پاکستان کے قبائیلی علاقے جنوبی وزیرستان میں افغان سرحد پا رسے امریکی فوجیوں نے جو چار ہیلی کاپٹروں میں سوارتھے انگور اڈہ کے نزدیک ایک گاؤں موسی نکیہ پر حملہ کیا ہے اور تین گھروں میں گھس کر بیس سے زیادہ شہریوں کو ہلاک کر دیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس گاؤں کے ایک باشندے حبیب خان وزیر نے بتایا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر بدھ کی صبح تین بجے موسی نکیہ میں اترے او ر ان میں سوار امریکی فوجیوں نے ایک شخص پاؤ خان کے مکان پر حملہ کیا ۔ پاؤ خان اور اس کی بیوی جیسے ہی مکان سے باہر نکلے امریکی فوجیوں نے انہیں گولیوں سے بھون دیا اس کے بعد امریکی فوجیوں نے مکان میں گھس کر اس میں عورتوں اور بچوں سمیت سات افراد کو ان سے کؤی سوال کیے بغیر انہیں ہلاک کردیا۔عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے دو اور مکانات پر حملہ کیا اور ان میں بموں کے دھماکے کر کے پندرہ کے قریب افراد کو ہلاک کردیا۔ حملہ کے بعد امریکی فوجی متعدد افراد کو پکڑ کر اپنے ساتھ سرحد پار افغانستان کے لیئے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس حملہ کی تصدیق کی ہے لیکن تفصیل نہیں بتائی۔البتہ صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے ایک بیان میں اس حملہ کی مذمت کرتے ہؤے تصدیق کی ہے کہ اس حملہ میں خواتین اور بچوں سمیت بیس شہری ہلاک ہؤے ہیں۔ گورنر اویس احمد غنی کا کہنا ہے کہ امریکیوں کی یہ کاروائی پاکستا ن کی سالمیت پر براہ راست حملہ ہے اور پاکستان کے عوام مسلح افواج سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ملک کی سالمیت کے تحفظ کے لیئے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے حملوں کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
یہ ستم ظریفی ہے کہ اس حملہ سے چند گھنٹے قبل وزیر اعظم گیلانی نے دعوی کیا تھا کہ ہم امریکا کے غلام نہیں کہ اس کی پالیسیوں پر عمل کریں امریکا کی پالیسیوں پر عمل کرنے کی بات تو الگ رہی امریکی فوجیں پچھلے ایک عرصہ سے جب جی چاہتی ہیں سرحد پار افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر مزایل حملے کرتی ہیں اور پاکستان کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ امریکیوں سے کسی باز پرس کی ہمت نہیں ہوتی۔کچھ عرصہ قبل اسی علاقہ میںپاکستان کی فوج کی ایک چوکی پر امریکی مزایل حملہ ہوا تھا جں میں آٹھ پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔پاکستان اس واقعہ کو ایسے پی گیا کہ جیسے یہ ہوا ہی نہیں۔ اب امریکی فوج نے پاکستان کی سرزمین پر اتر کر یہ قبایلیوں پر یہ حملے کئے ہیںاور پاکستانی فوج نے کؤی جوابی کاروائی نہیں کی۔
پاکستان کی سرزمین کی حرمت اور اس کی سالمیت کی اس خلاف ورزی پر پاکستان کے عوام کے ذہن میں سوالات کا ایک سیل ہے جو امڈ آیا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سوال ہے کہ پچھلے چند برسوں سے امریکا کے مطالبہ پر پاکستان نے قبائیلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کی سپاہ اور ان کے حامیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے اپنی جوستر ہزار سے زیادہ فوج تعینات کر رکھی ہے کیا وہ امریکا کی ان کاروایوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ بتایا جاتا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں موسی نکیہ کے گاؤں میں جن مکانات پر امریکی فوجیوں نے حملہ کیاوہاں سے صرف تین سو میٹر کے فاصلہ پر پاکستانی فوج کی چوکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس چوکی پر تعینات پاکستانی فوجیوں نے اس حملہ کا مقابلہ کیوں نہیں کیا ۔کیا پاکستانی فوج کے جوان بے بسی سے یہ کاروائی دیکھتے رہے؟
ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پچھلے دنوں امریکی تباہ کن جہاز پر پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی کے امریکی افواج کے سربراہ اور سنٹرل کمان کے کمانڈروں سے صلاح مشورہ کے بعد پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں افغان سرحد پار سے امریکا کے مزائیل حملوں میں اچانک شدت آئی ہے اور پچھلے ہفتہ ہر روز قبائیلی علاقوں میں امریکی مزایل حملے ہؤے ہیں اور اب کھلم کھلا پہلی بار امریکی فوجی پاکستان کی سرزمین پر اترے ہیں اور انہوں نے یہ کاروائی کی ہے۔جس کا قطعی کؤی جواز نہیں۔
یہ سوال بھی عوام کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے کسی خفیہ سمجھوتے یا سودے کے تحت امریکا کو پاکستان کی سرزمین پر کھلم کھلا فوجی کاروائی کی اجازت دی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں بار بار یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ امریکا پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ قبایلی علاقوں میں پاکستان اور امریکا کی فوجیں مشترکہ کاروائی کریں اور امریکی فوجوں کو پاکستان کی سرزمین میں داخل ہو کر طالبان اور القاعدہ کے خلاف کاروائیوں کی اجازت دی جائے لیکن پاکستان نے اس پر اتفاق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب اس معاملہ میں حکومت پاکستان کے موقف میں کؤی تبدیلی آئی ہے اور کیا اسباب ہیں اس موقف میں تبدیلی کے کہ اب امریکی فوجوں کو پاکستان کی سر زمین پر فوجی کاروائی کی اجازت دی جارہی ہے ۔
ان خبروں کے پس منظر میں کہ امریکا نے جنرل مشرف کو صدارت سے دست بردار ہونے کے لیئے آمادہ کرنے کے عوض پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری سے پس پردہ سودہ کیا ہے جس کے تحت یہ طے کیا گیا ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف آین کی خلاف ورزی کرنے اور ان کے غیر آینی اقدامات کا نہ تو کؤی محاسبہ کیا جائے گا اور نہ ان کے خلاف کسی قسم کا کؤی مقدمہ چلایا جائےگا یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا آصف علی زر داری نے اسی سودے کے تحت امریکیوں کو پاکستان کی سرزمین پر فوجی کاروائیوں کی اجازت دی ہے جو پاکستان کی بالادستی اور حاکمیت کی صریح خلاف ورزی ہے کیا یہ ثابت کیا جارہا ہے کہ ملک کے نئے حکمران اس علاقہ میں امریکی پالیسیوں اور ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے میں جنرل مشرف سے بھی آگے جانے اور انہیں مات دینے کے لیے آمادہ ہیں۔
یہ اہم سوالات ہیں جو جنوبی وزیرستان میں امریکی حملہ کے بعد عوام کے ذہنوں میں ابھر رہے ہیں اور یہ سوالات ہیں جو وہ اپنی منتخب حکومت سے کرنے میں حق دار اور حق بجناب ہیں ۔