Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 03 Dec 2008 00:32:27   |   |   |  Text Only Version

Tue, 02 Sep 2008 22:41:00

مساوی حقوق کے لئے مصری خواتین کی جدوجہد


فاطمہ خفاجی

ان گرمیوں میں مصر کی خواتین نے شادی کی روایتی رسومات کی پابندیوں اور جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے ممنوعہ موضوعات کے قفل توڑ ڈالے۔ اگرچہ انہوں نے حال ہی میں زیادہ قانونی اور سماجی قدر شناسی کے لئے انتہاہی تگ و دو کی ہے لیکن انہیں اپنے حقوق بالخصوص مصر کے عائلی قوانین کے حوالے سے متضاد پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

سول سوسایٹی کی تنظیمیں لوگوں کو آگہی دینے کی مہمیں چلا رہی ہیں جن میں صنفی مساوات اور خاندانی ڈھانچے میں خواتین کے لئے برابر قانونی تحفظ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ لیکن اسی اثنا میں مذہبی اربابِ اختیار عورتوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ موجودہ قوانین میں انہیں پہلے ہی مناسب عائلی حقوق حاصل ہیں۔

گزشتہ عشرے میں مصر اور دیگر عرب ممالک میں قانون سازی کے شعبے میں اصلاحات کی گئیں جن کے نتیجے میں آئینی ترامیم کے ذریعے خواتین کو مساویانہ حقوق عطا کئے گئے۔ مثال کے طور پر غیر مصری مردوں سے شادی کرنے والی مصری عورتیں اب اپنی شہریت اپنے بچوں کو منتقل کر سکتی ہیں۔ مزید برآں پہلی بار مصر میں عورت کو طلاق کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اب خاوند اپنی بیویوں کو تنہا بیرونِ ملک سفر پر جانے سے منع نہیں کر سکیں گے۔ خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے اب مظلوم خاتون سے شادی کرکے سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ حکومت نے شوہر اور بیوی میں ثالثی اور طلاق کے عمل کو تیز کرنے کے لئے فیملی کورٹس بھی قائم کر دی ہیں۔

لیکن عائلی قوانین کو ابھی تک نہیں چھیڑا گیا۔ قوانین کا موجودہ ضابطہ 1920 میں وجود میں آیا تھا اور اس کی بنیاد ان مفروضات پر ہے جن کا مقصد روایتی پدرشاہی نظام کو برقرار رکھنا ہے۔ اسی طرح کا ایک مفروضہ یہ ہے کہ شوہر اپنے گھرانوں کے لئے کما کر لائیں گے اور عورتیں اپنے شوہروں کی ماتحت ہوں گی۔ ذاتی مرتبے کا یہ قانون مرد کو طلاق کا غیر مشروط حق دیتا ہے جبکہ عورت کو اس مقصد کے لئے عدالت کی منظوری سے خلع لینی پڑتی ہے جو اکثر صورتوں میں اس وقت دی جاتی ہے جب عورت جہیز سمیت اپنے تمام مالی حقوق سے دستبردار ہو جائے یا یہ ثابت کرے کہ اس کا شوہر اس سے بدسلوکی کرتا ہے۔

لیکن اب کچھ عرصے سے صورتحال مختلف ہوگئی ہے اور زیادہ تعداد میں خواتین کام کرنے اور گھر چلانے میں حصہ ڈالنے لگی ہیں۔ البتہ خاندان میں صنفی کردار جوں کے توں ہیں۔ ان کرداروں کو قانونا تحفظ حاصل ہے اور معاشرتی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے جس نے ایک اہم سماجی اور ثقافتی تبدیلی کے عمل کو روک دیا ہے۔

تبدیلی کے لئے زور و شور سے آواز بلند کی جارہی ہے۔ مصر میں سول سوسایٹی کی تنظیمیں بالخصوص حقوقِ نسواں کے لئے کام کرنے والے ادارے خواتین کے حقوق سے متعلق شرعی قوانین کی ازسرِ نو تشریح کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم مذہبی کمیونٹی کا کہنا ہے کہ خواتین کو خاندانی نظام میں مناسب اور کافی حقوق حاصل ہیں۔ وہ خواتین کو بتاتے ہیں کہ وہ اپنی کمائی کو اپنے ذاتی استعمال کے لئے ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے شوہر سے بچوں اور اپنی ضروریات پوری کرنے کا مطالبہ کرسکتی ہیں۔ اور اگر وہ چاہیں تو مادرانہ ذمہ داری پوری کرنے مثلا بچے کو دودھ پلانے کا شوہر سے معاوضہ طلب کر سکتی ہیں۔ اس طریقے سے مذہبی حکام صنف کی بنیاد پر بانٹے گئے کرداروں کی تقسیم کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔

بدقسمتی سے موجودہ قوانین کو تبدیل یا چیلنج کرنے کے لئے قانونی امداد تک رسائی حاصل کرنا بہت سی غریب عورتوں کے لئے بہت مشکل ہے۔ کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا معاوضہ بھی بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح جو عورتیں گھر میں اور باہر دونوں جگہوں پر کام کرتی ہیں ان کے لئے عدالت کے فیصلے کے انتظار میں وقت گزارنا ممکن نہیں، بالخصوص جب اس بات کی کوئی ضمانت بھی نہ ہو کہ فیصلہ ان کے حق میں ہی آئے گا۔ مذہبی اربابِ اختیار اور پدر شاہی نظام تواتر کے ساتھ ججوں اور پولیس پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ یہ دونوں عوامل صنفی عدمِ مساوات کے داعی ہیں اور روایتی صنفی کرداروں کی حمایت کرتے ہیں۔

معاملات کو بدتر بنانے کے لئے مذہبی انتہاپسند بھی موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ خاندان میں عورت کے موجودہ کردار کو قائم رکھنا سماجی اخلاقیات کی بالادستی کی جدوجہد میں انتہائی اہم لڑائی ہے۔ چنانچہ بہت سی مثالوں میں خواتین کو حجاب لینے، ختنہ کرانے اور اپنے باکرہ ہونے کا ثبوت دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ اور درسی نصاب بھی مرد اور عورت کے روایتی کرداروں کو تحفظ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں عورت کو کمزور، جذباتی، عدم تحفظ کا شکار اور دوسروں کی دست نگر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

لیکن تبدیلی کا مطالبہ کرنے والی آوازیں اب طاقت پکڑ رہی ہیں۔ مصر میں اس وقت بہت سے ادارے بشمول نیشنل کونسل آف ویمن، وزارتِ انصاف اور قومی جمہوری پارٹی کے علاوہ حقوقِ نسواں کی علمبردار کئی غیر سرکاری تنظیمیں ذاتی حیثیت کے قانون اور عائلی عدالتوں کی کارروائی کے قانون میں اصلاحات کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔

مصر کی خواتین اس وقت ایک مشکل دوراہے پر کھڑی ہیں جہاں وہ صنفی کردار کو خود پر مسلط کرنے کی اجازت دینے کی بجائے ان کرداروں کے بارے میں سوال کرنے کی جرت کا مظاہرہ کررہی ہیں اور مردوں کے برابر شہری کے طور پر مکمل شراکت اور پورے حقوق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کررہی ہیں۔

 فاطمہ خفاجی مصر میں جرمن تیکنیکی تعاون پروگرام کی سینئر پالیسی ایڈوائزر ہیں۔ وہ عرب خواتین کے اتحاد کے بورڈ کی رکن بھی ہیں۔

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Sareer Khalid, Srinagar, Kashmir
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Dec 2008
SuMoTuWeThFrSa
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com