یہ ٣اگست تھی اور کل ہمارے ایک کرم فر ما افروز صاحب نے زلفی صا حب سے ہمیں بک کر لیا تھا، مگر بکنگ بہت شارٹ تھی ،صرف دس بجے صبح سے تین بجے شام تک ان کو ہدایت تھی کہ وہ ہر حالت میں تین بجے ہمیں واپس کردیں گے ؟ کیونکہ ہمیں شام کو دیسی ریڈیو پر بین الاقوامی مشاعرے میں بطور مہمان ِ خصو صی شرکت کر نا تھی ۔جبکہ جناب حمایت علی شاعر کو صدارت اور نظامت آج پھر جناب تسلیم الہٰی زلفی کو کر نا تھی جبکہ ریڈیو کے مستقل میزبا ن جنا ب ناظم مقبول اور طارق صا حب نے ان کے حق میں آج کے لیئے دستبرادی اختیار کر لی تھی۔ لہذا فیروز صاحب وقت کی کمی کا خیال کرتے ہوئے ہمیں لینے ٹھیک دس بجے پہونچ گئے ،اور اپنے ہمراہ ہمارے ایک دوسرے دوست جناب جمال صاحب کو بھی لے آئے جوکہ پہلے کبھی صحافی تھے ، مگر آجکل تائب زندگی گزار رہے ہیں۔انہیں ساتھ لانے کا مقصد یہ تھا کہ وقت کی بچت ہو اوران کے یہاں نہ جانا پڑے۔ پھر ہم بہ عجلت رچمنڈ ہلز سے مسی سا گا پہو نچے جو ٹریفک اگر جام نہ ہو تو ایک گھنٹے سے زیادہ کی مسافت ہے ۔ ہمارے ایک دوست بھیات صاحب جو وہا ں کے مشہور سماجی کارکن ہیں وہ راہ میں تھےاور انہوں نےایک پر تکلف ناشتہ کا بندو بست کر رکھا تھا جس سے ہم بے خبر تھے اور انہوں نے بھی چند دوستوں کو وہاں جمع کیا ہوا تھا۔ہم چونکہ ناشتہ فجر کی نماز کے بعد کر لیتے ہیں لہذا اس کے ساتھ انصاف مشکل تھا، ملا قات ہو ئی با تیں ہوئیں۔ پھرافروز صاحب کے یہاں جاکرلنچ کیا اور تین بجے واپس آ گئے۔ اس کے بعد زلفی صا حب کے ہمراہ ریڈیو اسٹیشن پہو نچ گئے۔ یہاں اور بھی مقامی شعرا اور شاعرات تھیں جن میں نسیم سید ،ذ کیہ غزل ،نزہت صدیقی جناب ضامن جعفری ، جاوید دانش ۔ ڈینس آئزک اور ایک صا حب کلی فورنیا سے آئے ہو ئے تھے۔ پہلے تو کچھ شاعر لکھنؤ اور بمبئی سے فون پر لیئے گئے۔ پھر پاکستان اور دو بئی سے ۔ اس کےبعد رشیدہ پنہاں اور ہمارے پرانے دوست منظر ایوبی امریکہ سے شامل ِ مشا عرہ کیئے گئے ، منظر صاحب کوکار میں کہیں جاتے ہو ئےگرفتار کیا گیا تھا۔ جہاں وہ کسی دوسرے مشاعرے میں شرکت کرنے کے لیئے جارہے تھےوہ اُن دنوں امریکہ کے دورے پر آئے ہو ئے تھے ۔انہوں نے اپنے کلام سےسامعین کونوازانے کی کوشش کی اور اپنی آواز کی بنا پر کار کی گھڑ گھڑاہٹ پرغلبہ پانا چاہا گوکہ انکی کو شش پوری طرح تو کا میاب نہیں ہوسکی مگر کسی حد تک وہ ضرورکامیاب رہے۔ اور اس کے بعد ہمارا نمبر تھا ہم نے اپنا کلام سنایا، پھر ہم سے اس قطعہ کی فر مائش ہو ئی
جب کہیں دیر سے پہو نتے ہیں لو گ راہیں ہماری تکتے ہیں
یہ بھی انداز ِ خود نما ئی ہے ورنہ جلدی پہو نچ تو سکتے ہیں
اس کے بعد جناب صدر کی باری تھی انہون نے بھی اپنے کلام سے نوازا پھران سے بھی ان کی مشہور غزل کی فر مائش ہو ئی اور وہ انہوں نے بھی سنا ئی۔ اس طرح یہ مشا عرہ پانچ بجے سے شروع ہو کر ساڑھے آٹھ بجے شام ختم ہوا۔اس کے بعد انواع اقسام کے کھانوں سے نوازاجانا تھا۔ یہ کھانا جاوید دانش صاحب کی طرف سے تھا، جنکا سنا ہے کہ قریب ہی میں ہو ٹل ہے۔ چونکہ اب ریڈیوبند ہو چکاتھا اور نماز مغرب کا وقت جارہا تھا لہذا ہم نے اس فرصت سے فا ئدہ اٹھا یا اورایک بوتھ پر ہم نے قبضہ کر کے اکیلے ہی نماز ادا کی اور ڈرتے رہے کہ کہیں نماز پڑھتے ہو ئے پکڑے نہ جا ئیں ؟ ویسے تو وہاں کئی مسلمان تھے مگر ان کے مذہب میں شاید مغرب کو موخر کر نے کی گنجا ئش تھی ، ویسے شر ع کے اعتبار سے ان کا یہ فعل قطعی جائز تھا، کیونکہ حکم یہ ہی ہے کہ جب بھوک لگی ہو ئی ہو اور کھانا سامنے ہو اور اس پر یہ کہ خو شبو بھی ناک کو معطر کر رہی ہو ،تو نماز کو موخر کر دو ۔ اور پہلے کھانے پر ہاتھ صاف کرو کہ نیت اس میں نہ رکھی رہے۔ یہ ویسے بھی ہمارے رسم و رواج سے لگا کھا تا ہے کہ ہمارے یہاں ہمیشہ کو تا ہ دستی میں محرومی ہی ملتی ہے۔ کیونکہ یار لوگ بو ٹیاں صا ف کر جاتے ہیں، تو جو بو ٹیوں کے شو قین ہیں ان کے لیئے یہ افضل ہے کہ پہلے کھانے کے ساتھ انصاف کریں؟ بعد میں نماز ۔ نماز کا کیا ہے اول تو بہت ماڈرن مسلمان اس کی فر ضیت کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں۔ جو ہیں بھی تو ان کا خیال ہےکہ اگر وقت نکل بھی گیا تو اللہ تعالیٰ معاف فر ما دے گا۔ جبکہ لوگ بوٹیوں کو کبھی معاف نہیں کر تے ۔چو نکہ ہم بو ٹیوں کے مقابلے میں شوربہ زیادہ پسند کر تے ہیں لہذا ہمیں متا ع ِ گوشت لٹ جانے کا غم نہ تھا۔ جب ہم نماز سے فارغ ہو کر کھانے کے کمرے میں پہو نچے تو لوگ کھانے کو داد دے چکے تھے ۔ تھوڑا سا شوربہ اور نان ہم نے بھی لیا اور اتنے میں زلفی صا حب کہنے لگے چلو گھر چلتے ہیں ۔ ہم نے سب کو خدا حافظ کہا جناب حما یت علی شاعر صا حب اٹھ کرگلے ملے ؟ وہ شاید پرسوں کی تلا فی کر نا چا ہتے تھے، کہنے لگے کہ بھا ئی کو ئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کر نا، ہم نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں دل ہمیشہ صاف رکھتے ہیں، اور زلفی صا حب کے ساتھ روانہ ہو گئے ۔ جب گھر پہو نچے تو ہمارے ایک اور کر م فر ما جاوید صا حب ڈھونڈتے پھر رہے تھے لہذا فون پر دھر لیئےگئے وہ کہنے لگے کہ کل دو پہر کا کھانا آپ ہما رے ساتھ کھا ئیں اور آج رہیں بھی میرے گھر، آپ کو ابھی لینے آرہا ہوں۔ ہم نے کہا بھائی سونا ہی تو ہے چا ہیں یہاں سو جائیں یا وہاں اور کل ہم واپس جارہے ہیں ہمیں دو بجے ہوا ئی اڈے پہو نچنا بھی ہے۔کہنے لگے پھر ایسا کر تے ہیں کہ کل صبح آپ کو لے لیتے ہیں، میرا گھر ہوائی اڈے کے پاس ہے میں کھانے کے بعد چھوڑ آؤنگا۔وہ بھی صبح دس بجے پہو نچ گئے اور ہم پھر مسی سا گا میں تھے ۔وہاں پہو نچ کر ہم نے سوچا پاکیزہ کے ایڈیٹر اور ہمارے دوست صبیح منصور صاحب جو بیمار ہیں ،کیوں نہ ان کی عیادت کر لیں کہ ہماری تقریب میں بھی نہیں آسکے تھے ،اور وہ یہاں سے قریب بھی ہیں ؟ ہم نے جاوید صا حب سے درخواست کی ،وہ بہ خوشی راضی ہو گئے کہ چلو جی چلو یہ تو ثواب کا کام ہے۔ ان سے ملا قات ہو ئی وہ واقعی سخت تکلیف میں مبتلا تھے ان کے ساتھ چائے پی اور انکی سحت یابی کے لیئے دعا کی کہ وہ واقعی اپنے اخبار کے زریعہ اچھا کر رہے ہیں ۔ ہماری کڑواہٹ معاشرے تک پچھلے دس سالسے جناب صفدر ھمدانی صا حب کی طرح پہو نچا رہے ہیں۔ اس کے بعد واپس آئے کھانا کھا یا اور ان دونوں میاں بیوی نے ہوا ئی اڈے چھوڑ دیا ۔ بہت ہی پر خلو ص لوگ ہیں مصر تھے کہ جب تک آپ آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جا ئیں ہم ساتھ رہیں گے ۔ ہم نے انہیں بمشکل راضی کیا اور ان کو باہر سے ہی رخصت کر دیا۔جہاز میں پہو نچے ،اس نے پرواز کی اور نیو یارک چھ بجے شام پہو نچ گئے وہاں جمیل وقار پھر ہمیں لینے کے لیئے مو جود تھے۔
اس کے بعد بہت سے مشاعروں کی دعوت ملی کہ ان دنوں نیو یارک میں جشن آزادی منا یا جا رہاتھا۔ مگر وہاں کہیں جانا میزبان کو سزا دینے سے کم نہیں ہے کہ ہم لانگ آئی لینڈ میں تھے اور پاکستانی زیادہ ترکو نی آئی لینڈ میں اور ان دونوں کے درمان سفر اگر ٹریفک زیادہ ہو تو کم ازکم تین سے لے کر چار گھنٹے کا ہے، جبکہ ہم کسی کو تکلیف دے کر کبھی خوش نہیں ہوتے؟
لہذا ہم نے تین دعوتیں تو قبول کیں جوکہ ہمارے کزن عرفان جیلانی اور صداقت جیلانی اور جناب طا رق قدوائی اور ان کی بیگم زہرا قدوائی کے یہاں تھیں۔ اور مشاعرے میں کہیں نہیں گئے۔
چونکہ ہمارے دوست مامون ایمن صاحب کی یہ شدید خواہش عرصہ دوسال سے تھی کہ آپ آئیں تو ایک مشا عرہ ہوناچاہیئے۔ لہذا انکی خواہش کے احترام میں وہ ہماری بیٹی عظمیٰ وقار اورجمیل وقار نے اپنے ہی گھر رکھ لیا تھا ،اور ہم یوں معترض نہ ہو ئے کہ ہمیں کہیں جانا نہیں تھا اور مامون صا حب کا دل بھی رکھنا تھا ۔انکا گھر بھی ان کے دل کی طرح کشادہ ہے یعنی ایک ایکڑ پر ہے ۔ چو بیس اگست کو ہمیں جانا تھا اور تئیس کو یہ محفل مشا عرہ منعقد ہوناتھی ۔ اس کی صدارت مامون ایمن صا حب نے اور نظامت قانعیہ ادا نے فر مائی ،جبکہ شام ہما رے نام تھی، اس میں پاکستان سے آئے ہو ئے مشہور شاعر جنا ب جلیل عالی نے خصوصی طور پر شرکت فر مائی ۔آج بھی جو سب سے پہلے آئے وہ سب سے دور سے آنے والے شاعر اور ادیب جناب صفوت علی صفو ت، جو انہا ئی پر خلوص آدمی ہیں اور اپنا یہ خلو ص وہ ہر نیو یارک آنے والے شاعر پر ضرور نچھاور کر تے ہیں۔ جس کے قصے ہم نے ہم مختلف شاعروں اور ادیبوں کے سفر ناموں میں پڑ ھ رکھے تھے۔اس کے بعد مامون بھائی پہو نچے وہ دراصل ان کی ہی وجہ سے لیٹ ہو گئے کہ وہ انکا اپنے گھر پر انتظار کر رہے تھے اور وہاں سے ساتھ آنا تھا مگر صفوت صاحب ترافک میں پھنس کر لیٹ ہو گئے تو انہوں نے انہیں برا ہ راست مشا عرے میں پہو نچنے کو کہا ورنہ اور لیٹ ہوتے۔ ان کے بعد دوسرے شعرا کرام اور سامعین عزام آنا شروع ہو ئے ۔ جن میں آفتاب قمر صا حب ، اعجاز بھٹی صاحب، الطا ف تر مزی صاحب رئیس وارثی صاحب حسن عباس رضا صاحب، ن م دانش صاحب، حمیرہ رحمٰن صاحبہ اور زاہد صا حب شامل تھے۔یہ مشاعرہ بھی حسب روایات ساڑھے سات کے بجا ئے ساڑھے نو بجے کھانے سے فارغ ہو کر شروع ہوا اور رات کے ڈیرھ بجے تک چلتا رہا ۔
دوسرے دن ہماری واپسی تھی جمیل وقار کہنے لگے ایک ہفتہ اور بڑھا لیں دل ابھی بھرا نہیں، ہم نے کہا کہ بھائی ایک ہفتہ کے بعد بھی تو جا نا ہی ہو گا اور جہاں سے جانا ٹھہرا، وہاں دل کو لگانا کیا ؟جبکہ ہماری بیگم کا کہنا تھا رمضان آ رہے ہیں لہذا گھر جاناضروری ہے، اس مرتبہ بھی جمیل وقار اور عظمیٰ نے ہمیں ہوائی اڈے پر چھو ڑاور اسطرح ہم چوبیس اگست کی رات کو چل کر پچیس اگست کی صبح تین بجے وینکور پہو نچ گئے ۔ جہاں ہمارے صاحبزادےنیر جیلانی منتظر تھے۔