دوستو آج مجھے اپنے کئی پرانے دوستو کی ای میلز ملی جس میں انہوں نے ایک انجمن بنانے کا اعلان کیا ھے اور حکومت کی بے حسی پر

احتجاج کیا ھے کہ ملک کے نامور شاعر جن کا شمار ملک کے عظیم ترین اثاثوں میں ھوتا ھے وہ آٹھ جولائی سے شکاگو کے ھسپتال میں زیر علاج ھیں اور حیات و موت کی کشمکش میں مبتلا ھے ۔
انہیں حکومتٍ پاکستان نے نہ ھی طبی اخراجات اُٹھانے کا سندیسہ دیا ھے اور نہ ھی اٍس خواہش کا اظہار کیا ھے کہ حکومت ٍ پاکستان انہیں اپنے خرچے پر اسلام آباد لانا چاھتی ھے تاکہ اُن کا علاج پاکستان میں ھو سکے ۔
دوستو یہ بات ایک ایسے شخص کی ھو رھی ھے جسے ھم اور آپ “ احمد فراز “ کہتے ھیں ۔ اور جن کے آنے سے مشاعروں میں جان پڑ جایا

کرتی تھی وہی احمد فراز آج اپنی جان سے جا رھا ھے ۔ جی دوستو یہ بات میں اُسی شخص کی کر رھی ھوں جس نے ساری عمر جمہوریت کے گیت گائے اور اُس کی بحالی کے لیئے کئی سرکاری اعزازات سرکار کو یہ کہہ کر واپس کر دیئے تھے کہ انہیں لے کر وہ اپنے نظریوں سے آنکھ نہیں ملا سکے گے ۔
آج وہی احمد فراز ایک جمہوری حکومت میں اپنے نظریاتی حامیوں کی بے حسی کی نظر ھو رھا ھے ۔ سرکار اپنے سرکاری اور غیر سرکاری دوروں پر کروڑوں خرچ کر سکتی ھے پر جن لوگوں نے ساری عمر اپنے ملک کی سفارت کی ھوتی ھے ، اُن کے لیئے طبی اخراجات تو دور کی بات ھے ۔ اُن کے منہ سے تو اہل ٍخانہ سے ہمدردی کے چند لفط بھی نہیں نکلتے ۔ بقول جناب صفدر ھمدانی صاحب کے دیکھو جی یہ بے بصر عہدٍ ھے . ۔شاید اٍسی کم ظرفی اور بے حسی نے بے بصری کو جنم دیا ھے
ٍ
بے بصر عہد کا لفظ میرے بابا جی یعنی جناب صفدر ھمدانی صاحب کا ھے ۔ انہیں بابا کا لقب تحفے میں میرے بہت ھی محترم عزیز بھائی نصر ملک ( ڈنمارک ) نے دیا ھوا ھے ، پھر ھارون عباس (گروپ ایڈیٹر القمر ) کہنے والوں شامل ھو گیا بلکہ وہ تو “بابا جی “ کہتا ھے جب بھی وہ بے بصر عہد لکھتے ھیں تو میًں اُن سے ھمیشہ ھی پوچھتی ھوں کہ آپ عہد کو “بے بصر “ کیوں لکھتے ھیں تو وہ جواب میں یا تو خاموشی اختیار کر لیتے ھیں یا پھر کہہ دیتے ھیں آپ کو لگتا ھے کہ جتنے کی آپ حقدار ہیں اتنا آپ کو ملتا ھے ؟ ۔۔اور اُس کے بعد میں طویل خاموشی کا حصہ ھو جاتی ھوں ۔ سوچتی ھوں کہ مرنا تو برحق ھے پر ایک عہد کا ایسے مرنا برق ھے ۔۔
آج مجھ سے احمد فراز کی صورت میں جیتی جاگتی اٍس عہد کی بے بصری دیکھی نہیں جا رھی ۔ کتابی احمد فراز جس کو میں کئی دہایئوں سے

جانتی ھوں . جہاں اُن کے لکھے ھوئے لفط میری آنکھوں کو رہ رہ کر بے چین کر رھے ھیں ۔ تو وھی مجھے جیتا جاگتا فراز جسے میں نے کئی بار سڈنی کے مشاعروں میں سنا تھا ۔ اُن سے باتیں کی تھی اور اُن کی باتیں سنی بھی تھی , بہت یاد آ رھی ھیں ۔ ایک دفعہ مرحوم جناب احمد قاسمی صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر میری کتاب “ گرد بادٍ حیات “ پر تبصرہ بھی کیا تھا احمد فراز کی سب سے اچھی بات یہ ھے کہ اُن سے مل کر زندگی ھر دفعہ ایک نئی جہتوں کے ساتھ ملتی ھے ۔ احمد فراز جس کے نا م پر ماؤں نے اپنے بچوں کے نام رکھے تھے اُسی فراز کو آج صرف وہی محبتیں اور دعایئں مل رھی ھیں ۔
اٍس وقت مجھے جناب صفدر ھمدانی صاحب کا لکھی ھوئی ایک بہت ھی سچی بات یاد آ رھی ھے ۔ لکھتے ھیں “ میں اکثرسوچتا ہوں کہ اس بے بصر عہد میں جو لوگ شاعری کو جزو حیات سمجھ کر کرتے ہیں وہ سوائے اپنا خون جلانے کے اور آنکھوں کی بینائی کو متاثر کرنے کے اور کیا حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے معاشرے میں جہاں حقیقی یعنی جینوئن ادب اور ادیب کسی ترجیحی فہرست میں نہیں، جہاں کتاب پڑھنے کا شوق ناپید ہو گیا ہے،جہاں کتاب خریدنے کا رواج نہیں،جہاں شاعر اور ادیب کو پاگل کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے وہاں شعر لکھنے کی بجائے شعر کہنے والے لوگ خود کوکس طرح ہر وقت سولی پر لٹکائے رکھتے ہیں۔“
چونکہ حقیقی یعنی جینوئن ادب اور ادیب کسی ترجیحی فہرست میں نہیں ھوتا تو پھر بھلا احمد فراز جیسا شعر کہنے والا اٍس بے بصر عہد کی زندہ مثال کیسے نہ ھوتا ۔