حکمران پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے ملک کے نئے صدر منتخب ہہو گئے ہیں۔یہ غالبا پہلا موقع ہے کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں نے اتنی بھاری اکثریت سے ایک سویلین صدر منتخب کیا ہے لیکن اسی کے ساتھ اس بات کو کؤی نہیں چھپا سکتا اور نہ جھٹلا سکتا ہے کہ آصف علی زرداری نہایت متنازعہ شخصیت ہیں ۔بیس سال قبل جب بے نظیر بھٹو پہلی بار بر سر اقتدارآئی تھیں اس وقت سے زرداری بدعنوانیوں کے سنگین الزامات کے الزامات کے جالوں میں گرفتار رہے ہیں اور اس سال کے اوایل تک ان کے خلاف ملک میں اور ملک سے باہر عدالتوں میں بد عنوانیوں کے مقدمات زیر سماعت رہے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ان مقدمات میں سے کسی میں وہ قصور وار قرار نہیں دیئے گئےاور نہ انہیں عدالتوں نے بری قرار دیا ہے ۔ انہیں ان مقدمات سے نجات دراصل اس سودے کے نتیجہ میں ملی جو پچھلے سال بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان طے پایا تھا اور جس کے تحت جنرل مشرف نے اپنی فوجی وردی اتاری تھی اور جنرل مشرف نے قومی مفاہمت کا وہ متنازعہ آرڈیننس نافذ کیا تھا جس کی رو سے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانیوں کے تمام مقدمات ختم کردیئے گئےتھے۔تاہم ملک کے اندر اور ملک کے باہرزرداری کے خلاف تمام مقدمات کے خاتمہ کے باوجود ان پر ان غیر فیصل مقدمات کا ایسا داغ لگا ہوا ہے جو قومی مفاہمتی آرڈیننس سے بھی نہیں چھوٹ سکتا۔ اور یہ داغ بلا شبہ انہیں ایوان صدرمیں قیام کے دوران ستاتا رہے گا اور اگر ملک میں نہیں تو بین الاقوامی میڈیا میں جب بھی صدر زرداری کا ذکر ہوگا یہ داغ سایہ کی طرح ان پر چھایا رہے گا۔
آصف علی زرداری جن حالات کے پس منظر میں عہدہ صدارت پر فایز ہؤے ہیں وہ کؤی خوشگوار نہیں ہیں۔ معزول ججوں کی بحالی کے مسلہ پر سمجھوتے کی خلاف ورزی پر ان کی قریبی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن ان کا ساتھ چھوڑگئی ہے ۔ اس مسلہ پر وعدہ خلافی اور سیاسی چالوں کا دھبہ بھی ایک عرصہ تک زرداری کے دامن پر رہے گا۔
صدر کے انتخاب سے چند روز قبل امریکی فوجیوں نے پاکستان کی سر زمین میں داخل ہوکر جنوبی وزیرستان میں بیس سے زیادہ معصوم شہریوں کو جن جن خواتین اور بچے شامل تھے ہلاک کر دیا۔ اس سے قبل ایک ہفتہ کے دوران تقریبا ہر روز قبایلی علاقہ میں امریکی مزایل کے حملے ہوتے رہے ہیں اور عین زرداری کے انتخاب کے موقع پر پشاور میں ایک خود کش حملہ میں بارہ سے زیادہ افراد ہلاک ہؤے ہیں ۔بلاشبہ دھشت گردی کا مسلہ صدر زرداری کے لیئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا نئے صدر ملک میں دھشت گردی کے مسلہ کے خاتمہ کے لیئے ان اسباب کے حل کی کوشش کرتے ہیں یا اس مسلہ کو فوجی طاقت کے بل پر ختم کرنے کے لیئے امریکی حکمت عملی پر عمل کرتے ہیں ۔عام انتخابات کے فورا بعد جب پیپلز پارٹی کا اتحاد بر سراقتدار آیا تھا تو اس مسلہ کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر زور دیا گیا تھا لیکن ایسا جان پڑتا ہے کہ جنرل مشرف سے نجات کے لیئے امریکیوں سے جو پس پردہ سودہ ہوا ہے اس کے تحت زرداری ہاتھ بندھ گئے ہیں اور وہ امریکی حکمت عملی کی بھر پور حمایت کرنے کے پیمان میں بندھ گئے ہیں۔
دوسرا بڑا چیلنج ملک میں لاقانونیت کے خاتمہ اور معشیت کو سنبھالا دینے کے ہے جو تیزی سے ابتری کی سمت رواں ہے ایک طرف ہوش ربا گرانی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اوردوسری طرف غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخایر صرف چھ ارب ڈالر کے رہ گئے ہیں ۔ اس وقت تیل اور خوراک کی درآمد کے لیئے ہر ماہ دو ارب ڈالر کا غیر ملکی زر مبادلہ درکار ہے۔ ایسے میں ملک کی معیشت ٹھپ پڑتی نظر آتی ہے ۔ اس صورت حال کو سنبھالنے کے لیئے صدر زرداری اوران کی حکومت کو فوی طور پر نئی حکمت عملی وضع کرنی ہوگی اور ملک کے غریب عوام کے مسایل حل کرنے کے لیئے اور ان کی بہبود کے ٹھوس منصوبہ پر عمل درآمد کیلیئے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
ایک اور سنگین چیلنج زرداری کی معتبری کے لیئے صدر کے وسیع اختیارات کے خاتمہ کے مسلہ کا درپیش ہے۔ صدر کے عہدہ کے لیئے میدان میں آنے سے قبل زرداری نے نہایت واضح طور پر کہا تھا کہ وہ اور ان کی پارٹی پالیمنٹ کو توڑنے اور وزیر اعظم کو برطرف کرنے کے وسیع اختیارات کے خاتمہ کے لیئے اقدامات کریں گے۔ لیکن جب سے صدارتی انتخاب کی مہم شروع ہؤی اس وقت سے زرداری اس مسلہ پر معنی خیز انداز سے خاموش ہیں۔
اگر زرداری نے صدر کے وسیع اختیارات برقرار رکھے تو نہ صرف ان کی سیاسی معتبری کو ججوں کی بحالی کے مسلہ کی طرح ایک اور زک پہنچے گی بلکہ وہ حقیقت میں ایک نہایت طاقت ور سویلین صدر کے طور پر ابھریں گے۔اور پھر زرداری ملک کے صدر کے عہدہ کے ساتھ پیپلز پارٹی کی سربراہی بھی اپنے ہاتھ میں رکھنے پر مصر ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ پارٹی کی سربراہی ہی در اصل ان کی سیاسی قوت کا سرچشمہ ہے۔ یوں ایک طاقت ور صدر اور باختیار پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے ملک کے موجودہ حالات کی ابتری کے خاتمہ اور مسایل کی پیچیدگیوں کے حل کی ذمہ داری کا تمام تر بوجھ زرداری کے کاندھوں پر آن پڑے گا ۔ یہ صورت حال کس حد تک خود ان کے سیاسی مستقبل اور ان کی پارٹی کے مستقبل کے لیئے کیا نتایج مرتب کرے گی اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کر سکے گا۔