
مرزا نوشہ حضرت غالب نے تو اپنے قلبی درد کو جاننے کے لیئے ماجر ے کے کوائف جاننے چاھے تھے ۔پر کہتے ھیں کہ شاعر تو الہامی ھوتا ھے اور اُس پر غیب سے مضامین اترتے ھیں ، سو غالب نے بھی ھر زمانے کے ھر انسان کو یہ غیبی مصرعہ ھدیتاٰ عنایت کیا ھے ۔
ایسا ھی غیبی مضمون کل ھمارے وزیر اعظم کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا حکم دینے والوں پر اترا ھے ۔ حیرت ناک بات جو ھوئی ھے وہ یہ کہ تحقیقات کا حکم دینے والوں دونوں مشیروں کوجو وزیر اطلاعات اور الہام بھی ھیں ، انہیں الگ الگ الہام ھوئے ھیں ۔

دوستو بات یہ ھے کہ کل وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی گاڑی پر تین گولیوں سے حملہ ھوا اور حملے کے بعد تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے جبکہ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے سراغ رساں کتوں کی مدد سے سرچ آپریشن بھی کیا گیا۔
اور پولیس ذرائع کےمطابق یہ بھی پتہ چلا ھے کہ قافلہ جب فائرنگ کے مقام سے گذرا تو پہاڑی کے اوپر راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کے مسلح اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے،جنھوں نےپہاڑی کے اردگرد کوئی مشکوک نہیں دیکھااور فائرنگ کی آواز نہیں سنی۔
اب ایک خبر یہ بھی آئی تھی کہ “ وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی گاڑی پرفائرنگ نامعلوم افراد نے فائرنگ کی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے وزیراعظم گاڑی میں موجود نہیں تھے، فا ئرنگ سے گاڑی کو شدید نقصان پہچنا۔ ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے واقع کی تصدیق کردی ہے “ اور پھر سب نے اظہار شکر بھی ادا کیا کہ وزیر اعظم بچ گئے ۔ میں حیران ھوں کہ اتنی بڑی خبر کو سارے چینیلز نے معمول کی خبر جانا اور زیادہ بحث میں نہیں پڑے کہ وزیر اعظم بچے تو بچے کیسے ۔ دوھی قیافے ھیں کہ یا تو امریکہ نہیں چاھتا ھو گا یا پھر واقعی وزیر اعظم گاڑی میں نہیں ھو نگے ۔ کیونکہ ھمارے ھاں اللہ میاں کو فرصت ھے ، اُس نے بھی ھمیں امریکہ کے سپرد کر کے ھمیں آزمانے کا تہیہ کیئے بیٹھا ھے ۔
سو ابھی وزیروں میں باھمی مشاورت ھو رھی ھے کہ آیا وزیر اعظم گاڑی میں تھے بھی یانہیں ۔ اگر تھے تو جارھے تھے کہ آ رھے تھے ۔ جیسے ھی فیصلہ ھو گا ۔ بھولی عوام کو مزید گمراہ کر دیا جائے گا ۔ بات یہ ھے دوستو کہ پی پی پی اتنے جھوٹ بولتی ھے اور اتنی دھول آنکھوں میں جھونکتی ھے کہ اب خود انہیں بھی سچ بولنا بھول گیا ھے اور دھول خود انہی کی آنکھوں میں اترنے لگی ھے ورنہ عوام اور میڈیا کی توجہ زرداری کی خود غرض سیاست اور حالیہ انگور اڈہ پر امریکن حملوں کو روکنے میں ناکامی کو چھپانے کے لیئے اٍس سے زیادہ سنسنی خیز خبر ھو بھی کیاسکتی تھی ۔ اٍس موقع پر مشرف بھی نہیں تھے ورنہ وہی کام آ جاتے ۔
کہانی کے اٍس نازک موڑ پر کل وفاقی وزیراطلاعات ونشریات شیری رحمن نے اے آروائی ون ورلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم بالکل خیریت سے ہیں اور اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ حملے کی اطلاع ملی ہے مگر ابھی ہم اس کی تحقیقات کررہے ہیں جس کے بعد اپنا ردعمل جاری کریں گے
“ لیجیئے صاحب وزیر اعظم اپنی جان سے گئے اور شریں رحمان کی ادا ٹھہری کہ وہ تحقیقات بعد انہیں پوچھیں گی ، اب یہ نہیں پتہ کہ خیریت یاپھر مذمت کہ تم کیسے وزیر اعظم ھو پی پی پی کی تاریخ ھی الٹ دی کہ صیحع طرح سے مر بھی نہیں سکے ۔
انہیں شاید نہیں معلوم کہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ھے کہ پاکستان میں تحقیقاتی ادارے نام کا کوئی ادارہ ھی نہیں ھے ورنہ لیاقت علی خان سے لے کر بے نظیر تک کی شہادت کی تحقیقات بھی دو دنوں میں ھو چکی ھوتیں ۔ ایسے میں وزیر اعظم پارٹی کی خود غرضی کی بقا کے لیئے بھلاخود کیوں فنا ھوتے۔

خیر ھماری وزیر اطلاعات ونشریات سے تو بھائی الطاف ھی اچھے رھے جنہوں نے لندن سے اٍس واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے فون پر گفتگو کی اور اس واقعہ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا بلکہ مزید کہا کہ وزیراعظم کے قافلے پر حملہ معمولی واقعہ نہیں، یہ حملہ پاکستان میں جمہوریت کو غیرمستحکم کرنے اور پرامن عوام کو مشتعل کرنے کی گھناونی سازش ہے۔ جی بالکل درست فرمایا ھمیں بھی تشویش ھے کہ جس ملک کا کا وزیر اعظم محفوظ نہیں ھے وہاں پر ھم آپ کیابیچتے ھیں ۔
آخر یہ کونسی سازش ھے کہ حقیقتوں پر پردہ ڈالنے کے لیئے سازش کرنے والے تو سلامت رھیں اور مرنے والے مشتعل بھی ھوں اور سازشی بھی کہلائیں۔ کیا یہی جمہوریت کی سلامتی ھے ؟؟ ۔ اگر یہی ھے تو پھر یہ وکیل کونسی سلامتی مانگ رھے ھیں اور اُس کے لیئے کیوں دھکے ڈنڈے تک کھا رھے ھیں ۔
پھر تو انگور اڈہ پر امریکہ من مانی بھی جمہوری روایات کے مطابق ھی کر رھا ھے ، ڈاکٹر عافیہ بھی تو مسلمانوں کی جمہوری بے حسی کا شکار ھو رھی ھے اور یہاں اپنے ھی گھر اپنے ھی وطن میں ھم سب مہنگائی سے اندھیرے میں جمہوری نظام کی خاطر ھی تو لڑ مر رھے ھیں اور ھمارے ھی ملک میں ساری باتوں سے بے نیاز ھو کر کل آصف علی زرداری ر بارویں جمہوری صدر کا سہرا بھی باندھ رھے ھیں ۔ حیران ھو رھی ھوں کہ ھر کام اتنے مستحکم انداز میں ھو رھے ھے پھر بھلا الطاف بھائی کو اب جمہوریت میں غیر مستحکم کیا لگا ؟؟؟ ۔۔۔
مقتل میں جشن برپا ھے یا الہی یہ ماجرہ کیا ھے