ویسے تو ہمارا معاشرہ المیات در المیات کا شکار چلا آرہا ہے ۔ہم اس کیفیت میں ہر برس ماضی کی نسبت ترقی کی شرح میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں'لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امسال 2008ء تو ان المیات کا گرو بن کر آیا ہے۔ایک طرف مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے گفت و شنید کر نے میں مصروف ہیں تودوسری طرف لوڈشیڈنگ نے کاروبارِزندگی اور سکھ چین برباد کرکے رکھ دیا ہے۔آج کے اس جدید دور میںوقت اور حالات کے پیشِ نظر ہر شے ارتقاء کی طرف مائل ہے لیکن ہمارا معاشرہ مہنگائی میں ارتقاء کرنے کی طرف پیش پیش ہے۔
پچھلے چند ادوار میں حکمرانوں اوراربابِ اختیار کی غلطیوں اور غیر حقیقت پسندانہ اقدام نے پاکستانی معاشرہ کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی'اور سونے پہ سہاگہ ان کے بعد نئے آنے والوں نے بھی ان غلطیوں کو درست کرنے یا بہتر حکمتِ عملی مرّتب کرنے کی بجائے ان غلطیوں کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔جس کی وجہ سے آج ملک اہم اور بنیادی مسائل سے ہی نہیں نکل سکا۔
قارئین! آپ نے اکثر ہمارے حکمرانوں سے ایک بیان سنا ہوگا جو کہ اس وقت دیا جاتا ہے جب کس چیز کے مہنگا ہونے کی خوشخبری دینی ہو،وہ بیان نوٹ فرمائیں:
''فلاں شے کی قیمت بڑھانا حکومت کی مجبوری بن گئی ہے اور انشاء اللہ کچھ عرصے میں حکومت اس کی قیمت میں کمی کا اعلان کرے گی۔''
اب میں اس بیان کی وضاحت کر دوں جیسا کہ گزشتہ دنوںپانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے اعلان کیا :
''تیل کی قیمت میں اضافہ کے باعث بجلی کی قیمت بڑھانا حکومت کی مجبوری بن گئی تھی اور انشا ء اللہ چند روز تک بجلی کے بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔''نہایت ہی جاندار بیان تھا۔بجلی کی قیمت میں31فیصد اضافے کی خبر سفید پوش طبقے پر تو بجلی نہ ہونے کو باوجود بجلی بن کر گری ہے۔ کیسے عجب حالات ہیں کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہونے کے باوجود بجلی کا بل اتنادینا پڑتا ہے جیسے صارفین24گھنٹے ہی بجلی استعمال کرتے ہیں۔
آج کے صنعتی اور کمپیوٹرائزڈ دور میںبجلی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ہماری زندگی کا دارومدار بجلی پر اتنا بڑھ چکا ہے کہ جب بجلی نہیں ہوتی توزندگی بالکل ناخوشگوار اور بے جان لگتی ہے،زندگی کا پہیہ جام ہو جاتا ہے'صرف بجلی کے انتظار میں۔۔۔پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت کی نسبت بجلی کی کھپت زیادہ ہے۔آج پاکستان میں جتنی میگا واٹ بجلی پیدا ہورہی ہے اتنی ضرورت پاکستان کوسال2000ء میں تھی اور اگر آئندہ پانچ سے دس سال تک بجلی کی جتنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا گیاتو اتنی ضرورت آج پاکستانی صارفین کو ہے۔پچھلی دو دہایوں سے مناسب حکمت عملی کے فقدان اور نئے ڈیموں کے نہ بننے کے باعث بجلی کی پیداواری صلاحیت 'ضرورت کے مطابق نہ ہو سکی۔
ایک رپورٹ کے مطابق فیصل آباد میں تقریباً 10لاکھ افراد کا روزگار ٹیکسٹائل ملز سے وابسطہ ہے ۔لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے متعلق ملز مالکان کا کہنا ہے کہ ''فیصل آباد کی تمام پاور لومز ایک طرف تو بجلی کے نرخوں سے پریشان ہیں تو دوسری طرف لوڈ شیڈنگ نے کاروبارِ زندگی تباہ کر دیاہے۔''ملک کے دیگر علاقوں کی طرح فیصل آباد میں بھی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10سے14گھنٹوں پر مشتمل ہے۔قارئین!پاکستان کے مانچسٹر (فیصل آباد) کا یہ دگر گوں حال ہے تو دیگر صنعتی علا قو ں کا کیا حال ہو گا؟اگر غور سے مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سرمایہ دار اپنے سرمائے میں کمی اور اخراجات میں مزید اضافے کو روکنے کے لئے اس تمام کئے دھرے کا بوجھ مزدوروں پر ہی لادتا ہے۔ مگر ان سب سے بالا تر حاکمِ بالا شاہ خرچیوں اور میوزیکل چئیر کھیلنے میں مصروف ہیں،ان حالات سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کے گھروں اور دفاتر میں ملک کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے جینر یٹرز اور یو پی ایس موجود ہیں۔
جہاں بجلی نے صنعتی علاقوں کے حالات دگر گوں کئے ہیں وہیں لوڈشیڈنگ سے زندگی کے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ آوازار اور بے چین ہیں۔بچے،جوان ،بوڑھے اور ضعیف الغرض ہر طرح کے ذریعہ معاش سے وابسطہ لوگ پریشان اور بے حال ہیں۔بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سکولوں ،کالجوں،یونیورسٹیز،دفاتر،بنک اور دکانوں میں لوگ پٹرول،ڈیزل اورگیس کے جینریٹرز لگانے پر مجبور ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کے مہنگے ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ان جینریٹرز سے پیدا ہونے والی آلودگی انسان اور ماحول کے لئے مضر صحت تو ہے ہی لیکن نفسیاتی بیماریوں میں بھی اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔جب ان جینریٹرز کے قریب سے گزریں تو'' چڑیوں کے چہچہانے،کوئل کی کوکو اور طوطے کی ٹیں ٹیں'' حتیٰ کہ تمام چرند پرند کی مرکب آوازوں کے دل موہ لینے والے سنگیت کانوں میں پڑتے ہیں۔
چند روز قبل گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز اور پنجاب یونیورسٹی کے طلباء سے اس حوالے سے بات ہوئی تو ان سب کا ایک مشترکہ نقطہ نظر یہ تھا: ''پاکستان کی جس جشن آزادی پر ہم جھومتے ہیں آج وہی پاکستان اندھیروں میں ڈوب رہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ان اندھیروں نے پاکستان کی جان نہیں چھوڑنی،ہم نے جس طرح امتحانات دئیے ہیں انکا اندازہ صرف ہم ہی لگا سکتے ہیں۔''اسکے علاوہ طلباء نے جن نہایت سخت الفاظ میں حکومتی اراکین اور پچھلی حکومتوں کو جھنجھوڑا وہ الفاظ یہاں زیب نہیں دیتے۔بہرحال یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا نوجوان انتہائی مایوسی اور احساسِ کمتری کا شکا ر ہوتا جا رہا ہے اور جس معاشرے کے نوجوان مایوس اور بددل ہونے شروع ہو جائیں تو اس معاشرے اور ملک کا واقعی ''اللہ ہی حافظ ۔''
بجلی کی بندش سے لوگوں میں نفسیاتی بیماریاں،چڑچڑا پن،جلد بازی پیدا ہو چکی ہے۔برداشت اور صبرموقوف ہو گیا ہے۔ہر کوئی غصّہ اور جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آتا ہے اور ایسے حالات جرائم کی شرح میں اضافے کا سبب بنتے ہیں ۔
گرمی کے اس موسم میںرات گئے لوڈشیڈنگ نے زندگی کو ابھی سے جہنم بنا دیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واپڈا پاکستانیوں کو جہنم کی پریکٹس کروا رہا ہے'جس میں اندھیرا ،تپش اور پسینے کی لو شامل ہو گی۔لوڈشیڈنگ سے جہاں بچوں ، طلباء ، جوانوں اور بوڑھوں پر اثر پڑ رہا ہے وہیںمریضوں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں ۔معاشرہ احساسِ کمتری کے علاوہ دیگر نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو تا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں ماہرِ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر کاشف فراز کا کہنا ہے کہ:
''موسم انسانی صحت اور شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ گرمیوں میں عام انسان کے جسم کا درجہ حرارت، غصّہ،جھنجھلاہٹ،تشویش،کشمکش اور ڈیپریشن بڑھ جاتا ہے۔خاص طور پر جو نفسیاتی مریض ہوتے ہیں انکا مرض بھی بڑھ جاتا ہے اور ایسے موسم میں جب لوڈشیدنگ ہو رہی ہو تو جن چیزوں کو Calm downاور Coolکرنا ہوتا ہے،فرد کی شخصیت اور فرد کے جذبات کو برانگیختہ ہونے سے بچانا ہوتا ہے'تو جب بجلی نہیں آتی ہو تو غصّہ بڑھ جاتا ہے اوراس شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔خاص طور پر اس ساون بھادوں کا موسم تو ڈیپریشن اور پاگل پن کو بڑھا دیتا ہے۔نفسیاتی امراض میں مبتلا لوگوں کو اس موسم میں پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں یا کوئی نفسیاتی مریض پہلے سے زیادہ پریشان ہو جاتا ہے۔لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عام آدمی میں ضبط و تحمل کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور بلا وجہ غصّہ اور جھنجھلاہٹ طاری ہوجاتی ہے۔اسکا سب سے بڑا نقصان یہ ہو تا ہے کہ attitude of lifeبہت حد تک متاثر ہو تا ہے اور دن بھر کے کاموں کی روٹین خراب ہو جاتی ہے۔
ہم نفسیات میں کہتے ہیں کہ سب سے بڑا مسئلہ نفسیاتی طور پر اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی بھی شخص کے معمولاتِ زندگی متاثر ہوں۔سب سے پہلے اس میںintereptionہوتی ہے پھر نیند خراب ہوتی ہے،لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نیند خراب ہونے سے دن بھر موڈ خراب رہتا ہے اور فرد اپنے کام کو accurateنہیں کر پاتاپھر فرد خود کو اچھا اور بہتر کام کرنے کے لئے boost upدینا چاہتا ہے لیکن موسم اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اچھا کام نہیں ہو پاتا تو اسکا بحران مزید بڑھ جاتا ہے۔وہ فرد خود کو ایسی کشمکش میں پاتا ہے جہاں وہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ مجھے یہ کام کرنا بھی چاہئے یا نہیں!
productivelyپیداوار کم ہو جاتی ہے،کام کرنے کی صلاحیت،منزل کو حاصل کرنے کی لگن بھی کم ہو جاتی ہے۔جب ان ساری چیزوں کی بدولت فرد میں چڑچڑاپن،اعصابی کھنچاؤ، غصّہ اور جھنجھلاہٹ بڑھ جاتا ہے تو پھریہ angerness (غصّہ)سے تبدیل ہوتا ہے 'فرد سے حکومتوں کی جانب،ملک کی جانب، ریاست کی جانب اور مذہب کی جانب۔ہر چیز بری اس لئے لگنے لگتی ہے کہ ماحول میں منفیت بڑھ جاتی ہے تو اس بارے میں ماہرِنفسیات کا کہنا یہ ہے کہ جب لوڈشیڈنگ کی طرح کی چیزیں بڑھنا شروع ہو جائیں تو ناصرف لوگ نفسیاتی مریض بننا شروع ہو جاتے ہیں بلکہ نفسیاتی امراض میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔''
میںیہاں یہ کہہ کر اختتام کرنا چاہوں گا کہ حکمرانوں کو یہ سوچنا پڑے گا کہ انہوں نے نفسیاتی ذلّت سے برسرِپیکار اسی رعایا پر ہی حکمرانی کے مزے لوٹنے ہیں 'اس لئے ان کواس دن سے بچنا چاہئے جس دن فرد اور پھر افراد اور پھر پوری قوم کا غصّہ حکومت کی جانب بڑھے گا۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جینریٹرز محلات سے نکل کر عوام میں بیٹھ کر گرمی کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے خون پسینہ ایک کرکے فیصلے کئے جائیں کیونکہ اسی میںانکی اور عوام کی بقاء کا عنصر موجود ہے۔