Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Wed, 03 Dec 2008 00:41:44   |   |   |  Text Only Version

Sun, 07 Sep 2008 00:19:00

کیا اسلام میں عورت ہونا گناہ ہے (شمس)



کیا اسلام میں عورت ہو نا گناہ ہے؟
آج دوخبریں ہمارے سامنے ہیں ایک  چھوٹے بھائی پاکستان سے جو اسلامی جمہو ریہ پاکستان بھی کہلاتا ہے ۔ اس پر ابھی اختلاف  ہے کہ آیا  وہ اسلامی ہے بھی یا نہیں ہے کیونکہ اسلام کے ایڈیشنوں کے بارے میں کچھ  طبقوں میں اختلافات ہیں کہ آیا یہاں قائدِ اعظم والا اسلام آنا تھا جو وہ لانا چا ہتے تھے یا ہادی بر حق صلی اللہ تعالیٰ و آلہ وسلم  والا اسلام  جو مسلمانوں کے لیئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھااور جو حضور دے کر بھیجے گئے تھے؟اس پر آپ نے روذانہ ٹی وی  اور مختلف  پلیٹ فارم پر بحث بھی سنی ہو گی جو آئے دن ہو تی رہتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں پاکستان  چونکہ اللہ کے نام پر بنا تھا لہذا اسی کا قانون  بھی یہاں نا فذ ہو نا چا ہیئے ، کچھ  شخصیت پرست کہتے ہیں کہ قائد اعظم والا اسلام نا فذ  ہو نا چا ہیئے اور اب ایک تیسرا فریق بھی میدان میں آگیا ہے جس  کی طرف سے کہاجا رہا ہے کہ صرف ہمارا والا اسلام اصل ہے با قی سب غلط ؟ لہذا وہ لڑکیوں کے اسکول اورسی ڈی کی دکانیں جن میں قر آن کی سی ڈی بھی ملتی ہیں  بلا تفریق جلا کر جہالت کو فووغ دے رہے ہیں  جبکہ اسلام علم کا داعی ہے۔ویسے توایک چوتھے فریق بھی تھے ،  وہ تھےجناب مشرف جو اسلام کو ماڈرن بنا نا چاہتے تھے  اور امریکہ کی طرف سے مبعوث کیئے گئے تھے ۔ان کا ذکر تو اب یوں بیکار ہے کہ مسلمان جانے والوں کو برا نہیں کہتے حتٰی  کہ اگر یزید کو بھی کوئی برا کہے تو بھی  برامانتے ہیں؟
 اور دوسرے طرف ملکی صورت ِ حال یہ ہے کہ یہاں بہ یک وقت برٹش کا بھی قانون چل رہا ہے ،تو صدر مشرف کا لولا ، لنگڑا کیا ہوا دستور  لاگو ہے  اور ضیا الحق کا دیا ہوا نظام ِ مصطفیٰ بھی ۔اور پھر سرداروں کا قانون بھی  جو مذہب پر نہیں رسم و رواج پر یقین رکھتا ہے جیسے کہ کفار ِ مکہ کہتے تھے کہ ہم اپنے باپ داداؤں کے مذہب پر ہیں ۔ چند دن  پہلے  یہ خبر آئی تھی کہ بلو چستان میں کارو کاری یا غیرت کے نام  پر پانچ عورتوں کو جن میں دو مائیں بھی تھیں زندہ دفن کر دیا جبکہ  بیٹیوں کی خطا اپنی پسند کے شوہر پسند کرنا اورماؤ ں کی خطاصرف ماں ہو نا تھی    وہاں کے کئی ذمہ داروں کے بیان پڑھے ایک ڈپٹی اسپیکر  بلو چستان اسمبلی کا بیا ن نظر سے گزرا ان کا کہنا تھا کہ اگر پانچ عورتیں زندہ دفن کردی گئیں تو آخر کونسی قیامت ٹو ٹ پڑی؟  ایک اور ذمہ دار کا بیان پڑھا وہ فر ما رہے تھے کہ آخر اب یہ کو نسی نئی بات ہے ۔ہم تو پچھلے سات سو سال سے خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرتے  چلے آرہے ہیں، یہ ہماری اپنی روایات ہیں ہمارے قانون ہیں اور یہ کہ ہم بھی مسلمان ہیں کافر نہیں ہیں۔  مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا وہ اپنے مردوں کو بھی اپنی پسند کی شادی اور تاکہ جھانکی  جوکہ ان کے معاشرے میں عام ہے کیا اس کی بنا پر بھی قتل کرتے ہیں  اور اب تک سات سو سالوں کتنے مرد قتل کیئے؟ کیونکہ اسلام میں تو برابری ہے۔
چونکہ با ت عورتوں کی ہے لہذا ہمارے ذہن میں اس خیال نے چٹکی لی کہ دیکھیں توسہی کہ آخر ان بیچا ریوں کے خلاف یہ سازش کب  تیار ہو ئی  اور کس نے کی کہ انہیں  پہلے توعورت کانام دیاجو کہ صرف ہندو پاک میں را ئج ہوسکا اور اس کے نتیجہ میں  پہلے توگھر میں بٹھادیا اور  پھران سے وہ تمام حقوق چچھین لیئے جو اسلام نے دیئے تھے۔اگر ہندی میں جا ئیں جو کہ یہاں کی قدیمی زبان ہے تو اسے “ مہلا  “ کہتے ہیں  اور اگر پنجابی پشتو اور سندھی اور بلوچی میں جائیں تو بھی ان میں وہ عورت نہیں کہلاتی۔  پھر ہم نے سوچا چونکہ اسلام عرب سے آیا ہے  لہذا ہو نہ ہو یہ لفظ بھی عربی سے آیا ہوگا؟ عربی لغت میں تلاش کیا تو وہاں عورت سرے سے تھی ہی نہیں، فارسی میں ڈھونڈا تو وہاں اقبال کا ایک شعر ملا کہ وجود زن سے ہے کا ئینات میں رنگ۔ لہذا ہم سوچ سوچ کر تھک گئے اور یہ مسئلہ نہیں حل کر پا ئے کہ آخر ان کو عورت کا لقب کب ملا اور کس نے دیا؟ کیو نکہ جس طرح  الجی  عرب میں بت پرستی اور بہت سی برا ئیوں کا بانی تھا۔ اسی طرح خواتین کے خلاف اس سازش کابھی کو ئی نہ کوئی محرک اور موجد تو ہو گا ؟ تاکہ ہم اسلام کو بری الذمہ ثابت کرکے اسے الزام سکیں جس نے تمام اسلامی تعلیمات بدل کر رکھدیں  اور ان سے وہ حقوق چھین لیئے جو اسلام نے عطا کیئے تھے؟
 ہم نے ایک مرتبہ پھر عربی لغت سے رجو ع کیا تو ہمیں لفظ عورت تواس میں  پھر بھی نہیں  ملا  البتہ ایک قریب ترین لفظ  “عورہ  “ مل گیا اس کے معنی ہیں  پوشیدہ اعضا یا دوسرے معنی ہیں نا قص العقل قابل ، ممذ مت وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں تعجب ہوا کہ ان القابات کو مسلم خواتین نے چپ چاپ  کیسےقبو ل کر لیا اور انہیں خبر تک نہ ہو ئی؟  اوراس کے اثرات یہ مر تب ہو ئے کہ ایک  طبقہ علما نے  انہیں اسلام  کے بر عکس بجائے  معززخواتین کے  “ عورہ  “ قرار دیدیا یعنی( پوشیدہ رکھن والی چیز یعنی ایک مجسم وجود انسانیت خارج ہو کر چیز بن گئی اور اس نے پھر بھی جوتی ہاتھ مین نہین لی؟ ۔دوسرے طبقہ علما نے اس پر مزید ظلم  کیا کہ  عورہ دوسرے لفظی معنی نافذ کرکے اس کونا قص العقل بھی  قراردیدیا،جبکہ اسلام نے انہیں برابری دی تھی۔ صرف شوہر کو برتری اسلیئے قرآن کے مطابق دی تھی کہ وہ مال خرچ کرتا ہے ویسے یہ اسلام کا مزاج ہے کہ اگر کہیں دو فرد ہوں توایک ان امام ہوگا کیونکہ کسی نظام کو چلا نے کا یہ تقاضہ ہے؟ ۔
  جبکہ ان معنوں کے اطلاق  کےبعد وہ  بجا ئے انسان  کے صرف چھپانے والی چیز ہو گئی کہ جس کی آواز بھی باہر نہیں جانا چا ہیئے ؟ ظاہر  ہے جو چھپانے والی چیز ہو اس کو سامنے کیسا لایا جا سکتا ۔حالانکہ سب  سےزیادہ پردے کاحکم جن کے احترام کی بنا تھا وہ اہل ِ بیت اور امہات المو منیں تھیں۔ تھا مگر وہ بھی پردہ کے پیچھے سے سائلوں کے سوالوں کا جواب دیدیتی تھیں    حضو ر  صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تو اسی فیصد خوا تیں کھیتوں  اور باغوں میں کام کر تی تھیں۔اور مساجد نماز کے لیئے جانے والیوں میں تو امہات المو منین بھی شامل تھیں  اور دسری ضروریات کے لیئے جنگل بھی جاتی تھیں ۔ جبکہ دوسری خواتین جنگ میں پانی بھی پلا تی تھیں زخمیوں کی مر حم پٹی بھی کرتی تھیں اور ضرورت پڑنے پرجہاد بھی کرتی تھیں
اس دور میں تو ایسی کو ئی پابندی نظر نہیں آئی جس میں کہ خواتین  کوگھر میں بند کر دیا گیاہو  ؟ آخر پھر یہ ہدایات آئیں کہا ں سے ؟ چونکہ ہم اس تحقیق  میں ناکام رہے لہذااس کے سوا اور کیا  کہ سکتے ہیں،کہ یہ علمااور خواتین  کا معاملہ ہے وہ جانیں جو  کہ اہل ِ معاملہ ہیں ہم کو ن کہ خوا مخواہ۔
 دوسری خبر بڑے بھائی  ہندوستان سے آئی ہے۔
ہندوستان کی ایک  ریاست جو کبھی صوبہ مدراس کہلاتی تھا آجکل وہ  ریاست چنو ئی کہلاتی ہے وہاں سے ایک خبر نظر نواز ہو ئی کہ وہاں پچھلے سال سے عورتوں اورصرف عورتوں سے پندرہ سو روپیہ ما ہانہ افطاری ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ جبکہ مردوں سے ایسی کو ئی فیس نہیں لی جاتی ہے؟  انکے لیئےصلائے عام ہے جو چاہے آکر مسجد میں افطار کر سکتا ہے۔ جو چودہ سو سال سے طریقہ کار رائج اور اسلامی اخوت کا تقاضہ بھی۔ بلکہ عرب میں تو شیخوں نے افطار  کے لیئے لوگوں کو پکڑ کر لانے والے پر ملازم رکھے ہو ئے ہیں؟  یہ ہم نے خود دیکھا کہ  شیخ مسجدِ نبوی میں دسترخوان بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں اور لڑکے روزہ داروں کو پکڑ پکڑ کے ان کے لگا ئے ہو ئے دسترخوان پر لا بٹھاتے ہیں کہ افطار پر جتنےفرد  زیادہ اتناثواب ملے گا؟ مگر یہاں معاملہ الٹ سنا؟
 ۔ اس  تفریق کے سلسلہ میں جب اس مسجد کے سکریٹری صاحب سے پو چھا گیا تو اانہوں نے بتایا کہ خواتین کو افطار کرانے میں کچھ پرو بلم ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ وہ کیا پروبلم ہیں۔تو اس پر انہون نے روشنی نہیں ڈالی ۔جن خواتین نے پریس سے فر یاد کی ہے انکی عمریں بیس اور ساٹھ کے در میان ہیں۔ لہذا بیس سالہ کی وجہ سے تو کوئی پروبلم قرین قیاس ہوسکتی ہے ۔مگر ساٹھ سالہ سن تو بے ضرر ہو تا ہے۔ ہمارے خیال میں اور کوئی پرو بلم  نہیں ہے ، صرف پروبلم ان کا عورت ہو نا ہے۔ اور وہ اس جہالت کا عطیہ ہے جو کہ  اسلام کے ہندوستان میں داخل ہو نے سے  پہلے توہادی بر حق نے ختم کر دی تھا ،مگر یہاں آکر پھر مشرف بہ اسلام ہو گئی یعنی ہندو ازم سے ہم نے اسے پھر لے لیا۔ اور اسی پر عامل ہو گئے ۔ یہ اسی کا سارا کھیل ہے جوکہ ہندو پاک میں رائج ہے کہ خواتین مسجد میں نہ آئیں، قبرستان نہ جا ئیں نماز جنازہ نہ پڑھیں وغیرہ وغیرہ حالانکہ  حضور کی پھو پھی حضرت زینب غزوہ ِ احد کے موقعہ پر  قبرستان میں بھی تشریف لےگئیں اور اپنے بھائی حضرت حمزہ کی نماز جنازہ بھی پڑھی ۔ اس ٹیکس سے  ہماری سمجھ میں اس کے سوا کچھ نہیں آیا کہ خواتین کی حو صلہ شکنی مقصود ہے اور کچھ نہیں تاکہ وہ افطاری کے لیئے مسجد میں نہ آئیں۔ پھر ہمیں گلہ یہ بھی ہے کہ اب مسلمانوں کا وہ کریکٹر نہیں رہا اور مسلم ما ئیں اچھے مسلمان پیدا نہیں کر رہی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگر آپ اپنی اکیاون فیصد آبادی کو علم ِ دین اور مسجد سے دور رکھیں گے تو آپ  اس کے سواان سے کیا توقع رکھ سکتے جب وہ خود  ہی دین سے بے بہرہ ہو نگی تو علم ان میں کہاں  سے آئے گا اور اپنی اولادوں کو کہاں سے علم پہنچا ئیں گی ؟ جبکہ تمام ماہر ِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ماں کی گود  ہی نہپیں بلکہ ماں کی کوکھ ،بچے کی پہلی تر بیت گاہ ہو تی ہے۔ بچے کے اخلاق کی تربیت وہاں سے شروع ہو تی ہے۔ جہاں سے رحم ِ مادر میں وہ جگہ لیتا ہے۔ پھر یہ شکایت کیوں کہ ہماری آنے والی نسل فلمی ستاروں کا تو شجرہ فر فر بتا دیتی ہے مگر صحابہ کرام اور خلفا ئے راشدین کے وغیرہ کے نام تک نہیں جانتی ؟

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Sareer Khalid, Srinagar, Kashmir
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Dec 2008
SuMoTuWeThFrSa
  1 2 3 4 5 6
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30 31      

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com