امریکہ و مغرب میں مسلم دشمن طاقتیں مسلمانوں کو دہشت گرد ی اور دین اسلام کو دہشت گردوں کی افزائش کرنے والے کھیتوں سے منسوب کرنے کے لئے ہروقت برسرپیکار ہیں۔حاسدین اسلام کے حاسدانہ منصوبوں کی کاشت و پرورش کے لئے مغربی میڈیا اہم ترین کردار ادا کرہا ہے۔ امریکہ ہو یا سکاٹ لینڈ جرمنی ہو یا ہالینڈ ہر ملک کے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو عالمی صہیونی سرمایہ داروں و ساہوکاروں نے دولت کے بل بوتے پر اپنی بغلوں میں سنبھال رکھا ہے۔مغرب میں دین اسلام کی روشنی نور بن کر اطراف و جوانب میں روز بروز خوشبو بن کر مہک رہی ہے۔مغرب میں روزانہ ہزاروں غیر مسلم اپنی بگڑی قسمت سنوارنے اور روحانی سکون کے حصول کے لئے دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں اور یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ ہے جس نے یہودیت کے علمبرداروں صلیبیت کے پرچاروں کا سکھ چین غارت کررکھا ہے۔
صہیونی لابیاں میڈیا کے توسط سے مغرب کے انسانیت نواز باشندوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرتوں و رنجشوں کو انگیخت دے رہی ہیں تاکہ مسلمان اور عیسائی امن و رواداری کا دامن تھام کر انکی خباثت کا بھانڈا نہ پھوڑ دیں۔ ہوسکیں۔مغرب کی اسلام دشمنی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں روزانہ کہیں اخبارات و جرائد میں من گھڑت تحقیقوں اور زہریلے مضامین کے نام پر مسلمانوں کو بنیاد پرستی کے اعزازات سے نوازا جارہا ہے تو کہیں دین اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے نو دوگیارہ والے خود ساختہ واقعات کا سوانگ رچایا جاتا ہے۔ایک طرف ٹی وی چینلز پر اسلامی تعلیمات کی تکذیب کی جارہی ہے تو دوسری طرف صہیونیت کے امام فلموں کے زریعے اہل مغرب کو مسلمانوں سے متنفر کرنے کا سامان پیدا کررہے ہیں۔ جس کی ایک مثال چار نومبر کو امریکہ میں منعقد ہونے ہونے والے الیکشن کے دوران فلم کے زریعے منصفہ شہود پر ائی۔اس فلم کے زریعے یہودیوں نے جہاں ایک طرف تل ایب کے من پسند امیدوار کی جیت کی مہم جوئی کو یقینی بنیا تو دوسری طرف یہودی بازیگروں نے امریکیوں کے قلوب میں اسلام کے متعلق خوف کی لہریں پیدا کیں تاکہ بش کی عسکری مہم جوئیوں کی مخالفت کرنے والے امریکی شدت پسند مذہب اسلام کے بناوٹی تصور کے مطابق مسلمانوں سے نفرت کریں۔
مسلمانوں کو اس قابل نفریں حرکت کا نشانہ بنانے والوں نے یہودیوں کے دست شفقت سے دستاویزی فلمISLAM RADICLE OBBESSION WEST THE AGAINST WAR(شدت پسند اسلام کی مغرب کے خلاف جنگ) بنائی جو صہیونی ادارےreporting HONEST کے سازشی ازہان کی پیدوار ہے مگر شاطر یہودیوں نے اپنے گھناوئنے چہرے کو چھپانے کے لئے فلم کو کلیرین نامی این جی او سے نتھی کردیا۔ اس فلم کی دوکروڑ اسی لاکھ سی ڈیز امریکی ریاستوں فلوریڈا ،مشی گن اہیو ،شمالی کیرولینا، نیویارک سمیت پورے ملک میں تقسیم کی گئیں۔فلموں کی تقسیم کا یہ عمل اب بھی پورے زور شور سے جاری و ساری ہے۔FUND CLARION اورTORAH ASH نامی یہودی این جی اوز فلم کی کاپیاں تقسیم کرنے اور اسکی پبلسٹی کے جوف جہنم میں کروڑوں ڈالر کا ایندھن استعمال کرنے کا کام انجام دے رہی ہیں۔ فلم کا دورانیہ ساٹھ منٹ ہے۔فلم میں مسلمانوں کو امریکہ و مغرب کے تعلیمی اداروں کالجز و یونیورسٹیز میں مغرب ،امریکہ و عیسائیت کے خلاف مہم چلاتے ہوئے دکھایا گیاہے۔مارٹن گلبرٹ ،ڈینئیل پائپس اور اسٹیو ایمرسن بالی وڈ کے شہرت یافتہ کمنٹیٹرز ہیں جو اسلام کے خلاف نشتر و زہر بھرے فقرے بولنے میں یگانہ روز گار تعصب پسند شخصیات ہیں۔فلم میں اسلام مخالف ان تینوں کمٹیٹرز کے انٹرویو بھی شامل کئے ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ کے ساتھ جی بھر کے کھلواڑ کیا۔
دستاویزی فلم میں مسلمانوں و عربوں کے ٹی وی چینلز سے حاصل کردہ تخریب کارانہ و دہشت گردانہ کاروائیوں و حملوں کے شعلہ فروزاں واقعات کومرچ مصالحے کے ساتھ شامل کیا گیا۔امریکہ کے ستر سے زائد معروف اخبارات نے فلم کی اہمیت و افادیت کو مدلل انداز میں شائع کیا۔CLARION FUND نامی یہودی این جی او نے فلم کے متعلق اپنی ویب سائیٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا فلم کا مقصد امریکیوں کو مسلمانوں کی دہشت گردی سے اگاہ کرنا ہے۔یہ متنازعہ فلم پہلے2006 میں ریلیز کی گئی تھی مگر اب اسے دوبارہ صدارتی الیکشن کے دوران منظر عام پرلایا گیا۔
امریکی نیوزپیپرز نے اس فلم کی تقسیم میں بھی روز روشن کردار ادا کیا۔معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے فلم کی دولاکھ کاپیاں بلامعاوضہ تقسیم کیں جبکہ واشنگٹن کے ایک اور نشریاتی ادارے نیوز اینڈ ابزرورز نے دولاکھ پچاس ہزار کا ہندسہ کراس کرکے مسلمانوں کے جذبات میں ہول برپا کردیا۔کہاوت ہے کہ فرعونوں وشاطروں کی بستی میں ایک ادھ سقراط و موسی بھی نوشتہ دیوار ہوتے ہیں۔شمالی کیرولینا کے اخبار نیوز اینڈ ریکارڈ نے مسلم قومیت کا احترام کرتے ہوئے فلم کی تقسیم سے انکار کردیا جو تالیف قلب کام ہے جسکی تعریف کی جانی چاہیے۔حق پرست دانشوروں و فلم کاروں نے فلم کی ریلیز کو جہاں مسلم تعصب کا طرہ امتیاز اور اسلام کے خلاف سازش سے جوڑا تو وہاں اس متنازعہ فلم کی ریلیز سے ووٹرز کو مخصوص صدارتی امیدوار کے کیمپ کی جانب راغب کرنے کا ہتھکنڈہ کہا ۔صدارتی الیکشن کے دوران ہر کنزرویٹو شو میںOBESSION زیر بحث رہی۔ فوکس نیوز جیسے مشہورترین ادارے نے اس فلم کو اپنے پرائم شو میں نو مرتبہ چلایا۔
امریکی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی رو سے فلم کے مصوروں اور مصنفوں نے امریکہ کی ان ریاستوں میں فلم کی پبلسٹی کے لئے زمین و اسمان کے قلابے ملادئیے جو صدارتی الیکشن کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی شہرت رکھتی ہیں۔ان نو ریاستوں میں میسوری،فلوریڈا،مشی گن، اوہائیو، شمالی کیرولینا اور پنسلووانیا وغیرہ شامل ہیں۔امریکہ و یورپ کی مسلم دشمن تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مغرب میں جب بھی مسلمانوں اور اسلام کے خلاف کوئی مہم شروع ہوتی ہے اسکے پیچھے صرف ایک ہی ہاتھ کارفرماہوتا ہے جس کا نام ہے یہود۔ مسلمان تنظیموں نے اس فلم کی پس چلمن لابیوں کے تانے بانے صہیونیوں سے جوڑے ہیں۔امریکی میڈیا نے تسلیم کیا کہ فلم کی تقسیم میں یہودی خیراتی ادارےHA TORAH ASH نے لیڈنگ رول ادا کیا۔کلیرئن فنڈ نامی این جی او کے ترجمان روس کانام تورا ایش کی ویب سائیٹ میں فیڈرل الیکشن2007 کے فنڈریزنگ فارم میں عالمی سطح پر فنڈریزنگ فہرست میں شامل ہے جبکہASSISTANCE DIRECTORY MANHATTEN میں بھی کلیرین فنڈ کا وہی پتہ موجود ہے جو ایک تیسرے گروپreporting honest کے ساتھ منسلک ہیں اور اسی فرم نے فلم تیار کی ہے۔امریکہ کی مسلم برادری نے اس فلم کو مسترد کردیا ہے۔اوہائیو میں رہنے والے مسلمان سلیم ندیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے بتایا فلم مسلمانوں کو نفرت زدہ مخلوق ثابت کرنے کی سازش ہے تاکہ مغرب والے مسلمانوں کو دہشت گردی کی نظر سے دیکھیں۔
فلم کا مواد سیاسی چال ہے جس میں مسلمانوں کو امریکی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلم کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو خوف کی علامت بنادیا جائے تاکہ انکا مخصوص تشخص کرچی کرچی بن جائے۔cair نامی امریکی ادارے کے انچارج برائے اسٹریجیٹک کمیونیکیشن وہاب احمد نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا۔فلم اسلام مخالف اور یہودیوں کی کٹر اسلام دشمنی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے مگر فلم میں ہدایتکاروں کی کم عملی پر کف افسوس بھی ملنا پڑتاہے کیونکہ اس کا متن کہانی و مناظر دہشت گردانہ و تخریب کارانہ مقاصد کی تعریف کے برعکس ہیں۔امریکہ میں بسنے والے مسلمان دانشوروں کی رائے ہے کہ صلیبی و صہیونی جادوگر امریکی معاشرے پر مسلمانوں پر دہشت گردی کی تہمتوں کی اڑ میں خوف کی فضا مسلط کرنا چاہتے ہیں۔یوں فلم بنانے والے کسی اور تنازعے کی بنیاد رکھ کر مسلمانوں کے خلاف نیا محاز کھولنے کے لئے صف ارا ہیں اور اس نئی فتنہ گری کے احیا کے لئے صہیونی پالیسی ساز مذہبی تنازعوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ یہودی مغرب کی انتظامی سیاسی صنعتی راہداریوں پر چھائے ہوئے ہیں اور وہ ر مسلمانوں کو کچلنے کے لئے مغربی میڈیا کا بے رحمانہ استعمال کرتے ہیں جو جھوٹ کو ایسی مہارت کے ساتھ عیاں کرتا ہے کہ جھوٹ بلکہ سفید جھوٹ پرفریب ہونے کے باوجود سچائی کا منظر پیش کرکے اہل مغرب کو اپنے رنگین سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ صلیبی و صہیونی پراپگنڈے کا توڑ کرنے کے لئے اس امر کی ضرورت ناگزیرہے کہ مسلم امہ مغرب میں اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے اور مغربی زرائع ابلاغ کی اسلام کے خلاف پھیلائی گئی شعلہ سامانیوں اور فتنہ سامانیوں سے متاثر ہوکر مسلمانوں سے نفرت کرنے والے سادہ لوح غیر مسلموں کو اسلام کی افاقی تعلیمات کی چاشنی سے روشناس کروانے کے لئے مشترکہ میڈیا پالیسی تشکیل دے۔او ائی سی نامی بے حس گھوڑے کو کم ازکم ایک ایونٹ میں تو فتح کا تمغہ حاصل کرنا چاہیے اور وہ ایوینٹ ہے مشترکہ مسلم زرائع ابلاغ کا قیام تاکہ یہودیوں کے ڈریکولائی چہروں پر خوبصورت نظر انے والے رنگین غازوں و ماسکوں کو اتارا جاسکے۔