‘‘
ہم ملک بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو‘‘ ہم عدل بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو‘‘ یہ نعرے کئی دن سے سُن بھی رہی تھی اور پڑھ بھی رہی تھی اور اسی دوران ایک بات حوصلہ بھی بڑھاتی تھی کہ کوئی طبقہ تو ایسا ہے جو اس ملک میں آمریت اور جمہوریت دشمنی کو شکست دینے اور عدل و عدلیہ کو بچانے نکلا ہے کیونکہ ایک بڑا حصہ اپنے ملک کا یا تو بے حس ہو چکا ہے یا پھر اپنے پیٹ کے جہنم کو بھرنے اور بچوں کی سکولوں کی فیسیں دینے کی فکر میں ایسا مصروف ہے کہ اسے اپنے ارد گرد کی کوئی فکر ہی نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ میرا دوسرا رویہ یہ رہا کہ میں ایک پاکستانی ھونے کے ناطے دنیا کے سامنے شرمسار تھی ، کہ آج ھم سب کو یہ دن بھی دیکھنا پڑا جب انصاف دلانے والے خود اپنے لیئے انصاف لینے سڑکوں پہ نکل آئے تھے ۔ اور ھمارے ھی لاھور کے گورنر سلمان تاثیر یہ کہتے ھیں کہ پارلیمان میں حل ھونے والے مسلے سڑکوں پر نہیں آنے چاہیئے۔
اب اُن کی سادہ دلی کے قربان جایئے کہ آپ کو مسائل کا علم ھی نہیں ھے کہ کیوں عوام سڑکوں پر آ گئی ھے ۔ اگر ناگوار نہ ھو تو کیا کہہ دوں کہ آپ اور آپ کی پارلیمان سارے مسائل کو حل کرنے میں تجاھل عارفانہ سے کام لیتے ھوئے اپنے مفادات میں ایسی سیر شکم ھوئی ھے کہ اُسے اور کوئی نظر ھی نہیں آ رھا ۔ ایسے میں ایک دیوانہ نہیں پوری قوم دیوانی ھو جاتی ھے ۔

جیسے ملک کے کونے کونے سے مردوں،عورتوں، مزدوروں، طلبا،بزرگوں، ریٹائرڈ لوگوں اور زندگی کے ہر شعبے کے افراد نے بغیر کسی حوالے اور تشخص کے نہ صرف لانگ مارچ میں حصہ لیا ۔بلکہ پوری دنیا کو یہ بھی دکھا دیا کہ ھم اپنے حقوق کے لیئے گھروں سے نکل کر نہ صرف سڑکوں پر آ سکتے ھیں بلکہ دھرنا بھی مار کر بیٹھ سکتے ھیں اور وہ بھی ایسا پُر امن کہ اس لانگ مارچ کے دشمن بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔
آج یہ سب لکھتے ھوئے مجھے اتنی خوشی ھورھی ھے کہ دل چاھا کہ آپ سب سے بھی بانٹ لوں ۔ تقریباُ ھم سب کی پوری رات ٹی وی پر لانگ مارچ دیکھتے گزری تھی اور پھر ھم سب نے آج صبح کو پاکستانی عوام کے جاگنے کا منظر بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دل سے محسوس کیا ۔ جب اعتزاز احسن جیسے دیوانے کی کال پر لاکھوں کا مجمع ایک لگن کے ساتھ اسلام آباد پہنچا تو دنیا حیران رہ گئی ۔ ایسا کبھی پاکستان کی تاریخ میں نہیں ھوا تھا کہ کوئی کسی پارٹی سے نہیں آیا تھا بلکہ ساری پارٹیاں ایک ھی پلیٹ فارم پر کھڑی تھیں ۔ ھر طرف سے یہی تین نعرے ھی بلند ھو رھے تھے ۔ جس میں ایک نعرہ تھا “گو مشرف گو “ تھا دوسرا نعرہ تھا “ اعتزاز تیرے جانثار ، بے شمار بے شمار“ اور تیسرا نعرہ جو بلوچستان سے سکھر،سکھر سے ملتان ، ملتان سے لاہور،لاہور سے راولپنڈی اور اسلام آباد تک سنائی دیتا رہا کہ ‘‘ ہم ملک بچانے نکلے ہیں آؤ ہمارے ساتھ چلو‘‘۔

آج پاکستانی عوام نے ایسی دیوانی قوم کا ثبوت دیا جس پر صرف فخر ھی کیاجاسکتا ھے ۔ پر امن طریقے سے اسلام آباد آ ئے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور پُر امن طریقے سے گھروں کو واپس چلے گئے ۔ ایک شیشہ تک نہ ٹوٹا ، ایک لاٹھی تک نہ چلی ، ایک زخمی بھی نہ ھوا ۔ دل ٹوٹا تو ان عناصر کا جو اس مارچ کو ناکام دیکھنا چاہتے تھے اور زخم لگا ہے تو انکے سینے پر جو ان وکیلوں کو اور احتجاج کرنے والے ان دیوانوں کو ‘‘نا عاقبت اندیش‘‘ کہتے تھے۔
کیا یہ سب ان عناصر کو اور حکومتٍ وقت کو بتا دینے کے لیئے کافی نہیں کہ کوئی بھی طاقت یا قوت حکومت وقت کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتی لیکن اسکے باوجود اس لانگ مارچ نے اس بے محابا طاقت کا مقابلہ بھی کیا اور امن کے نام پر اس پر فتح بھی پائی۔کچھ طلبہ نے جوش و جذبے میں ایوان صدر تک جانے کے لیئے رکاوٹیں عبور کرنی چاھی اور دھرنا مارنے کا اعلان نہ ھونے پر شرکاء کو تھوڑی سی بدمزگی کا سامنا کرنا پڑا ۔ جس کہ وجہ سے اعتزاز احسن کو اپنے خلاف نعروں کے ساتھ یہ بھی سننا پڑا کہ وہ بھی سرکاری طاقتوں کے سامنے بک گئے ھیں ۔
اور پھر جو انہوں نے تقریر کی اُسے سن کر مجھے خلیل جبران کی تحریر “تختہ دار “ بہت یاد آئی ۔ جس میں اُس نے لکھا تھا کہ “ میں نے چیخ چیخ کر کہا کہ “ میں چاھتا ھوں کہ تم مجھے صلیب پر چڑھا دو “ ۔ لوگوں نے جواب دیا “ ھم تیرا خون اپنے سر کیوں لیں ؟ ۔ میں نے اُن سے کہا کہ “ اگر تم نے دیوانوں کو صلیب پر نہ چڑھایا تو تم اپنے اوپر فخر کیسے کر سکو گے ؟ ۔ انہوں نے میری بات مان لی اور مجھے سولی پر چڑھا دیا ۔ اور مجھے جانے کیوں یہ اعتزاز احسن وہی دیوانہ لگا جس نے قومی وقار کو بلند رکھنے کے لیئے خود کو لوگوں کے الزاموں کی سولی پر چڑھا دیا اور اپنی تحریک کو بچا لے گیا یہ کہہ کر کہ ھمارے وسائل اتنے نہیں کہ ھم دھرنا مارنے کو برداشت کر سکیں ۔
وکلاء کے رد عمل کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہےکہ اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح کے نعرے لگائے گئے ہیں اس سے ان کو دکھ ہوا ہے۔ ان کے بقول یہ نعرے دراصل ان کی طرف اشارے ہیں۔انہوں نے خطاب میں کہا کہ خدا قسم کسی نے کوئی سودے بازی نہیں بلکہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم دھرنا دیں لیکن جو بیٹھا چاہتا ہے وہ بیٹھ سکتا ہے۔
یہ لانگ مارچ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی عوام کا شعور بیدار ہو گیا ہے اور انہیں دوست دشمن کی پہچان ہو گئی ہے۔اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ سکھر سے چل کر اسلام آباد تک جانے والے لاکھوں لوگوں میں سے کسی ایک نے کوئی بے ہنگم بات ہوئی ہویا اپنے قائد کی کوئی بات نہ مانی ھو ۔ 
اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ ھماری تحریک دہشت اور تشدد پر یقین نہیں رکھتی اور واقعی انہوں نے یہ ثابت بھی کر دیا ۔ اگر وہ دھرنے کی اور ایوان صدر جانے کی اجازت دے دیتےتوجانے کتنا جانی نقصان ھو جانا تھا۔ انہوں نے دور رس صحیع الفکر انسان ھوتے ھوئے سب کو خطرناک قسم کی محاذ آرائی سے بچا لیا اور حکومت اور اُن کے حامیوں کو یہ باور بھی کروا دیا کہ لاکھوں لوگوں کا اسلام آباد تک پہنچ جانا ہی لانگ مارچ کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔