Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 07 Jan 2009 13:51:48   |   |   |  Text Only Version

Tue, 02 Sep 2008 12:27:00

امریکہ مسلم تعلقات کا مستقبل


آئیسن ایتھنا سیادس

ہارورڈ یونیورسٹی کے ممتاز کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کی آخری ٹرم میں القاعدہ اور بین الاقوامی دہشت گردی میں اضافے پر ایک کورس پڑھایا جاتا تھا جو طلبا میں بے حد مقبول تھا۔ کورس کی کلاس ہفتے میں دو بار ہوتی تھی اور اس روز سکول کے سب سے بڑے آڈیٹوریم میں بین الاقوامی طلبا کا ایک ہجوم ہوتا تھا جن میں امریکی، یورپی اور مشرقِ وسطی سے آنے والے شامل ہوتے تھے۔ خفیہ والے اور امریکی فوج کے افسران بھی چھٹی لے کر کورس میں شرکت کرتے تھے۔ میں نے بھی اس کورس میں شرکت کی اور مجھے احساس ہوا کہ آخر " طویل جنگ " کے حوالے سے آنے والے کل میں مغرب اور مغرب نواز اشراف کہاں کھڑے ہوں گے اور ان کا مقف کیا ہوگا۔

کورس کے انسٹرکٹر کا نام پیٹر برجن تھا جو ایک صحافی ہیں اور سی این این کے لئے اسامہ بن لادن کا پہلا انٹرویو انہی نے کیا تھا۔ انہوں نے " اسامہ بن لادن جسے میں جانتا ہوں" کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی تھی جس نے گیارہ ستمبر کے واقعہ کے تناظر میں پیٹر برجن کی مانگ میں بے حد اضافہ کردیا تھا کیونکہ بین الاقوامی تعلقات سے متعلق ان کے ساتھیوں نے فی الفور سوویت سٹڈیز کو چھوڑ کر اپنی توجہ مشرقِ وسطی کی سیاسی و جغرافیائی صورتحال پر مرکوز کر لی تھی۔ اب برجن بین الاقوامی دہشت گردی کے ایک ایسے ماہر کے طور پر جانے جاتے ہیں جو تمام دہشت گردوں کو ایک ہی جیسا سمجھنے کے رجحان کے خلاف ہیں۔ اس کی بجائے برجن نے نسل، آبائی علاقے اور دانش کی طرز کو تشکیل دینے والے تنازعات کی بنیاد پر ان کی درجہ بندی کی ہے۔

کورس کی آخری کلاس سب سے زیادہ پرمغز تھی جس کا موضوع تھا کہ امریکی طبقہ اشرافیہ کا " دہشت گردی کے خلاف جنگ " کا تصور پختہ کیسے ہوا۔ اس کی وجہ خوف، صورتحال کو سمجھنے میں ناکامی اور یہ نتیجہ اخذ کرنے میں جلدبازی تھی کہ " وہ ہم سے ہماری آزادیوں کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں"۔ بالکل ویسے جیسے 11 / 9 کے بعد کا ردِ عمل تھا۔ اب القاعدہ کے بارے میں نقطہ نظر میں تبدیلی آرہی ہے اور اسے ایک ایسا باغی گروہ سمجھا جانے لگا ہے جسے اس کے اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر کمزور اور شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے۔

برجن نے آڈیٹوریم میں موجود طلبا سے القاعدہ کو شکست دینے کے لئے تجاویز مانگ کر ماحول میں تیزی پیدا کردی۔ جس پر خفیہ ایجنسیوں کی اصلاح اور افسر شاہی کی تشکیلِ نو کی تجاویز کو ایجنڈے میں سب سے اوپر جگہ ملی۔ بعض لوگوں نے صلاح دی کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں میں تجزیہ نگاروں کی کمی کسی ثبوت سے متعلق ٹاپ سیکرٹ معلومات کا ماخذ ظاہر کرکے ہی پوری کی جاسکتی ہے ( جس سے فیلڈ میں کام کرنے والے ایجنٹوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی نہیں رہے گا)۔ اس طرح سیکورٹی کلیرنس کے بغیر کام کرنے والے تجزیہ نگاروں کا کمرشل انٹیلی جنس سیکٹر قائم ہو جائے گا۔

باقی لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا میں بسنے والے عرب تارکینِ وطن کو بوجھ سمجھنے کی بجائے اپنی قوت سمجھنا چاہیے۔ سیکورٹی کلیرنس پروگرام میں ایسا ہی لگتا ہے جیسے انہیں بوجھ سمجھا جارہا ہے۔ ایک لبنانی طالبعلم کریم نے تجویز دی کہ ہوم لینڈ سیکورٹی کی وزارت تارکینِ وطن کی کمیونٹیز میں سے مخبروں کا ایک نیٹ ورک تیار کرے کیونکہ " یہ لوگ اس ملک میں آئے ہیں اور یہاں کے فوائد سے لطف اندوز ہورہے ہیں اس لئے انہیں اس کے بدلے میں کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیے۔"

" امریکہ کویت دوستی" کے نعرے والی ٹی شرٹ میں ملبوس ایک سفارتکار نے ( بظاہر سنجیدگی سے) کہا کہ پینٹا گون میں بیس سال سے زیادہ عرصے سے خدمات سر انجام دینے والے ملازمیں کو امریکی وزارتِ خارجہ اور سی آئی اے میں بھیج دیا جائے تاکہ ان اداروں کے اندر ایک بار پھر نئی روح پھونکی جائے۔

امریکی طلبا کا جھکا زیادہ تر افسانوی قسم کے حل پیش کرنے کی طرف تھا جیسے مسلمانوں کے دل جیتنے اور سوچ کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی جائے وغیرہ۔ ان کا کہنا تھا کہ " دہشت گردی کے خلاف جنگ" کو احتیاط اور مہارت کے ساتھ دوبارہ ترتیب دینے یا خارجہ امور اور دفاع کی وزارتوں کے افسرشاہی اداروں کو صحیح خطوط پر استوار کرکے یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ایک امریکی طالبعلم نے تجویز کیا کہ القاعدہ کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکی حکومت " برانڈ سے انکار" کی پالیسی اپنائے اور حکومتی ترجمان اور دیگر حکام پر پابندی لگا دی جائے کہ وہ القاعدہ کا ذکر کرتے وقت اس تنظیم کا نام زبان پر نہیں لائیں گے۔ اپنی تجویزکے حق میں اس طالبعلم نے دلیل دی کہ جب القاعدہ کو عوام میں مقبول ہونے کی آکسیجن نہیں ملے گی تو تمام دہشت گرد دم گھٹنے سے مر جائیں گے۔ برجن نے اس سے پوچھا کہ کیا بش انتظامیہ کو مقامی ذرائع ابلاغ میں بھی القاعدہ کا نام لینے پر پابندی عائد کردینی چاہیے تو وہ سٹپٹا گیا جس پر آڈیٹوریم میں زور کا قہقہ پڑا۔

بہت سے امریکی ابھی تک یہ تسلیم کرنے سے ہچکچا رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمتِ عملی کو چابکدستی کے ساتھ دوبارہ وضع کرنے سے امریکی پالیسی مشرقِ وسطی کے لئے قابلِ قبول نہیں بن جائے گی اور نہ ہی اس سے علاقے میں واشنگٹن کے بارے میں ذہنی تصور بہتر ہوگا۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے سرمایے سے قائم عربی زبان کے ٹیلی ویژن 'ال ہرا' کی حالتِ زار اس کی ایک مثال ہے۔ لیکن اس طرح کی کھوکھلی منطق کی بازگشت امریکی انتظامیہ میں اعلی ترین سطح تک سنائی دیتی ہے۔ گزشتہ نومبر میں وزیرِ خارجہ رابرٹ گیٹس نے ایک تقریر میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تھا کہ "آخر القاعدہ والے انٹرنیٹ پراپنا پیغام پھیلانے کے معاملے میں امریکہ سے بہتر کس طرح ہیں"۔

القاعدہ کا مغرب مخالف اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی مخالفت پر مبنی پیغام عرب اور مسلم سامعین کے کانوں کو بہت بھلا لگتا ہے جو اپنے خطے میں نئے نوآبادیاتی نظام جیسی مداخلت سے تنگ آچکے ہیں۔ ان کے اس نقطہ نظر کو عراق اور افغانستان پر امریکہ کی زیرِ قیادت قبضے کی ٹیلی ویژن پر روزانہ کوریج، طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے غیر مقبول حکمرانوں کے لئے امریکی حمایت اور حزب اللہ اور حماس جیسی مقبول سیاسی تحریکوں کو انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے باوجود حکومت بنانے سے روکنے جیسی حرکات سے مزید تقویت ملتی ہے۔

برجن کے آڈیٹوریم میں موجود واحد یورپی طالبعلم نے یہ کہنے کی جرت کی کہ خطے کے بارے میں امریکی پالیسی میں واضح تبدیلی ہی ایک ایسی صورت ہے جو ثمر آور ثابت ہو سکتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کو کامیابی دلا سکتی ہے۔ طالبعلم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگراسرائیل کے لئے ایسی امداد جو اشد ضروری کے زمرے میں نہ آتی ہو، سے ہاتھ کھینچ لیا جائے تو اس سے عرب دنیا میں پائے جانے والے اس تاثر کا ازالہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ دونوں کے معاملے میں دیانتداری سے کام نہیں لیتا۔ طالبعلم کے تبصرے پر ہال میں مکمل سکوت طاری تھا۔

کیا کینیڈی سکول سے گریجویشن کرنے والے نوجوان آگے چل کر طویل جنگ میں بیورو کریسی اور ملٹری کے مثر سپاہی ثابت ہوں گے؟ اگر امریکہ مشرقِ وسطی کے میدانِ جنگ سے اپنے دشمنوں کو بھگانا چاہتا ہے تو کیا وہ اسے اس مقصد کے لئے درکار ثقافتی آگہی عطا کر سکیں گے؟

دہشت گردی کے موضوع پر مہارت رکھنے والوں مثلا مارک سیجمین کا خیال ہے کہ القاعدہ پہلے ہی ادھ موئی ہو چکی ہے۔ جب کہ سی آئی اے کے سابق ایجنٹ مائیکل شوئر جیسے افراد " ششدر کردینے والے پلٹا" کے بارے میں زیادہ سنکی توضیحات پیش کرتے ہیں۔ شوئر کا کہنا ہے القاعدہ کی موت کے بارے میں ناپختہ دعووں کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ " اگر اگلے چند ماہ کے دوران القاعدہ کو شکست ہوجاتی ہے تو امریکی افواج کے لئے ایران پر حملہ کرنا ضروری ہو جائے گا۔" سچ جہاں بھی ہو لیکن 2008 میں کینیڈی سکول سے گریجویشن کرنے والے طلبا کو ایک ایسی نسل کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس کی شخصیت طویل جنگ نے تعمیر کی ہے۔

آئیسن ایتھنا سیاد س ہارورڈ یونیورسٹی میں نائمن فیلو ہیں اور 2004 تا 2008 بین الاقوامی پریس کے لئے ایران کی کوریج کرتے رہے ہیں۔

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Rauf Amir Pappa Baryar, Kot Addu
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Jan 2009
SuMoTuWeThFrSa
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com