کیا اسلام میں عورت ہو نا گناہ ہے؟
آج دوخبریں ہمارے سامنے ہیں ایک چھوٹے بھائی پاکستان سے جو اسلامی جمہو ریہ پاکستان بھی کہلاتا ہے ۔ اس پر ابھی اختلاف ہے کہ آیا وہ اسلامی ہے بھی یا نہیں ہے کیونکہ اسلام کے ایڈیشنوں کے بارے میں کچھ طبقوں میں اختلافات ہیں کہ آیا یہاں قائدِ اعظم والا اسلام آنا تھا جو وہ لانا چا ہتے تھے یا ہادی بر حق صلی اللہ تعالیٰ و آلہ وسلم والا اسلام جو مسلمانوں کے لیئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھااور جو حضور دے کر بھیجے گئے تھے؟اس پر آپ نے روذانہ ٹی وی اور مختلف پلیٹ فارم پر بحث بھی سنی ہو گی جو آئے دن ہو تی رہتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں پاکستان چونکہ اللہ کے نام پر بنا تھا لہذا اسی کا قانون بھی یہاں نا فذ ہو نا چا ہیئے ، کچھ شخصیت پرست کہتے ہیں کہ قائد اعظم والا اسلام نا فذ ہو نا چا ہیئے اور اب ایک تیسرا فریق بھی میدان میں آگیا ہے جس کی طرف سے کہاجا رہا ہے کہ صرف ہمارا والا اسلام اصل ہے با قی سب غلط ؟ لہذا وہ لڑکیوں کے اسکول اورسی ڈی کی دکانیں جن میں قر آن کی سی ڈی بھی ملتی ہیں بلا تفریق جلا کر جہالت کو فووغ دے رہے ہیں جبکہ اسلام علم کا داعی ہے۔ویسے توایک چوتھے فریق بھی تھے ، وہ تھےجناب مشرف جو اسلام کو ماڈرن بنا نا چاہتے تھے اور امریکہ کی طرف سے مبعوث کیئے گئے تھے ۔ان کا ذکر تو اب یوں بیکار ہے کہ مسلمان جانے والوں کو برا نہیں کہتے حتٰی کہ اگر یزید کو بھی کوئی برا کہے تو بھی برامانتے ہیں؟
اور دوسرے طرف ملکی صورت ِ حال یہ ہے کہ یہاں بہ یک وقت برٹش کا بھی قانون چل رہا ہے ،تو صدر مشرف کا لولا ، لنگڑا کیا ہوا دستور لاگو ہے اور ضیا الحق کا دیا ہوا نظام ِ مصطفیٰ بھی ۔اور پھر سرداروں کا قانون بھی جو مذہب پر نہیں رسم و رواج پر یقین رکھتا ہے جیسے کہ کفار ِ مکہ کہتے تھے کہ ہم اپنے باپ داداؤں کے مذہب پر ہیں ۔ چند دن پہلے یہ خبر آئی تھی کہ بلو چستان میں کارو کاری یا غیرت کے نام پر پانچ عورتوں کو جن میں دو مائیں بھی تھیں زندہ دفن کر دیا جبکہ بیٹیوں کی خطا اپنی پسند کے شوہر پسند کرنا اورماؤ ں کی خطاصرف ماں ہو نا تھی وہاں کے کئی ذمہ داروں کے بیان پڑھے ایک ڈپٹی اسپیکر بلو چستان اسمبلی کا بیا ن نظر سے گزرا ان کا کہنا تھا کہ اگر پانچ عورتیں زندہ دفن کردی گئیں تو آخر کونسی قیامت ٹو ٹ پڑی؟ ایک اور ذمہ دار کا بیان پڑھا وہ فر ما رہے تھے کہ آخر اب یہ کو نسی نئی بات ہے ۔ہم تو پچھلے سات سو سال سے خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرتے چلے آرہے ہیں، یہ ہماری اپنی روایات ہیں ہمارے قانون ہیں اور یہ کہ ہم بھی مسلمان ہیں کافر نہیں ہیں۔ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا وہ اپنے مردوں کو بھی اپنی پسند کی شادی اور تاکہ جھانکی جوکہ ان کے معاشرے میں عام ہے کیا اس کی بنا پر بھی قتل کرتے ہیں اور اب تک سات سو سالوں کتنے مرد قتل کیئے؟ کیونکہ اسلام میں تو برابری ہے۔
چونکہ با ت عورتوں کی ہے لہذا ہمارے ذہن میں اس خیال نے چٹکی لی کہ دیکھیں توسہی کہ آخر ان بیچا ریوں کے خلاف یہ سازش کب تیار ہو ئی اور کس نے کی کہ انہیں پہلے توعورت کانام دیاجو کہ صرف ہندو پاک میں را ئج ہوسکا اور اس کے نتیجہ میں پہلے توگھر میں بٹھادیا اور پھران سے وہ تمام حقوق چچھین لیئے جو اسلام نے دیئے تھے۔اگر ہندی میں جا ئیں جو کہ یہاں کی قدیمی زبان ہے تو اسے “ مہلا “ کہتے ہیں اور اگر پنجابی پشتو اور سندھی اور بلوچی میں جائیں تو بھی ان میں وہ عورت نہیں کہلاتی۔ پھر ہم نے سوچا چونکہ اسلام عرب سے آیا ہے لہذا ہو نہ ہو یہ لفظ بھی عربی سے آیا ہوگا؟ عربی لغت میں تلاش کیا تو وہاں عورت سرے سے تھی ہی نہیں، فارسی میں ڈھونڈا تو وہاں اقبال کا ایک شعر ملا کہ وجود زن سے ہے کا ئینات میں رنگ۔ لہذا ہم سوچ سوچ کر تھک گئے اور یہ مسئلہ نہیں حل کر پا ئے کہ آخر ان کو عورت کا لقب کب ملا اور کس نے دیا؟ کیو نکہ جس طرح الجی عرب میں بت پرستی اور بہت سی برا ئیوں کا بانی تھا۔ اسی طرح خواتین کے خلاف اس سازش کابھی کو ئی نہ کوئی محرک اور موجد تو ہو گا ؟ تاکہ ہم اسلام کو بری الذمہ ثابت کرکے اسے الزام سکیں جس نے تمام اسلامی تعلیمات بدل کر رکھدیں اور ان سے وہ حقوق چھین لیئے جو اسلام نے عطا کیئے تھے؟
ہم نے ایک مرتبہ پھر عربی لغت سے رجو ع کیا تو ہمیں لفظ عورت تواس میں پھر بھی نہیں ملا البتہ ایک قریب ترین لفظ “عورہ “ مل گیا اس کے معنی ہیں پوشیدہ اعضا یا دوسرے معنی ہیں نا قص العقل قابل ، ممذ مت وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں تعجب ہوا کہ ان القابات کو مسلم خواتین نے چپ چاپ کیسےقبو ل کر لیا اور انہیں خبر تک نہ ہو ئی؟ اوراس کے اثرات یہ مر تب ہو ئے کہ ایک طبقہ علما نے انہیں اسلام کے بر عکس بجائے معززخواتین کے “ عورہ “ قرار دیدیا یعنی( پوشیدہ رکھن والی چیز یعنی ایک مجسم وجود انسانیت خارج ہو کر چیز بن گئی اور اس نے پھر بھی جوتی ہاتھ مین نہین لی؟ ۔دوسرے طبقہ علما نے اس پر مزید ظلم کیا کہ عورہ دوسرے لفظی معنی نافذ کرکے اس کونا قص العقل بھی قراردیدیا،جبکہ اسلام نے انہیں برابری دی تھی۔ صرف شوہر کو برتری اسلیئے قرآن کے مطابق دی تھی کہ وہ مال خرچ کرتا ہے ویسے یہ اسلام کا مزاج ہے کہ اگر کہیں دو فرد ہوں توایک ان امام ہوگا کیونکہ کسی نظام کو چلا نے کا یہ تقاضہ ہے؟ ۔
جبکہ ان معنوں کے اطلاق کےبعد وہ بجا ئے انسان کے صرف چھپانے والی چیز ہو گئی کہ جس کی آواز بھی باہر نہیں جانا چا ہیئے ؟ ظاہر ہے جو چھپانے والی چیز ہو اس کو سامنے کیسا لایا جا سکتا ۔حالانکہ سب سےزیادہ پردے کاحکم جن کے احترام کی بنا تھا وہ اہل ِ بیت اور امہات المو منیں تھیں۔ تھا مگر وہ بھی پردہ کے پیچھے سے سائلوں کے سوالوں کا جواب دیدیتی تھیں حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تو اسی فیصد خوا تیں کھیتوں اور باغوں میں کام کر تی تھیں۔اور مساجد نماز کے لیئے جانے والیوں میں تو امہات المو منین بھی شامل تھیں اور دسری ضروریات کے لیئے جنگل بھی جاتی تھیں ۔ جبکہ دوسری خواتین جنگ میں پانی بھی پلا تی تھیں زخمیوں کی مر حم پٹی بھی کرتی تھیں اور ضرورت پڑنے پرجہاد بھی کرتی تھیں
اس دور میں تو ایسی کو ئی پابندی نظر نہیں آئی جس میں کہ خواتین کوگھر میں بند کر دیا گیاہو ؟ آخر پھر یہ ہدایات آئیں کہا ں سے ؟ چونکہ ہم اس تحقیق میں ناکام رہے لہذااس کے سوا اور کیا کہ سکتے ہیں،کہ یہ علمااور خواتین کا معاملہ ہے وہ جانیں جو کہ اہل ِ معاملہ ہیں ہم کو ن کہ خوا مخواہ۔
دوسری خبر بڑے بھائی ہندوستان سے آئی ہے۔
ہندوستان کی ایک ریاست جو کبھی صوبہ مدراس کہلاتی تھا آجکل وہ ریاست چنو ئی کہلاتی ہے وہاں سے ایک خبر نظر نواز ہو ئی کہ وہاں پچھلے سال سے عورتوں اورصرف عورتوں سے پندرہ سو روپیہ ما ہانہ افطاری ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ جبکہ مردوں سے ایسی کو ئی فیس نہیں لی جاتی ہے؟ انکے لیئےصلائے عام ہے جو چاہے آکر مسجد میں افطار کر سکتا ہے۔ جو چودہ سو سال سے طریقہ کار رائج اور اسلامی اخوت کا تقاضہ بھی۔ بلکہ عرب میں تو شیخوں نے افطار کے لیئے لوگوں کو پکڑ کر لانے والے پر ملازم رکھے ہو ئے ہیں؟ یہ ہم نے خود دیکھا کہ شیخ مسجدِ نبوی میں دسترخوان بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں اور لڑکے روزہ داروں کو پکڑ پکڑ کے ان کے لگا ئے ہو ئے دسترخوان پر لا بٹھاتے ہیں کہ افطار پر جتنےفرد زیادہ اتناثواب ملے گا؟ مگر یہاں معاملہ الٹ سنا؟
۔ اس تفریق کے سلسلہ میں جب اس مسجد کے سکریٹری صاحب سے پو چھا گیا تو اانہوں نے بتایا کہ خواتین کو افطار کرانے میں کچھ پرو بلم ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ وہ کیا پروبلم ہیں۔تو اس پر انہون نے روشنی نہیں ڈالی ۔جن خواتین نے پریس سے فر یاد کی ہے انکی عمریں بیس اور ساٹھ کے در میان ہیں۔ لہذا بیس سالہ کی وجہ سے تو کوئی پروبلم قرین قیاس ہوسکتی ہے ۔مگر ساٹھ سالہ سن تو بے ضرر ہو تا ہے۔ ہمارے خیال میں اور کوئی پرو بلم نہیں ہے ، صرف پروبلم ان کا عورت ہو نا ہے۔ اور وہ اس جہالت کا عطیہ ہے جو کہ اسلام کے ہندوستان میں داخل ہو نے سے پہلے توہادی بر حق نے ختم کر دی تھا ،مگر یہاں آکر پھر مشرف بہ اسلام ہو گئی یعنی ہندو ازم سے ہم نے اسے پھر لے لیا۔ اور اسی پر عامل ہو گئے ۔ یہ اسی کا سارا کھیل ہے جوکہ ہندو پاک میں رائج ہے کہ خواتین مسجد میں نہ آئیں، قبرستان نہ جا ئیں نماز جنازہ نہ پڑھیں وغیرہ وغیرہ حالانکہ حضور کی پھو پھی حضرت زینب غزوہ ِ احد کے موقعہ پر قبرستان میں بھی تشریف لےگئیں اور اپنے بھائی حضرت حمزہ کی نماز جنازہ بھی پڑھی ۔ اس ٹیکس سے ہماری سمجھ میں اس کے سوا کچھ نہیں آیا کہ خواتین کی حو صلہ شکنی مقصود ہے اور کچھ نہیں تاکہ وہ افطاری کے لیئے مسجد میں نہ آئیں۔ پھر ہمیں گلہ یہ بھی ہے کہ اب مسلمانوں کا وہ کریکٹر نہیں رہا اور مسلم ما ئیں اچھے مسلمان پیدا نہیں کر رہی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگر آپ اپنی اکیاون فیصد آبادی کو علم ِ دین اور مسجد سے دور رکھیں گے تو آپ اس کے سواان سے کیا توقع رکھ سکتے جب وہ خود ہی دین سے بے بہرہ ہو نگی تو علم ان میں کہاں سے آئے گا اور اپنی اولادوں کو کہاں سے علم پہنچا ئیں گی ؟ جبکہ تمام ماہر ِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ماں کی گود ہی نہپیں بلکہ ماں کی کوکھ ،بچے کی پہلی تر بیت گاہ ہو تی ہے۔ بچے کے اخلاق کی تربیت وہاں سے شروع ہو تی ہے۔ جہاں سے رحم ِ مادر میں وہ جگہ لیتا ہے۔ پھر یہ شکایت کیوں کہ ہماری آنے والی نسل فلمی ستاروں کا تو شجرہ فر فر بتا دیتی ہے مگر صحابہ کرام اور خلفا ئے راشدین کے وغیرہ کے نام تک نہیں جانتی ؟