Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 03 Dec 2008 01:26:12   |   |   |  Text Only Version

Sun, 07 Sep 2008 02:44:00

‘‘زرداری کی سرداری ہے‘‘



پیپلزپارٹی کو اگر بڑی فتح اور غالب اکثریت حاصل ہوئی ہے تو انکے فرائض میں بھی بہت اضافہ ہو گیا ہے۔لوگوں کی امیدیں بھی ان سے بڑھ گئی ہیں اور یاد رکھیں یہ امیدیں جب ناامیدی میں تبدیل ہوتی ہیں تو ایسی سرخ آندھی چلا کرتی ہے جو اپنی تند وتیز ہواؤں میں سب کچھ اُڑا لے جاتی ہے۔

لیجئے صاحبو تقویم ماہ و سال کے اعتبار سے 1965کے بعد اب 2008کا بھی 6ستمبر گزر گیا اور وطن عزیز پاکستان میں ملکی تاریخ کا بارہواں صدر اطلاعات کے مطابق بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گیا اور اسی صدر کے بقول‘‘ جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اقتدار اور اختیارات کا بھاری پن کہیں جمہوریت سے انتقام نہ لینے پر اُتر آئے۔

ایک اہم مرحلہ ختم ہوا اور اس سے قبل بھی بہت سے اہم مراحل ختم ہو چکے ہیں لیکن وائے تاسف کی بیچارے عوام اسی طرح اکھڑے اکھڑے سانس لینے کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ اے کاش ان غربت زدہ اور مفلسی کے مارے ہوئے عوام کی نحیف آواز پارلیمان میں کسی کے کان تک پہنچ سکے یا پھر غریب عوام کی پارٹی ہونے کی دعویدار جماعت پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کی قیام گاہ اور اب اسی جماعت کے صدر کے ایوان صدر کی بلند و بالا دیواروں سے دوسری طرف سنائی دے سکے۔

پاکستان میں فوجی حکومتوں نے تو عوام کے ساتھ جو کچھ کیا سوکیا لیکن سول حکومتوں کا ریکارڈ بھی کوئی ایسا قابل رشک نہیں ہے اور اسکی سب سے بڑی وجہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان ایک وسیع خلیج ہے جس میں عوام صرف اور صرف ووٹ دینے والی مشین ہیں اور حکمرانوں کو جیسے ان پر حکمرانی کا حق اللہ تعالیٰ نے تفویض کیا ہے۔

اپریل میں ہونے والے انتخابات کے نتائج سے لیکر وفاقی اور صوبائی حکومتیں قائم ہونے تک ‘‘بیچارے عوام کی حالت‘‘ قطعی طور پر نہیں بدلی بلکہ سچی بات یہ ہے کہ مصائب و آلام میں اضافہ ہوا ہے اور رہی سہی کسر اس ‘‘رمضان المبارک‘‘ نے پوری کر دی ہے کہ ملک کے اکثر علاقوں میں ہری مرچ پچیس سے تیس روپے کلو مل رہی ہے۔ آٹے،دال اور دیگر ضروریات زندگی کی بات کو کیا کریں۔ایک کسر رہ گئی تھی وہ بجلی کے نرخوں میں اضافے نے پوری کر دی۔ عجب حال ہے کہ بجلی آئے یا نہ آئے بجلی کا بل ضرور ادا کرنا ہے۔

اسلام کے نام پر حاصل کیئے جانے والے پاکستان میں ہم ہمیشہ سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ ادھر رمضان المبارک آیا اُدھر روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا اور روزے دار کی چیخیں نکل گئیں۔ دوسری طرف وہ مغربی ممالک ہیں جنہیں ہم کافر اور بے دین کہتے نہیں تھکتے جہاں کرسمس اور ایسے ہی دیگر تہواروں کے مواقع پر اشیا کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں۔ اس تفاوت کو کیا نام دیا جائے۔

بات پاکستان کے نئے صدر آصف علی زرداری کے انتخاب سے شروع ہوئی تھی اور رُخ ان عوام کی جانب مُڑ گیا جنکی حالت بدلنے کو کوئی جماعت،کوئی پارلیمان، کوئی وزیر اعظم اور کوئی صدر تیار نہیں۔

اس انتخاب کی بھی اچھی بات یہ رہی کہ باقی دونوں امیدواروں مشاہد حسین سید اورسعید الزمان صدیقی نے صدارتی انتخاب کے غیر سرکاری نتائج کو تسیلم کرتے ہوئے نو منتخب صدر آصف علی زرداری کو مبارکباد دی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ آصف زرداری ملکی مسائل کے حل کے لیے سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔

دیکھنا یہ ہے کہ یہ امید صرف ان دونوں افراد کی نہیں بلکہ یہ امید تو وطن عزیز کے کروڑوں عوام کی ہے اور اس امید کو کم ازکم اب یقین کا روپ اس لیئے اختیار کرنا چاہیئے کہ اب حکومت کے پاس کوئی کسی قسم کا عذر باقی نہیں رہا۔ وفاق اور صوبوں میں حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہے،ملک کا وزیر اعظم بھی اسی جماعت کا ہے اور اب ایوان صدر میں بھی اسی جماعت کا صدر موجود ہے۔ اب کوئی یہ نہیں سکے گا کہ ایوان صدر میں سازش ہو رہی ہے اور عوامی حکومت کے منصوبوں کی منظوری کی فائلیں دستخط نہیں ہو رہیں۔ اب اگر بہت جلد اس ملک کے غربت زدہ عوام کو ریلیف نہیں دی گئی تو شاید حکومت اور جمہوریت پر سے عوام کا اعتماد ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے اٹھ جائے گا۔

یہ بات کرنا اب شاید حکمرانوں کو زیب نہ دے کہ‘‘یہ سب کچھ پچھلی حکومت کا کیا دھرا ہے اور ہمارے پاس الہ دین کا چراغ نہیں‘‘ اے صاحبانِ حکومت یقین کریں کہ الہ دین کا چراغ آپ کے پاس ہے اور اسکا نام ہے‘‘ نیت اور یقین‘‘۔ ایک مرتبہ عہد کرلیں کہ اگلے تین نہیں تو چھ ماہ میں سب سے پہلے اس ملک کے غربت زدہ عوام کی اکثریت کے بنیادی روزمرہ کے مسائل حل کرنے ہیں اور طویل المعیاد منصوبوں کے ساتھ ملک کی اقتصادی صورت حال تبدیل کرنی ہے اور اسے سیاسی اور اقتصادی استحکام دینا ہے۔ ایک بار نیت اور عہد کر لیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل حال رہے گی۔ اور اگر معاملہ اسکے برعکس ہو گا تو پھر نتائج بھی بہت جلد اسکے برعکس ہوں گے۔

ماضی کے آمروں اور ڈکٹیٹروں کی بات نہیں بلکہ ابھی چند روز پہلے تک جنرل مشرف جو اقتدار کو چھوڑنے پر راضی نہیں تھے انہیں بھی حالات نے جانے پر مجبور کیا اور دنیا کی واحد بڑی اور طاقتور طاقت بھی انہیں نہیں بچا سکی۔ قرآن کی آیت کی روشنی میں یہ ‘‘کھلی کھلی نشانیاں ہیں‘‘۔

پیپلزپارٹی کو اگر بڑی فتح اور غالب اکثریت حاصل ہوئی ہے تو انکے فرائض میں بھی بہت اضافہ ہو گیا ہے۔لوگوں کی امیدیں بھی ان سے بڑھ گئی ہیں اور یاد رکھیں یہ امیدیں جب ناامیدی میں تبدیل ہوتی ہیں تو ایسی سرخ آندھی چلا کرتی ہے جو اپنی تند وتیز ہواؤں میں سب کچھ اُڑا لے جاتی ہے۔

ملک کا صدر وفاق کی علامت ہوتا ہے۔ وہ کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں بلکہ پورے ملک کا صدر ہوتا ہے۔ انتخبات سے پہلے پیپلز پارٹی کے اکابرین ریڈیو ،ٹی وی اور اپنی تحریروں میں آصف زرداری کے وفاق کی علامت ہونے کی جو باتیں کرتے رہے ہیں آصف زرداری کو اب اس کا پاس کرنا ہو گا۔

وہ ان تمام تر اختیارات اور طاقت کے ساتھ آئے ہیں جو ان سے پہلے کے جنرل مشرف کو حاصل تھے۔ابھی سترھویں ترمیم بھی وہیں ہے اور اٹھاون ٹو بی بھی، وزیر اعظم بھی انکا، ایوانوں میں اکثریت بھی انکی، بیوروکرسی بھی انہی کی۔ساری طاقت بھی انہیں کے ہاتھ میں،تمام وسائل بھی انہیں کے پاس۔اب ایسے میں کیا عذر باقی رہ جائے گا؟

میں سمجھتا ہوں کہ اب صحیح معنوں میں ‘‘زرداری کی سرداری ہے‘‘ اور آصف زرداری کے لیئے یہ آخری اور نادر موقع ہے کہ وہ سارے ملک کی سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملائیں اورایوان صدر کو جوڑ توڑ کا مرکز بنانے کی بجائے ملکی سیاسی استحکام اور ترقی کا مرکز بنائیں۔ خود اپنے سمیت وزیر اعظم،وزرا اور دیگر سرکاری افسران کی شاہ خرچیاں ختم کریں،سادگی اپنائیں اور سادگی اپنانے کا حکم دیں،عوام کی طرف نگاہ ڈالیں اور انکے یرقان زدہ چہروں کو تازگی کی نوید دیں، پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کا عہد کریں،امریکہ اور برطانیہ سمیت دوسری بڑی طاقتوں پر انحصار اور اعتبار کرنے کی بجائے اپنی فوج اور اپنے عوام کی طاقت پر بھروسہ کریں،پاک فوج کو اسکا کھویا ہوا وقار دلوائیں اور عوام کی نظر میں انکی عزت بحال کریں، اپنی سیاسی جماعت کے مقتدر احباب کو ساتھ رکھیں،اپنے ساتھیوں کو اپنی طاقت بنائیں نہ کہ ان سے خوف زدہ ہوں، حکومت کو حاکمیت نہ سمجھیں، تخت اور تختے کے درمیان فرق محسوس کریں،ایوان صدر اور جیل خانے تک کے درمیانی فاصلے کو نگاہ میں رکھیں،عدل پر یقین رکھیں اور ججوں کو کرپٹ نہ بنائیں،سب سے پہلے خود کو عدل کے سپرد کریں، اپنی تمام تر جائیداد اور وراثت کو عام کریں تا کہ جب ایوان صدر سے جائیں تو لوگوں کو علم ہو کہ ‘‘مسٹر ٹین پرسنٹ‘‘ فقط الزام تھا،کہیں یہ نہ ہو کہ بے حساب اختیارات اور طاقت اقتدار کو عوام اور ملک کے لیئے ایک مصیبت اور عذاب بنا دیں۔

پاکستان میں میجر جنرل سید اسکندر مرزا،فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ،آغا محمد یحیٰی خان،ذوالفقار علی بھٹو،فضل الہی چوہدری،آمر مطلق جنرل محمد ضیاالحق،محمد غلام اسحاق خان،وسیم سجاد،سردار فاروق احمد خان لغاری،محمد رفیق تارڑ اور اس عہد کے آمر مطلق جنرل پرویز مشرف کے بعد اب آصف زرداری ملک کے بارہویں صدر ہیں اور انکی زندگی میں بارہ کے عدد کو بہت سی مناسبتوں سے بڑی اہمیت حاصل ہے،اللہ کرے کہ وہ اس بارہ کے عدد کی لاج رکھ سکیں۔

ملک کی باقی تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اب سیاسی محاز پر کچھ دیر کے سیز فائر کر کے ایسا ماحول بنانا چاہیئے کہ ملک کو مسائل اور بے یقینی کی دلدل سے نکالا جائے۔اللہ کرے کہ ایوان صدر اور ایوان وزیر اعظم صحیح معنوں میں عوام کے لیئے نیک شگون ثابت ہو۔

آصف علی زرداری 26جولائی 1955 کو کراچی میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس اسکول کراچی اور پٹارو کیڈٹ کالج جامشورو سے حاصل کی۔18 دسمبر 1987 کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم، ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔1990 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اٹھا ون ٹو بی کی استعمال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت کو برطرف کر دیا، آصف علی زرداری کو مختلف مقدمات میں پہلی بار جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ 1993 میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آئی اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے دوسری بار وزیر اعظم کا حلف اٹھایا جس کے فوراً بعد آصف علی زرداری بھی رہا ہوگئے۔

بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں آصف علی زرداری رکن اسمبلی بنے اوروزیر ماحولیات مقرر ہوئے۔1996 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد آصف علی زرداری کو ایک پھر مالی بد عنوانوں اور مرتضی بھٹو قتل کیس میں جیل جانا پڑا۔ 5 اکتوبر2007 کو صدر مشرف نے متنازعہ این آر او جاری کیا جس کا سب سے زیادہ فائدہ آصف علی زرداری کو پہنچا۔

27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد وطن زرداری وطن واپس پہنچے اور پیپلز پارٹی کے شریک چیر مین مقرر ہوئے۔ این آر او کے تحت آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے 5مقدمات 5 مارچ 2008 کو ختم ہو گئے۔ 9 مارچ 2008 کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ججوں کی بحالی کا معاہدہ ہوا۔اس معاہدے کے تحت ججوں کو 30دن میں بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا،تمام وعدوں کے باوجود ججوں کو بحال نہ کرنے پر 25اگست 2008 کومسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے اتحاد سے علیحدگی اختیار کیاور اپنا صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔دوسری جانب پی پی نے پارٹی کے شریک چیر مین آصف علی زرداری کو صدارتی انتخاب میں اپنا امیدوار نامزدکر دیا اب 6ستمبر2008 کو آصف زرداری ملک کے بارہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

آصف زرداری کو اپنی اس بھاری کامیابی کے بعد اب اپنی حکمت عملی کو سوچ سمجھ کر ترتیب دینا ہو گا اور اپنے ارد گرد مفاد پرستوں کی بجائے صاحبان فکر ونظر کو رکھنا ہو گا تا کہ ایک نئی سوچ کے ساتھ اور نئی طرز کے ساتھ ایک نیا سفر شروع کیا جا سکے۔

 بس ایک بات ذہن میں رہے کہ ایک شخص یا ایک جماعت چاہے کتنا بھی مضبوط ہو وہ کمزور ہی ہوتا ہے، ملک کی سلامتی اور مہنگائی سب سے بڑا مسلہ ہے اور اسقدر طاقت اور اختیار کے ساتھ اب آصف زرداری کو اس نئے امتحان میں پورا اُترناہو گا۔ اگر آصف زرداری کی نیت نیک ہے تو پھر ساری قوم کی دعائیں انکے ساتھ ہیں۔

کوئی مجھ سے ذاتی طور پر پوچھے تو میں تو یہ کہوں گا کہ۔۔۔۔۔

اک لمحہء بیداری ہے
زرداری کی سرداری ہے
۔۔۔۔
رحم کریں اس ملت پر
یہ قوم سبھی بیچاری ہے
۔۔۔۔
اب نظر رہے تو قیادت پر
یہ سیاست اک بیماری ہے
۔۔۔۔
ہاں سامنے اب یہ بات رہے
طاقت یہ سب ادھاری ہے
۔۔۔۔
ایوانِ صدارت سچ کہہ دوں
تلوار میاں دو دھاری ہے
۔۔۔۔
جو وعدہ اب جمہور کا ہے
بنیاد اسی پہ ساری ہے
۔۔۔۔
خالی خولی وعدوں سے
ہر فرد کو اب بیزاری ہے
۔۔۔۔
یہ میرا قلم جمہور کا ہے
اور اس کا ھدف درباری ہے
۔۔۔۔
بیعت ہو کسی بھی آمرکی
یہ میرا قلم انکاری ہے
۔۔۔۔
صفدر یہ قلم سچ لکھے گا
ہر قوت پر یہ بھاری ہے

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Sareer Khalid, Srinagar, Kashmir
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Dec 2008
SuMoTuWeThFrSa
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com