کسی بھی ملک کا وقار اُس کے سایئنسدان ، ڈاکٹر ، انجینیر ، ادیب ، شاعر اور مزدور ھوتےھیں اور باقی سب وقت کے ساتھ بدلتے رھتے ھیں جیسے حکمران اور حکومتی مشینیریاں ۔ لیکن اپنا پاکستان خطہ ارض پر نیپال اور برما سے بھی نایاب ترین ھے کہ ھماری عزت قومی چور اور ڈاکوؤں سے بنی ھوئی ھے ۔
ھم وہ لوگ ھیں جو برما کی حکومت کو اپنی عوام کے خیر خواہ نہیں سمجھتے کہ انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیئے اپنی غربت کو بہت جانا تھا ۔ کیونکہ ھماری حکومت کو ھر موقع پر ھر ایک کے سامنے دامن پھیلا کر مانگنے کی عادت ھے ۔ اب یہ عادت اتنی پختہ ھو چکی ھے کہ اگر کبھی ایسا موقع آیا بھی ھے ، جیسے پچھلے سال اناج میں خود کفیل ھو سکتے تھے تو حکومت نے گندم پہلے ساری کی ساری باھر بھیج دی پھر بعد میں وہی گندم خریدنے کے لیئے جھولیاں پھیلا دی ۔
ھماری حکومت کا یہ بھکاری مزاج آج چور ڈاکوؤں کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل کر ساری دنیا کو یہ بتا رھا ھے کہ ھمیں نہ ڈاکٹر قدیر چاھیئے ،نہ اعتزاز چاھیئے بلکہ ھمیں تو اپنےھی جیسے چور ، لٹیرے ، ڈاکو اور بھکاری چاھئیں جو ھمارے کام میں ھمارا ھاتھ بٹا سکیں ۔

دوستو کیا کرؤں آج دل اتنا رنجیدہ ھے کہ ھزار کوشش پر بھی ڈاکٹر قدیر خان کی تصویر آنکھوں سے ھٹتی ھی نہیں ھے ۔جس میں وہ ہسپتال کے بستر پر لیٹے باتیں کرتے ھوئےمسکرانے کی ناکام سی کوشش کر رھے ھیں ۔ ایساکرتے ھوئے بھی ایک چمک اُن کا احاطہ کیئے ھوئے ھے ۔ میں سوچ رھی ھوں کہ کاش وہ پاکستان آئے ھی نہ ھوتے ۔ کیاضرورت تھی انہیں اٍس قدر خیر خواھی اور وطن پرستی کی کہ صرف تین ھزار کی تنخواہ پر سارے زمانے کے عیش چھوڑ کر اپنے ملک واپس چلے آئے ۔ چلو آ ھی گئے تھے کہ تو پاکستان کو دنیا کا پہلا ایٹمی مسلم ملک بنانے کی کیا ضرورت تھی کہ پوری دنیا کی آنکھ کا نور ھونے کی بجائے “شہتیر“ ھوگئے ۔
جی چاھتا ھے کہ آج میں آپ سب کو اپنے ساتھ وھاں لیئے چلوں جہاں ڈاکٹر قدیر خان جیسے “لعل“ اپنا سفر شروع کرتے ھیں اور پھر ایسے “ گوہر “ اپنی نایابی کا سفر جبراً ختم کرتے ھوئے پہلے “ زندہ درگور “ اور پھر “ گور“ میں اتر جاتے ھیں اور ھم آپ جیسے بھی انہیں اُن کے سفر سے نہیں بچا پاتے ۔ 
وقت موت کی تاریخ لکھنے کے لیئے مناسب دن کی آڑ میں اپنی سانسیں گنتا ھے اور حاکمٍ وقت اُس کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کا آرڈر نہیں کرتا کیونکہ ایسے لوگوں کا سب سے بڑا جرم یہ ھوتا ھے کہ وہ اُن کی طرح سند یافتہ چور یا ڈاکو نہیں ھوتے ۔
ڈاکٹر قدیر خان 1936ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ وہ پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان آگئےـ ڈاکٹر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے مل کر انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی ۔مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔

بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ـڈاکٹر قدیر خان کو وقت بوقت 13 طلائی تمغے ملے، انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں ـ
انیس سو ترانوے میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند دی تھی۔

چودہ اگست 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا۔
2004ء میں ان پر ایٹمی آلات دوسرے اسلامی ممالک کو فروخت کرنے کا الزام لگا۔ جس کے جواب میں انہوں نے یہ ناقابل یقین اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسا کیا ہے اور حکومت پاکستان کا یا فوج کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں رہا ۔ اس کے بعد قدیر خان کو نظر بند کر دیا گیا۔ اگست 2006ء میں انکشاف ہوا کہ قدیر خان کو مثانے کا کینسر ہے ۔
اپوزیشن مشرف حکومت پر الزام لگاتی چلی آرہی ہے کہ قدیر خان کو سلو پوائزن دیا جا رہا ہے لیکن حیرت ھمیشہ رھی کہ وہ کبھی سڑکوں پر نہیں آئی اور نہ کبھی دھرنے کی باتیں کی گئی ھیں ۔ بلکہ اگر آپ اُس دوران کی اخبارات اُٹھا کر دیکھیں تو کوئی دردمند دھائی ڈالتا بھی نظر نہیں آتا ۔
حال ھی میں ڈائریکٹرجنرل اسٹریٹجک پلاننگ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد قدوائی نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ حکومت کے پاس ڈاکٹر عبدالقدیر کے ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے تمام ثبوت موجود ہیں ۔جبکہ سیکورٹی فورسز ، اسٹریٹجک اینڈ پلاننگ کمیشن اور آئی ایس آئی شمالی کوریا کو سینٹری فیوجز کی منتقلی میں ملوث نہیں ہیں۔
ڈاکٹر قدیر خان نے اٍس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا خالد قدوائی نے صرف جھوٹ بولا ہے اور اُن کا اُس وقت میڈیا پر دیا جانے والا بیان حکومت کی طرف سے تھمایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس بیان کے بعدتمام مسائل ختم ہو جائینگے اور سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ تاہم میں انہوں نے ایک فقرہ شامل کیا تھا "I did it in good faith " ۔
وہ یہ بھی کہتے ھیں کہ شمالی کوریانے 2000ء میں پاکستان سے استعمال شدہ سنٹری فیوجز حاصل کیے تھے ۔ اُس وقت ملک کااقتدار صدر پرویزمشرف کے پاس تھااوراس سلسلے میں متعلقہ سامان شمالی کوریاکے جہاز میں پاک فوج کے زیرنگرانی بھجوایا گیا تھا ۔ اور فوج کو اس بات کا پورا علم تھا کہ طیارے میں کیا سامان جارہا ہے جبکہ حکومت پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اسے یا ملک کی فوج کو ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ کا بالکل علم نہیں تھا ۔ اب یہ کتنی حیرت کی بات ھے کہ زندگی ایک ھی کے گرد تنگ کی جا رھی ھیں اور باقی سب سچ کو زنجیروں میں رقص کرتا ھوا دیکھ رھے ھیں ۔
سب جانتے ھیں کہ پاکستان نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کی نگرانی سے باہر ھے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عالمی ادارے پاکستان کے ان سائنسدانوں کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہے جو ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ملوث رہے ہوں ۔ لیکن انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا ۔

اب پاکستان چاھتا تو اپنے وقار کی حفاظت کر سکتا تھا اور یہ بات تو سب جانتے ھی ھیں کہ جوہری معاملات کا سارا کنٹرول فوج کے پاس ھوتا ہے اور ھمیشہ رھا ھے ۔ خدا کے لیئے سوچیئے کہ سینٹری فیوج کئی کئی ٹن کے ہوتے ہیں وہ قدیر خان اکیلے کیسے بھجوا سکتے تھے ۔ کیسے بھلا پاکستان کے صدر اور پی ایم کی اجازت کے بغیر یہ سب ھو جاتا ۔اٍس بات پر قدیر خان کہتے ھیں کہ حکومت کمیشن بنائے تو حکومت سنی ان سنی کر رھی ھے ۔ حالانکہ حکومتٍ پاکستان کا سب سے من پسند کام یہی ھے لیکن اٍس معاملے میں تاخیر سچ کو ھوا دے رھی ھے ۔
عبدالقادر حسن اپنے کالم “ ڈاکٹر قدیر خان کی خطائیں “ میں لکھتے ھیں کہ “ ہمیں یاد ہے کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے کہا تھا کہ ”ڈاکٹر! مجھے بم چاہئے، خریدو، چراؤیا سمگل کرو، جو جی چاہے کرو، پاکستان کو بم دیدو، ہمارا دشمن ہماری تاک میں ہے“۔ اپنے کالم کے آخر میں ڈاکٹر قدیر خان کا بیان لکھتے ھیں کہ “ مغربی تہذیب کے سرپرست مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں ۔ ان کی نظر میں ہر مسلمان دہشت گرد ہے۔ میں نے جوہری توانائی پر مغرب کی اجارہ داری ختم کی ہے اور پاکستان واحد ملک ہے جس نے یہ قوت حاصل کی ہے اس لئے وہ مجھے بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے “۔ 
شاید یہی وجہ ھے کہ کہیں وہ اٍس سے زیادہ سچ نہ کہہ دیں ، اُن کو عدالت اور حکومت کی طرف سے یہ حکم ملا ھے کہ وہ اُن کی اجازت کے بغیر کسی میڈیا کو انٹرویو نہیں دے سکیں گے ۔ تو دوستو یہ ھے وہ گڈ فیتھ جو وہ اپنے ملک و قوم کی محبت میں ایک روگ کی طرح پال رھے ھیں ۔ اپنے ھی وطن میں ، اپنے ھی ھم وطنوں میں، اپنے ھی گھر میں نظر بند اور صرف اپنے ھی گھر والوں سے دور ، حب الوطنی کی سزا کاٹ رھے ھیں ۔
دوستو زرا سوچیں کہ ھمارے پڑوسی ملک نے بھی تو یہی کام کیا ہے بلکہ ھم سے پہلے کیا تھا ، مگر مغربی دنیا اس کے خلاف کبھی نہیں رھی بلکہ امریکہ اس مقصد میں اس کے ساتھ ھمیشہ تعاون کرتا رہا ہے ۔ کیونکہ کہ وہ کوئی مسلمان ملک نہیں ھے ۔ یہ سچ غیر مسلم طاقتوں سے برداشت نہیں ھوتا کہ پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہے ۔ کوئی مانے یا نہ مانے ڈاکٹر قدیر خان اٍس ایٹمی طاقت کے خالق ھیں اور دنیا میں ھماری پہچان ، ھمارے فخر اور سلامتی کا ضامن بنے ھیں ۔
مجھے ایک بار پھر کہنے دیجیئے کہ کسی بھی ملک کا وقار اُس کے سایئنسداں ، ڈاکٹر ، انجینیر ، ادیب ، شاعر اور مزدور ھوتےھیں ۔ چاھے حکومت انہیں الزامات لگا کر نطر بند کر دے یا رات کے اندھیرے میں سولی چڑھا دے یا پھر سڑکوں پر گھسیٹ دے اور اُن پر ڈنڈے گولیاں برسائے ۔ کاش ظلم اور بربریت کی انتہا کرنے والوں کو کوئی یہ بتا سکتا کہ اُس زمین پر بھی سویر ھوتی ھے جہاں چھ مہینے کے لیئے رات آتی ھے ۔دل چاہتا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ اور عدل کی آزادی کا نعرہ لگانے والے ریٹائرڈ جج۔چیف جسٹس صاحبان اور پاکستان بار کونسل کے ارباب اختیار سب مل کر ‘‘ڈکٹر قدیر بچاؤ لیگل سیل،، بنائیں اور چوٹی کے نامور قانون دان اس فخر پاکستان کا کیس بلامعاوضہ اس طرح عدالت میں لڑیں کہ پھر کسی کو اس طرح ‘‘پاکستان کی شان‘‘ کی رسوائی کی ہمت نہ ہو۔

پھر یہ بھی سوچتی ہوں کہ جہاں ضیا الحق سے مشرف تک آئین کو توڑنے اور اسکا حلیہ بگاڑنے والے کو اسی آئین کے مطابق سزا نہ دی گئی ہو وہاں کیا ڈاکٹر قدیر خان کو انصاف مل سکے گا۔ ہاں اگر ڈاکٹر قدیر گناہ گار ہیں تو سزا ضرور بھگتیں لیکن اس میں مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کو بھی عدالت کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیئے
۔
اور اگر کیو خان بے گناہ ہیں اور سیاسی مفادات کے مارے ہوئے ڈاکوؤں اور چوروں کی سزا وہ بھگت رہے ہیں تو پھر ‘‘یوم الدین‘‘ پر ایک عدالت ایسی بھی لگے گی جہاں کوئی صدر اور وزیر اعظم نہیں ہو گا اور جہاں جزا و سزا کا فیصلہ فقط اور فقط اعمال ہر ہی ہو گا۔