یوں تو ھم ایک آزاد ملک میں سانس لے رہے ھیں ۔ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے پوری دنیا میں جانا جاتا ھے۔ آزاد اور خودمختار ھونے کے باوجود کھانے کو روٹی نہیں پہننے کو کپڑا رہنے کو گھر اور گھر میں بجلی گیس یہاں تک کہ جلانے کو لکڑی تک میسر نہیں ۔
قائداعظم اور انکے ساتھیوں نے پاکستان کے لیے شب وروز محنت اور اپنی جانوں کا نزرانہ اس لیے دیا تھا ۔ تاکہ وہ ایک آزاد ملک حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جہاں پاکستانی عوام کو اپنی مرضی سے جینے کا حق ھو گا۔
یہ کیسا حق ھے ۔ جہاں عوام زندگی کو ترس رہی ھے۔ جس پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے بزرگوں نے اپنے لہو سے راستے بنائے۔اپنی آیندہ آنے والی نسلوں کے لیے تاکہ وہ کھلی فضا میں سانس لے سکیں ۔
آج اسی ملک میں اپنی ماں بہن کی عزت محفوظ نہیں۔آج بھی لوگوں کے لہو سے راستے بن رہے ھیں لیکن یہ آیندہ آنے والی نسلوں کے لیے ھرگز ھرگز نہیں ھیں ۔ یہ تو اپنے ھی ملک میں اپنوں کے ہاتھوں ھو رہا ھے۔ ھمارے اپنے ھی ھمارے دشمن ھیں ۔ کیا اسی کو جمہوریت کہتے ھیں کیا یہی آزادی ھے ۔
کہنے کوتو ھم اسلامی جبہوریہ پاکستان کے شہری ھیں ۔ لیکن نہایت ھی افسوس سے اور دکھ سے کہنا پڑتا ھے۔ کہ عوام کی قدر وقیمت بس کیڑے مکوڑوں جیسے رہ گئی ھے ۔ جس کو کبھی بھاری بھرکم فوجیوں کے بوٹوں تلے روندا جاتا ھے تو کبھی سیاست کے نام نہاد لیڈورں کے بیکار نعروں کی بھینٹ چڑایا جاتا ھے۔ لوگوں کی زندگیاں تو گاجر مولی سے بھی ذیادہ سستی ھو کر رہ گئی ھے
سیاستدان غریب عوام کو جھوٹے وعدوں سے بہلا رہے ھیں غموں اور مفلسی سے ستائی ھوئی عوام ایک معصوم بچے کی طرح بہل رہی ھے۔ جس کے رونے پر کوئی چھوٹا سا کھلونا دیا جاتا ھے۔ان ساٹھ سالوں میں ھر لیڈر اقتدار کی جنگ میں دوسرے لیڈر کے ساتھ کیا نا روا سلوک کرتا ھے ایک نظر
1947 سے لے کر 1948 تک پاکستان کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی اندرونی اور بیرونی مشکلات نے پاکستان کو گھیرے رکھا۔ 1948 میں جناح صاحب کی وفات ہو گئی۔ ان کے بعد حکومت لیاقت علی خان کے ہاتھ میں آ گئی۔ 1951 میں لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ 1951 سے 1958 تک کئ حکومتیں آئیں اور ختم ہو گئیں۔ 1956 میں پاکستان میں پہلا آئین نافذ ہوا۔ اس کے با وجود سیاسی بحران کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1958 میں پاکستان میں مارشل لاء لگ گیا۔
ایوب دور میں پاکستان میں ترقی تو ہوئی لیکن مشرقی پاکستان دور ہوتا گیا۔ 1963 میں پاکستان کے دوسرے آئین کا نفاذ ہوا۔ مگر مشرقی پاکستان کے حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گۓ،عوامی لیگ کی انتخابات میں واضع کامیابی کے باوجود فوجی حکمران یحیی خان نے اقتدار کی منتقلی کی بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی اپریشن کو ترجیع دی جس کے جواب میں مشرقی پاکستان میں فوج کے خلاف مزاحمت شروع ہوئی جس کے نتیجے میں ۔ آخرکار1971 میں مشرقی پاکستان نے ایک علیحدہ ملک بنگلہ دیش بنا لیا۔
1972 سے لے کر 1977 تک پاکستان میں پی پی پی کی حکومت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ اس دور میں سوشلسٹ اور پین اسلامک عنصر بڑھا۔ اس دور میں پاکستان میں نيشنلائيزيشن ہوئی۔ اس دور کے آخر میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی بڑھ گئ اور اس کے نتیجے میں 1977 میں دوبارہ مارشل لاء لگ گیا۔
اگلا دور 1977 تا 1988 مارشل لاء کا تھا۔ اس دور میں پاکستان کے حکمران جنرل ضیا الحق تھے۔ افغانستان میں جنگ کی وجہ سے پاکستان کو بہت امداد ملی۔ اسی دور میں 1985 کے غیر جماعتی انتخابات ہوۓ اور جونیجو حکومت بنی۔ جسے 1988 میں ضیاء الحق نے برطرف کر دیا- 1988 میں صدر مملکت کا طیارہ گر گیا اور پاکستان میں پھر سے جمہوریت کا آغاز ہو گیا۔
اس کے بعد 1988 میں انتخابات ہوئے اور بينظير بھٹو کی قیادت میں پی پی پی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ صدر غلام اسحاق خان نے حکومت کو برطرف کر دیا۔ 1990 میں نواز شریف کی قیادت میں آئ جے آئ اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ 1993 میں یہ حکومت بھی برطرف ہو گئی۔
اس کے بعد پاکستان کے نۓ صدر فاروق لغاری تھے۔ اگلے انتخابات 1993 میں ہوئے اور ان میں دوبارہ پی پی پی اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ یہ حکومت بھی بر طرف ہو گئ۔ 1997 میں انتخابات کے بعد دوبارہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن اور اس کی حلیف جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ اس حکومت کے آخر میں سیاسی اور فوجی حلقوں میں کشیدگی بڑھ گئ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1999 میں دوبارہ فوجی حکومت آ گئ۔ صدر مملکت پرويز مشرف بنے اور 2001 میں ہونے والے انتخابات کے بعد وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی بنے۔
2004میں وقت کے جنرل مشرف نے شوکت عزیز کو وزیر اعظم بنانے کا فيصله کیا . مختصر عرصہ کے لیے چوہدرى شجاعت حسين نے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سرانجام دیں اور شوکت عزیز کے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے کے بعد وزارت عظمہ سے مستعفی ہو گئے۔ شوکت عزیز صاحب قومی اسمبلی کی مدت 15 نومبر 2007 کو ختم ہونے کے بعد مستعفی ہو گئے۔ 16 نومبر 2007 کو سینٹ کے چیرمین جناب میاں محمد سومرو نے عبوری وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ فروری 2008 میں الیکشن کے بعد پی پی پی پی نے جناب یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم نامزد کیا۔ مسلم لیگ (ن)، اے این پی کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔اور ابھی آخر میں جناب زرداری نے مشرف کو گھر کا راستہ دیکھا کر خود صدر کا عہدہ سمبھال لیا۔
جنرل مشرف کے دور سے ھی پاکستان میں آگ اور خون کی ھولی کھیلی گیی ۔آئے دن خودکش دھماکہ نے عوام کی زندگی دوبھر کر دی ۔ لوگوں نے گھر سے نکلانا چھوڑ دیا۔بچے جو تھوڑی بہت تعلیم لے رہئے تھے۔ وہ ملکی خراب حالات کی نظر ھو گئی۔
پاکستان میں کب تک یہ خون اور آگ کی جنگ جاری رہئے گیی۔ پہلے کراچی جل رہا تھا۔ آب سوات وزیرستان وانا ۔اور ناجانے کن شہر اس آگ کی لپیٹ میں ھیں۔ابھی لوگ اس درد اور تکلیف سے نکلے نہیں کہ ایک اور قیامت خیز خبر نے ان کا استقبال کیا۔ اسلام آباد کے مصروف ترین انتہائی احساس علاقے جہاں پر ساری سرکاری عمارات ھیں ایک طرف بلوچستان ہاوس اور سرحد ہاوس اورایوان صدر ،وزیراعظم ہاوس ، پارلیمنٹ ہاوس اور وزارتوں کے دفاتر موجود ہیں۔ایک ٹرک پورے علاقے میں پھیرتا رہا۔ لیکن کسی نے اس کو روکنا تک گوارہ نہیں کیا۔اور آخرکار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ھو گیا۔ میرٹ ھوٹل کو نشانہ بنایا گیا۔ جوکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
رمضان کے اس مقدس مہینے میں معصوم لوگوں کی جانیں لی گیی۔ اور کب سے یہ سلسلہ چلا آرہا ھے ھمارے لیڈر صاحبان اپنے بیان میں کہ ھم مزمت کرتے ھیں ۔کفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیے گیی ۔ لیکن ابھی تک کسی آمن اور آشی کی کوئی ہلکی سے بھی امید نظر نہیں آتی۔ھمارے میشران رحمان ملک نے بڑی آسانی سے ناین الیون بنا دیا ۔ کیا اس کے بعد بھی کسی ٩١١ کی گنجاش بچتی ھے۔
ھمارے صدر صاحب نےجو تقریر کی ۔ میرٹ ھوٹل کے دھماکے کے بعد ۔اس میں لگ رہا تھا کہ بڑی مجبوری میں وہ سب کچھ کہہ رہئے ھیں ۔ان کے کسی عمل سے یہ ظاھر نہیں ھو رہا تھا کہ ان کو کسی قسم کا صدمہ یا دکھ ھے۔اور انتی معصوم جانوں کا ضیاء انکے سامنے کوئی اھمیت رکھتا ھے۔ان کا یہ کہہ دینا کافی تھا۔ ۔ کہ لواحقین کی تکلیف کو میں اچھی طرح محسوس کرسکتا ہوں کیونکہ میں خود بھی اس حالت سے گزرا ہوں ۔ زرداری صاحب آپ ایک دفعہ گزرے ھیں عوام روز اس قیامت خیز حالات سے گزرتی ھے۔ھر لمعہ عوام کے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں ھوتا۔ جسمانی آذیت کے ساتھ ساتھ زہنی آذیت کا بھی شکار ھے۔کب تک ھم پاکستان کو یوں جلتا ھوا دیکھیں گے۔کیا یہ ھمارے ھی گناہ ھیں جو آج ھمارے سامنے ھیں ۔ پھر بھی ھم توبہ کرنے کو تیار نہیں ۔