پاکستان سے ہزاروں میل دور آسٹریلیا میں بھی بیٹھ کر ہم جیسے لوگ پاکستان میں ہی رہتے ہیں۔ سارا دن پاکستانی ٹی وی چینل دیکھتے ہیں اور انٹر نیٹ پر پاکستانی اخبارات پڑھتے ہیں اور اس سب سے جو حاصل ہوتا ہے وہ صرف ذہنی دباؤ اور بلڈ پریشر ہے۔
صبح سے رات تک پاکستانی ٹی وی چینل چھ ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کا راگ الاپ رہے ہیں اور اس راگ کو سُن سُن کر محسوس یوں ہوتا ہے کہ جب سیاسی جگادریوں نے یہ طے ہی کر لیا کہ صاحبِ زر آصف زرداری کو ہی ملک کا ‘‘صدر‘‘ بنوانا ہے تو پھر بھلا یہ ‘‘ٹوپی ڈرامہ‘‘ کیوں کھیلا جا رہا ہے؟اس دوڑ میں اسوقت تین لوگ شامل ہیں جن میں سے ایک خود
آصف زرداری ہیں،دوسرے ریٹائرڈ جسٹس سعید الزمان صدیقی ہیں اور تیسرے مشاہد حسین۔ زرداری اور مشاہد کےبارے میں تو لگ بھگ سب بخوبی واقف ہیں لیکن جسٹس صاحب کے بارے میں لوگوں کو بہت کم معلومات ہیں۔ ہاں اگر کچھ علم ہے تو جسٹس سجاد کیس اور انکی بیگم کی پمز کی سربراہ کے طور آؤٹ آف ٹرن ترقی ہے۔
حالت اسوقت یہ ہے کہ اسی صدارتی انتخاب کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے قائدین کے خلاف نیب نے پرانے مقدمے ایک بار پھر کھول دیئے ہیں اور ق لیگ کے کچھ لوگوں کے بارے میں پیپلز پارٹی کہہ رہی ہے کہ وہ زرداری کو ووٹ دیں گے۔
ایسے میں مسلم لیگ (ق) نے سینیٹ کے قائمقام چیئرمین میر جان جمالی کی آٹھ سینٹرز کے ہمراہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات اور مبینہ طور پر صدر کے انتخاب میں آصف زرداری کی حمایت کی یقین دہانی کروانے پر قانونی کارروائی کے دھمکی دی ہے جبکہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف احتساب کے ادارے نیب کی جانب سے ایک پرانے مقدمے کی سماعت کی درخواست کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دیا ہے۔‘‘ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘‘
اور یہاں اپنا یہ حال ہے کہ ھمیشہ کی طرح آج بھی کئی بار سوچا کہ کیا ھم پاکستان سے الگ ھیں یا ھمیں الگ کیا جا رھا ھے کہ ھر آنے والے نئے دن کے ساتھ یوں لگتا ھے جیسے ھم اپنے پاکستان سے بچھڑتے جارھے ھیں ۔ پاکستان میں ھونے والا کوئی کام بھی تو محبت اور اخوت کا پیغام نہیں دیتا ۔ یہ بھی سچ ھے کہ ہم نے خود ہی اپنے ملک کو سب کی نظروں سے گرایا ھے ۔ اور معاشرے کے اٍس بگاڑا میں خوفٍ خدا کی کمی نے بہت بڑا کردار ادا کیا ھے اور فانی زندگی نے کچھ اٍس طرح سے ھم سب کو شکار کیا کہ ھمیں اچھے برے کی تمیز ھی نہیں رھی ۔ اٍس وقت جو کچھ بھی ھورھا ھے اُس پر قانون اور انسان سب چپ ھیں ۔ عدل وانصاف کی باتیں کرنے والے حکمران جو خود قانون کو پاؤں میں پہننے والئ جوتی سے بھی کم جانتے ھوں وہ آج ھمیں انصاف دینے کی باتیں کر رھے ھیں ۔ چلیئے ایک کام کرتے ھیں آج سے ھم سب بے حس ھو جاتے ھیں کیونکہ پاکستان کی ننانوے فیصد آبادی یہ تسلیم کر چکی ھے کہ وہ بے حس معاشرے سے تعلق رکھتی ھے ، سو باقی ایک فیصد کو بھی اُن جیسا ھو جانا چاھیئے ورنہ اُن کی پاکستانی شہریت خطرے میں پڑ سکتی ھے ۔
ایسا کچھ عجیب بھی نہیں ھوا ھے جو میں یہ سب لکھنے بیٹھ گئی ھوں ، بس اتنا ھی ھوا کہ آج ایک دوست نے کام پر باتوں باتوں میں پوچھ لیا کہ پاکستان کا صدر کون بنے گا ؟ اور چلتے چلتے یہ بھی کہا کہ کیا تم لوگوں کے پاس حکومت کرنے کو مسٹر ٹین پرسنٹ ھی رہ گیا ھے ۔ تمھارے ھاں کوئی پڑھا لکھا ، ایماندار ، خیر خواہ ، قوم و ملک سے مخلص ، عدل و انصاف کرنے والا ، مہربان دردمند رھنما نہیں ھے میں نے حیرانگی سے اپنے دوست کو دیکھا اور پوچھا کہ کیا تمھاری نظر میں ایسا کوئی رھنما ھے جو یہ سب معجزے جانتا ھو ۔ وہ ھنس دیا اور کہنے لگا کہ جو قومیں اپنے سائنسدانوں ، محسنوں اور دانشوروں کو بھول جاتی ھیں وہ بھلا یہ معجزے کیسے دیکھ سکتے ھیں ۔ میرے پاس اپنے دوست کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا پر اُس نے ایک بار پھر مجھے پاکستان کے حالات پر آرزدہ کر دیا ھے ۔
جمہوریت کی آڑ میں جو آمریت کا کھیل کھیلا جا رھا ھے وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ھے لیکن حیرت یہ ھے کہ پی پی پی کو نہ سمجھ آ رھا ھے اور نہ دیکھائی دے رھا ھے ۔ اب یہ بات تو وہی ھوئی نہ کہ “ جانے نہ جانے گل ھی نہ جانے باغ تو سارا جانے ھے “ ۔
لوگ کہتے ھیں پاکستان کا نام گنزورلڈ بک میں آنا چاھیئے کہ اٍس ملک کا قانونی صدر غیرقانونی ہونے کے باوجود قانونی صدر تھا ۔
آئین برقرار ہونے کے باوجود بھی معطل ہے اور سپریم کورٹ باہر ہونے کے باوجود موجود ہے۔ قانون ساز ادارے ہونے کے باوجود ، موجود
نہیں ہیں۔ اور اب صدر بننے کے لیئے ریس میں جن گھوڑوں کے نام آ ئے ھیں اُن میں آصف علی زرداری جنہیں نہ صرف گھوڑوں کی ریس میں جیتنا آتا ھے بلکہ “ھارس ٹریڈنگ “ کے ماھر بھی مانے جاتے ھیں ۔ سیاستدانوں کا کہنا ھے کہ زرداری بڑے منجھے ھوئے سیاستداں ھیں ۔ ھم بھلا کون ھوتے ھیں اعتراض کرنے والے لیکن ایسا کہنے والے یہ بھول جاتے ھیں کہ جس طرح سے زرداری صاحب بے نظیر کی شہادت کے بعد کھُل کر سامنے آئے ھیں سچ یہی ھے کہ وہ “ خلائی سیاستدان “ ھیں ورنہ وہ بی بی کے زمانے میں بھی اتنے ھی ھوشیار اور منجھے ھوئے ھوتے ۔ اپنے وعدوں کا پاس رکھنے والے ھوتے چاھے وہ وعدے نواز شریف کے ساتھ کیئے تھے یا بھولنے والی بھولی قوم سے ۔ اگر زرداری ذرا سے بھی ھوشیار ھوتے تو اپنے ساتھ اوروں کو بھی گناہ گار سمجھتے ھوئے اُن کے بھی مقدمات صفحہ ھستی سے مٹا دیتے ، پھر وہ چاھے ججوں کو گھر بھیج دیتے یا آسمان پہ ، بھلا کس نے شور مچانا تھا ۔ اور کس کی جرات ھوتی جو اپوزیشن میں امیدوار کھڑے کرتے ، وہ بھی ایک وکیل اور ایک سیاستدان کم جرنلسٹ زیادہ ۔
توبہ کیجئے تینوں میں سے کوئی آصف علی زرداری جیسی پروفائل والا نہیں ھے۔ زرداری پاکستان کا دوسرا سب سے زیادہ امیر آدمی ھے ۔ جس کے اثاثوں کا سب کو علم ھے کہ کیسے بنے اور کہاں ، کس بینک میں ھیں ۔ زرداری پر دنیا کا ھر قسم کا مقدمہ کئی عدالتوں میں چلا اور بیوی کی دنیا سے رخصت ھوتے ھی اُس پر لگے سارے الزام بھی رخصت ھو گئے ۔ آج دنیا کے کسی حکمران کو اٍس حاکم میں کوئی اخلاقی ،معاشی ، سماجی اور سیاسی برائی نظر نہیں آتی ۔
سچ یہ ھے کہ آج بھی اگر کسی صاحب عزت سے پوچھیں کہ اگر آپ پاکستان کے صدر ھوتے تو کیا کرتے ؟ وہ بڑی منت سے جواب دیتے ھیں کہ “ جی دیکھیئے گالی تو نہ دیجیئے “ ۔ اب کیا کہیں کہ پاکستاں کی سیاست “دھمکی اور پیسے کی سیاست “ کے علاوہ کچھ نہیں رھی ۔ کوئی بھی سچا صاف ستھرا پڑھا لکھا اٍس کیچڑ میں میلا نہیں ھونا چاھتا ۔
بھلا بتا یئے جہاں پر فوجی آمریت سے بچنے کے لیئے ایک خاندان کی جمہوری آمریت کو سہنا پڑے تو اُس ملک کو کہاں تک زندہ رکھا جا سکتا ھے ۔ کسی میں بھی تو یہ سچ کہنے کی ھمت نہیں ھے کہ صدر جیسے منصب کے لیئے تینوں امیدوار مناسب نہیں ھیں ۔ اٍن میں سے کوئی بھی تو ایسا نہیں ھے جو صاحبٍ کردار ھو اور اسُ کی اپروچ انٹرنییشنل لیول کی ھو اور دنیا کے سامنے صرف پانچ منٹ کے لیئے ھی (صیحع ) انگریزی میں تقریر کر سکتا ھو ، اُن کی کانفرنسز اٹینڈ کر سکتا ھو اور ھزار باتوں کی ایک بات کہ بس اُن میں “ انگریزی کمپلکس “ نہ ھو ۔
لیکن ایسا نہیں ھے سو ایک بار ھم سب پھر دیکھیں گے کہ چھ ستمبر کو ایک ایسا شخص حکمران بن جائے گا جو اٍس منصب کے لائق نہیں ھو گا ۔ ھم اور ھمارا پاکستان تو چونکہ بارہ مہینے اللہ جی کے ھی حوالے رھتا ھے سو وہ اب بھی رھے گا ۔ ہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ 1965کے بعد سے 6ستمبر پاکستان کی دفاعی تاریخ میں نہایت اہم دن رہا ہے کہ پاکستان کی فوج اور عوام نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دیکر مادر وطن کا دفاع کیا تھا۔ لیکن شاید یہ 6ستمبر کی تاریخ ہمارے لیئے ہمیشہ ہی ایک امتحان کا دن رہے گی۔ 1965میں تو بقول مبصرین کے دشمن نے پاکستان پر حملہ کیا تھا لیکن اب اس تاریخ کو یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم خود اپنے ملک ،اسکی بقا،سلامتی اور نظریاتی سرحدوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ مشرف گئے نہیں اب صرف نام بدل کر آئیں گے!