Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 03 Dec 2008 00:16:54   |   |   |  Text Only Version

Mon, 07 Jul 2008 02:46:00

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ھے



وقت موت کی تاریخ لکھنے کے لیئے مناسب دن کی آڑ میں اپنی سانسیں گنتا ھے اور حاکمٍ وقت اُس کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کا آرڈر نہیں کرتا کیونکہ ایسے لوگوں کا سب سے بڑا جرم یہ ھوتا ھے کہ وہ اُن کی طرح سند یافتہ چور یا ڈاکو نہیں ھوتے ۔

کسی بھی ملک کا وقار اُس کے سایئنسدان ، ڈاکٹر ، انجینیر ، ادیب ، شاعر اور مزدور ھوتےھیں اور باقی سب وقت کے ساتھ  بدلتے رھتے ھیں جیسے حکمران اور حکومتی مشینیریاں ۔ لیکن اپنا پاکستان خطہ ارض پر نیپال اور برما سے بھی نایاب ترین ھے کہ ھماری عزت قومی  چور اور ڈاکوؤں سے بنی ھوئی ھے ۔

ھم وہ لوگ ھیں جو  برما کی حکومت کو اپنی عوام کے  خیر خواہ نہیں سمجھتے  کہ انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیئے اپنی غربت کو بہت جانا تھا  ۔ کیونکہ  ھماری حکومت کو ھر موقع پر ھر ایک کے سامنے دامن پھیلا کر مانگنے کی عادت  ھے ۔ اب یہ عادت اتنی پختہ ھو چکی ھے کہ اگر کبھی ایسا موقع آیا بھی ھے ،  جیسے  پچھلے سال اناج میں خود کفیل ھو سکتے تھے تو حکومت نے گندم  پہلے ساری کی ساری باھر بھیج دی  پھر بعد میں وہی گندم خریدنے کے لیئے جھولیاں پھیلا دی ۔

ھماری حکومت کا یہ بھکاری مزاج  آج چور ڈاکوؤں کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل کر ساری دنیا کو یہ بتا رھا ھے کہ ھمیں نہ ڈاکٹر قدیر چاھیئے ،نہ اعتزاز چاھیئے بلکہ ھمیں تو اپنےھی جیسے چور ، لٹیرے ، ڈاکو اور بھکاری چاھئیں جو ھمارے کام میں ھمارا ھاتھ بٹا سکیں ۔

دوستو کیا کرؤں آج دل اتنا رنجیدہ ھے کہ ھزار کوشش پر بھی ڈاکٹر قدیر خان کی تصویر آنکھوں سے ھٹتی ھی نہیں ھے ۔جس میں وہ ہسپتال کے بستر پر  لیٹے باتیں کرتے ھوئےمسکرانے کی ناکام سی کوشش کر رھے ھیں ۔ ایساکرتے ھوئے  بھی ایک چمک اُن کا احاطہ کیئے ھوئے ھے ۔ میں سوچ رھی ھوں کہ کاش وہ پاکستان آئے ھی نہ ھوتے ۔ کیاضرورت تھی انہیں اٍس قدر خیر خواھی اور وطن پرستی  کی کہ صرف تین ھزار کی تنخواہ پر سارے زمانے کے عیش چھوڑ کر اپنے ملک واپس چلے آئے ۔ چلو آ ھی گئے تھے کہ تو پاکستان کو دنیا کا پہلا ایٹمی مسلم ملک بنانے  کی کیا ضرورت تھی کہ پوری دنیا کی آنکھ کا نور ھونے کی بجائے “شہتیر“ ھوگئے ۔

 جی چاھتا ھے کہ آج میں آپ سب کو اپنے ساتھ وھاں لیئے چلوں جہاں  ڈاکٹر قدیر خان جیسے “لعل“ اپنا سفر شروع کرتے ھیں اور پھر  ایسے “ گوہر “ اپنی نایابی کا سفر جبراً ختم  کرتے ھوئے پہلے  “ زندہ درگور “ اور پھر “ گور“ میں اتر جاتے ھیں اور ھم آپ جیسے بھی انہیں اُن کے  سفر سے نہیں بچا پاتے ۔

 وقت  موت کی تاریخ لکھنے  کے لیئے مناسب دن  کی آڑ میں اپنی سانسیں گنتا ھے اور حاکمٍ وقت اُس کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدلنے کا آرڈر نہیں کرتا کیونکہ ایسے لوگوں کا  سب سے بڑا جرم یہ ھوتا ھے  کہ وہ اُن کی طرح سند یافتہ چور یا ڈاکو نہیں ھوتے ۔

ڈاکٹر قدیر خان  1936ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ وہ پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان آگئےـ ڈاکٹر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے مل کر انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی ۔مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔

بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ـڈاکٹر قدیر خان کو وقت بوقت 13 طلائی تمغے ملے، انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں ـ

انیس سو ترانوے میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند دی تھی۔

 چودہ اگست 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا۔

2004ء میں ان پر ایٹمی آلات دوسرے اسلامی ممالک کو فروخت کرنے کا الزام لگا۔ جس کے جواب میں انہوں نے یہ ناقابل یقین اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسا کیا ہے اور حکومت پاکستان کا یا فوج کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں رہا ۔ اس کے بعد قدیر خان کو نظر بند کر دیا گیا۔ اگست 2006ء میں انکشاف ہوا کہ قدیر خان کو مثانے کا  کینسر ہے ۔

 اپوزیشن مشرف حکومت پر الزام لگاتی چلی آرہی ہے کہ قدیر خان کو سلو پوائزن دیا جا رہا ہے لیکن حیرت ھمیشہ رھی کہ وہ کبھی سڑکوں پر نہیں آئی اور نہ کبھی دھرنے کی باتیں کی گئی ھیں ۔ بلکہ اگر آپ اُس دوران کی اخبارات اُٹھا کر دیکھیں تو کوئی دردمند دھائی ڈالتا بھی نظر نہیں آتا ۔  

حال ھی میں ڈائریکٹرجنرل اسٹریٹجک پلاننگ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد قدوائی نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ حکومت کے پاس ڈاکٹر عبدالقدیر کے ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے تمام ثبوت موجود ہیں ۔جبکہ سیکورٹی فورسز ، اسٹریٹجک اینڈ پلاننگ کمیشن اور آئی ایس آئی شمالی کوریا کو سینٹری فیوجز کی منتقلی میں ملوث نہیں ہیں۔

  ڈاکٹر قدیر خان نے اٍس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا خالد قدوائی نے صرف جھوٹ بولا ہے  اور اُن کا اُس وقت میڈیا پر دیا جانے والا بیان حکومت کی طرف سے تھمایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس بیان کے بعدتمام مسائل ختم ہو جائینگے اور سب ٹھیک ہو جائے گا ۔  تاہم میں انہوں نے ایک فقرہ شامل کیا تھا  "I did it in  good faith " ۔

 وہ یہ بھی کہتے ھیں کہ شمالی کوریانے 2000ء میں پاکستان سے استعمال شدہ سنٹری فیوجز حاصل کیے تھے ۔ اُس وقت ملک کااقتدار صدر پرویزمشرف کے پاس تھااوراس سلسلے میں متعلقہ سامان شمالی کوریاکے جہاز میں پاک فوج کے زیرنگرانی بھجوایا گیا تھا ۔ اور فوج کو اس بات کا پورا علم تھا کہ طیارے میں کیا سامان جارہا ہے جبکہ حکومت پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اسے یا ملک کی فوج کو ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ کا بالکل علم نہیں تھا  ۔ اب یہ کتنی حیرت کی بات ھے کہ  زندگی ایک ھی کے گرد تنگ کی جا رھی ھیں اور باقی سب سچ کو زنجیروں میں رقص کرتا ھوا دیکھ رھے ھیں ۔

سب جانتے ھیں کہ پاکستان نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کی نگرانی سے باہر ھے  آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عالمی ادارے پاکستان کے ان سائنسدانوں کے ساتھ بات کرنا چاہتا ہے جو ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ملوث رہے ہوں ۔ لیکن انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا ۔

اب پاکستان چاھتا تو اپنے وقار کی حفاظت کر سکتا تھا  اور یہ بات تو سب جانتے ھی ھیں کہ جوہری معاملات کا سارا کنٹرول فوج کے پاس ھوتا ہے اور ھمیشہ رھا ھے ۔ خدا کے لیئے سوچیئے کہ سینٹری فیوج کئی کئی ٹن کے ہوتے ہیں وہ قدیر خان اکیلے کیسے بھجوا سکتے تھے ۔ کیسے بھلا پاکستان کے صدر اور پی ایم کی اجازت کے بغیر یہ سب ھو جاتا ۔اٍس بات پر قدیر  خان کہتے  ھیں کہ حکومت کمیشن بنائے تو حکومت سنی ان سنی کر رھی ھے ۔ حالانکہ حکومتٍ پاکستان کا سب سے من پسند کام یہی ھے لیکن اٍس معاملے میں تاخیر سچ کو ھوا دے رھی ھے ۔

 عبدالقادر حسن اپنے کالم “ ڈاکٹر قدیر خان کی خطائیں “ میں لکھتے ھیں کہ “ ہمیں یاد ہے کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے کہا تھا کہ ”ڈاکٹر! مجھے بم چاہئے، خریدو، چراؤیا سمگل کرو، جو جی چاہے کرو، پاکستان کو بم دیدو، ہمارا دشمن ہماری تاک میں ہے“۔ اپنے کالم کے آخر میں ڈاکٹر قدیر خان کا بیان لکھتے ھیں  کہ “ مغربی تہذیب کے سرپرست مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں ۔ ان کی نظر میں ہر مسلمان دہشت گرد ہے۔ میں نے جوہری توانائی پر مغرب کی اجارہ داری ختم کی ہے اور پاکستان واحد ملک ہے جس نے یہ قوت حاصل کی ہے اس لئے وہ مجھے بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے “۔

 شاید یہی وجہ ھے کہ کہیں وہ اٍس سے  زیادہ سچ  نہ کہہ دیں ،  اُن  کو عدالت اور حکومت کی طرف سے یہ حکم ملا ھے کہ وہ اُن کی اجازت کے بغیر کسی میڈیا کو انٹرویو نہیں دے سکیں گے ۔ تو دوستو یہ ھے وہ گڈ فیتھ جو  وہ اپنے ملک و قوم کی محبت میں ایک روگ کی طرح پال رھے ھیں ۔  اپنے ھی وطن میں ، اپنے ھی ھم وطنوں میں،  اپنے ھی گھر میں نظر بند اور  صرف اپنے ھی گھر والوں سے دور ، حب الوطنی کی سزا کاٹ رھے ھیں ۔

دوستو زرا سوچیں کہ ھمارے پڑوسی ملک نے بھی  تو یہی کام کیا ہے  بلکہ ھم سے پہلے کیا تھا ، مگر مغربی دنیا اس کے خلاف کبھی نہیں رھی  بلکہ امریکہ اس مقصد میں اس کے ساتھ ھمیشہ  تعاون کرتا رہا ہے ۔ کیونکہ  کہ وہ کوئی مسلمان ملک نہیں ھے  ۔ یہ سچ غیر مسلم طاقتوں  سے برداشت نہیں ھوتا کہ  پاکستان  مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہے ۔ کوئی مانے یا نہ مانے  ڈاکٹر قدیر خان اٍس ایٹمی طاقت کے خالق ھیں اور دنیا میں ھماری پہچان  ، ھمارے فخر اور سلامتی کا  ضامن  بنے ھیں ۔

 مجھے ایک بار پھر کہنے دیجیئے کہ کسی بھی ملک کا وقار اُس کے سایئنسداں ، ڈاکٹر ، انجینیر ، ادیب ، شاعر اور مزدور ھوتےھیں ۔ چاھے حکومت انہیں الزامات لگا کر نطر بند کر دے یا رات کے اندھیرے میں  سولی چڑھا دے یا پھر سڑکوں پر گھسیٹ دے اور اُن پر ڈنڈے گولیاں برسائے ۔ کاش ظلم اور بربریت کی انتہا کرنے والوں کو کوئی  یہ بتا سکتا کہ اُس زمین پر بھی سویر ھوتی ھے جہاں چھ مہینے کے لیئے رات  آتی ھے ۔

دل چاہتا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ اور عدل کی آزادی کا نعرہ لگانے والے ریٹائرڈ جج۔چیف جسٹس صاحبان اور پاکستان بار کونسل کے ارباب اختیار سب مل کر ‘‘ڈکٹر قدیر بچاؤ لیگل سیل،، بنائیں اور چوٹی کے نامور قانون دان اس فخر پاکستان کا کیس بلامعاوضہ اس طرح عدالت میں لڑیں کہ پھر کسی کو اس طرح ‘‘پاکستان کی شان‘‘ کی رسوائی کی ہمت نہ ہو۔

پھر یہ بھی سوچتی ہوں کہ جہاں ضیا الحق سے مشرف تک آئین کو توڑنے اور اسکا حلیہ بگاڑنے والے کو اسی آئین کے مطابق سزا نہ دی گئی ہو وہاں کیا ڈاکٹر قدیر خان کو انصاف مل سکے گا۔ ہاں اگر ڈاکٹر قدیر گناہ گار ہیں تو سزا ضرور بھگتیں لیکن اس میں مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کو بھی عدالت کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیئے۔

اور اگر کیو خان بے گناہ ہیں اور سیاسی مفادات کے مارے ہوئے ڈاکوؤں اور چوروں کی سزا وہ بھگت رہے ہیں تو پھر ‘‘یوم الدین‘‘ پر ایک عدالت ایسی بھی لگے گی جہاں کوئی صدر اور وزیر اعظم نہیں ہو گا اور جہاں جزا و سزا کا فیصلہ فقط اور فقط اعمال ہر ہی ہو گا۔


 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Sareer Khalid, Srinagar, Kashmir
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Dec 2008
SuMoTuWeThFrSa
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com