہے۔اگر مشرف اور اس کے فوجی ساتھیوں کی اس غلطی کو کارگل مہم جوئی سے زیادہ سنگین غلطی قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ کارگل محاذ پر رُسوا ہوتے ہوئے جرنیلوں کو بچانے کے لیے اس وقت ایک نواز شریف موجود تھا لیکن اس وقت فوج کے پاس کوئی ایسا مہرہ نہیں جو انہیں''مکمل رسوائی کے اس محاذ'' سے بچا سکے۔اگرچہ ایک موہوم سی اُمید جی ایچ کیو کو سپریم جوڈیشل کونسل کے بعض ججوں سے ہے لیکن پھر ان ججوں کو ساری زندگی اس تنقید سے کون بچائے گا جو قبر تک ان کا پیچھا کرے گی؟
پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں جب کبھی فوج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو اس کو بچانے والوں کا ایک جم غفیر ہر وقت دستیاب رہا بلکہ لاتعداد ریٹائرڈ فوجی جرنیل اور قانون دان ''مقدس'' قرار دئیے اس ادارے کی مدد کے لیے موجود ملتے تھے۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کی مخصوص فوجی مہم جوئی اور خفیہ اداروں میں سیاسی مہمات کی سرعام کوششوں کو رواج دینے والے سابق جنرل حمید گُل بھی اپنے بھائی بندوں کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں اور انہوں نے گذشتہ روز سپریم کورٹ کے باہر پولیس کے دھکے کھائے ہیں۔
پیر پگاڑہ سے لیکر چوہدری شجاعت حسین تک نے جی ایچ کیو اور مہم جو جرنیلوں سے اس کیس کے حوالے سے تقریباً لاتعلقی کا رویہ اپنا رکھا ہے جبکہ اچانک پاکستان میں جاگیرداروں اور سیاسی وڈیروں کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجانے والے قائد محترم الطاف حسین جو عام لوگوں کے بچون کی سالگرہ کی مبارکباد کے لیے بھی پاکستان کے معروف ٹی وی چینلز کا استعمال کرتے ہیں، فوج کے عدلیہ پر اس خوفناک وار پر خاموش ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ الطاف حسین نے نوشتہ ء دیوار پڑھ لیا ہے اور انہیں اب یقین ہوچلا ہے کہ نہ فوجی اقتدار میں رہیں گے اور نہ ہی ان کی جماعت۔حیران کن بات ہے کہ محض کراچی میں گلی کوچے کے جھگڑوں کے بعد جناب الطاف حسین اپنی جماعت کو استعفے دلوانے تک لے آتے تھے لیکن جب پاکستان کی سالمیت دائو پر لگی ہوئی ہے تو ان کی فکری نشستوں میں بھی کوئی ایک جملہ پاکستان کی گھری ہوئی عدلیہ کے لیے نہیں کہا جاسکا۔
آنے والوں دنوں کا منظر نامہ بہت حد تک کراہت آمیز محسوس ہو رہا ہے اور جی ایچ کیو اکیس مارچ تک پتہ نہیں کتنے محاذ کھولتا ہے اور کہاں کہاں پسپا ہوتا ہے؟ اس کی کوشش ہوگی کہ کسی طرح چیف جسٹس سے ساتھ معاملات کا فیصلہ کیا جائے اور زخم چاٹ رہی عدلیہ کے ساتھ مستقبل میں کس طرح برتائو کیا جائے۔یہ بھی ایک اطلاح ہے کہ اٹارنی جنرل سندھ نے مشرف کے اس اقدام کی مخالفت میں استعفی دیدیا تھا لیکن ایم کیو ایم کی دھمکی پر انہیں اپنا استعفی واپس لینا پڑا۔دوسری طرف ''خوش بیاں'' وزیر قانون وصی ظفر کو ان کی وزارت سے تقریباً فارغ کیا جاچکا ہے بس اب انہیں سرکاری طور پر مطلع کرنا باقی ہے۔
پاکستانی سیاست کے ماہرین کا خیال ہے کہ مشرف اس دلدل سے شاید نہ نکل سکیں اور فوجی کورکمانڈروں کو اتفاق ِ رائے سے انہیں صدرات اور فوج کی کمانڈ چھوڑ دینے کا مشورہ دیناپڑے کیونکہ ہم ایوب خان کا ایسا '' اندرونی'' انجام دیکھ چکے ہیں۔فوج اپنے وسیع مفادات کے پھیلائو اور ان کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی ایسی سودے بازی کا حصہ بھی بن سکتی ہے جس میں مشرف شامل نہ ہوں۔کیونکہ اس نوعیت کی صورتحال پیدا ہوجانے کے بعد ہمیشہ فوج کا خوف بڑھ جاتا ہے کہ کوئی حمود الرحمن قسم کا کمیشن اس کا احتساب کرنا نہ شروع کردے اور ٧١ء کے بعد بہت زیادہ تگ و دو سے حاصل کی گئی عزت اور تقدس کا وجود خطرے میں پڑ جائے۔اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ضیاء الحق سے لے کر آج تک جس تندہی کے ساتھ فوج نے اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے اور ان کو وسعت دی ہے، ان کا تقاضہ ہے کہ فوج کو فیڈریشن، صوبوں، ملکی آئین، سیاسی شخصیات اور حتی کہ عوام سے بھی زیادہ ترجیح دی جائے تاکہ کوئی بھی سرپھرا سیاستدان یا ریفارمسٹ اس کے مفادات کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھ سکے۔بالآخر اس مشق نے خوفناک نتائج برآمد کرنا شروع کردئیے ہیں اور توپوں کا منہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف ہے۔ابھی ہم بلوچستان پر بمباری سے پوری طرح فارغ نہیں ہوئے تھے کہ قبائلی علاقوں میں ضرورت آن پڑی اورپھر جی ایچ کیو کے حملہ وارانہ نقشہ سازوں کو اپنے اہداف کی نشاندہی کرتے ہوئے سپریم کی اینٹ سے اینٹ بجانا پڑی۔اس کے بعد جو حالات نظر آرہے ہیں اگر بروقت ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو شاید ''وسیع'' پیمانے پر اینٹ سے اینٹ بجانا پڑے۔