
ہم ایک بار پاکستان گئے۔ اپنے ایک کزن سے ملنے فیصل آباد پہنچے۔کزن نے فروٹ خریدنا تھا۔وہ ایک ریڑھی والے کے پاس پہنچے۔ کزن نے کہا،"بابا جی !کل آپ نے جو فروٹ دیا تھا وہ کچھ خراب نکلا۔" بابا جی نے ترکی بہ ترکی کہا ، "بیٹا ! میں نے تو اپنی طرف سے ٹھیک ہی دیا تھا، رب کی طرف سے خراب ہوگیا ہوگا۔"ہم لاہور میں ایک ٹیکسی میں بیٹھے۔ ہم نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا کہ وہ ، یہ ٹیکسی کیسے چلا رہا ہے۔ ٹیکسی والے نے جواب دیا،"بابو جی ! یہ ٹیکسی میں نہیں چلا رہا ہوں، یہ تو رب چلا رہا ہے۔"ہمیں ان دوچار تجربوں سے گزرنے کے بعد یقین ہو گیا کہ پورا ملک واقعی رب چلا رہا ہے۔
آج پاکستان کی جو حالت ہے وہ ناقابلِ یقین حد تک خراب ہو چکی ہے۔ اسے ٹھیک کون کرے گا؟موجودہ حکومت کے کارندے صرف بیان دے رہے ہیں۔کہیںڈاکہ پڑتا ہے توپورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جاتا ہے مگر ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ علاقے کو گھیرے میں لینے سے عوام پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اورملزم فرار ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ ڈاکہ مارنے چلا جاتا ہے۔
جو حکومت بھی آتی ہے عوام کو بے وقوف بناتی ہے۔جو کام بھی ہو رہا ہے بے نظیر ہو رہا ہے ، جس کی نظیر دنیا میں اور کہیں نہیںملتی۔کسی ملک کی دو وزارتیں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ ایک خزانے کی وزارت اور دوسری داخلہ امور کی وزارت۔موجودہ حکومت کے دعوے تو بہت ہیں مگر یہ دونوں وزارتیں مشیر چلا رہے ہیں۔ان مشیروں کو عوام نے ووٹ دے کر اسمبلیوں میں نہیںبھیجا۔یہ تو ایسے ہی جیسے ہسپتالوں میں ڈاکٹروںکی جگہ آپ نے کمپائونڈر تو درکنار سڑک پر مجمع لگا کر دوائیاں بیچنے والے بھرتی کر لیے ہوں۔انجام صاف ظاہر ہے۔مشیروں کے آگے اپنے مشیر ہیں۔اسمبلیوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہی۔
امریکہ کے جاسوس جہاز بمباری کر رہے ہیں۔حکومت سے پوچھا جاتا ہے کہ ایسا کیوں ؟مشرف دور اور اس جمہوری دور میں کیا فرق ہے؟جواب ملتا ہے کہ ہم امریکہ سے احتجاج کرتے ہیں۔ مشرف دور میں احتجاج نہیں ہوتا تھا۔ ٹی وی سٹیشن پر جب بندش لگتی ہے تولوگ پوچھتے ہیں ، یہ پابندی کیوں؟حکومت کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ ہم پانبدی کی مذمت کرتے ہیں جبکہ مشرف دور میں مذمت نہیں ہوتی تھی۔
سچ تو یہ کہ صدر راج آج بھی قائم ہے۔ صدر کی مرضی کے بغیر وزراعظم اپنی شیروانی کے بٹن تک بند نہیں کر سکتا۔آج بھی صدر کے بیانات میں، میں اور ہم ہم کی تکرار سے سرشار ہیں۔بالکل مشرف کی طرح۔وہی انداز، وہی لٹک۔
برطانیہ میں ہر طرف پاکستان کے ٹوٹنے کا چرچا ہے۔اور یہ چرچا خود پاکستان کے رہنے والے ہی کرتے ہیں۔ایسا لگتا ہے یہ پاکستان اب قائد اعظم کا پاکستان نہیں رہا۔کسی بھی چھوٹی سی پارٹی کے لیڈر کو پورے پاکستان کا لیڈر قرار دے دیا جاتا ہے ، اور وہ لیڈر پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کے دلوں کی دھڑکن بنا دیا جاتا ہے۔ہر جگہ زبردستی کا دور دورہ ہے۔قائد کا احترام تک باقی نہیں رہا۔اگر ہم قائد کے پاکستان کو برا بھلا کہتے ہیں تو ظاہر ہے ہم قائد کا احترام نہیں کرتے۔
اب لگتا ہے یہ فیصلہ کرنا ہی پڑے گا کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد ہو یا طالبان۔موجودہ حکومت کے اقدام سے تو یہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ طالبان کو آزادی دینے کے حق میں ہے۔حکومت کا ہر اقدام عوام کو طالبان کے قریب ترلے جا رہا ہے۔عدلیہ کا تو حشر نشر کردیا گیا ہے۔صرف ایک وزیرِ قانون ہی ہیں جو عدلیہ کے بارے میں جانتے ہیں۔باقی سارے وکلاء ، ریٹائرڈ جسٹس وغیرہ عدلیہ کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتے۔ لگتا ہے داخلہ اور خزانہ کے قلمدان سمبھالنے کے لیے حکومت کے پاس ذہین اشخاص کا فقدان ہے۔لیکن عدلیہ کو سمجھنے والا ضرور موجود ہے۔جب الطاف بھائی کراچی میں طالبان کی یلغار کی بات کرتے ہیں تو حکومت صاف انکار کر دیتی ہے کہ نہیں ، ایسی کوئی بات نہیں۔ وہ الطاف بھائی کو جھوٹا تو نہیں کہتے مگر تائید بھی نہیں کرتے۔ایم کیو ایم کا زور توڑنے کے لیے حکومت ایک طرف تو یہ بیان دیتی ہے کہ سندھ پاکستان کا حصہ ہے،یہاں کوئی بھی پاکستانی آ سکتا ہے، جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہاں بسنے کی اجازت صرف صوبہ سرحد ہی لوگوں کو ہے۔دھڑا دھڑ مدرسے بنائے جا رہے ہیں۔مدرسوں کی آڑ میں اندر گرائونڈ ورلڈ کی تعمیر بھی جاری ہے۔
جو کھیل لال مسجد کے نام پر اسلام آباد میں کھیلا گیا، وہی اب کراچی میں بھی کھیلا جائے گا کیونکہ پاکستان کا "پہلا قبلہ" کراچی تھا۔
ان" خاندانی "تجارت دانوں سے عوام کی حالت کبھی نہیں بدلے گی۔آئی ایم ایف سے قرضہ مل گیا ہے۔2011 سے واپسی شروع ہوگی اور پانچ سال میں قرضہ اتارنا ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 2016تک غریب ، غریب ہی رہے گا۔اس قرضہ میں وہ رقم بھی شامل ہے جو اقوامِ متحدہ سے مادرِ جمہوریت کے قتل کی تحقیقات پر اُٹھے گی۔جی ہاں ، حکومت کو سب نے نہیں چلانا، صرف رب نے چلانا ہے:
گدگدی سے ہنسی نہیں آتی
غم میں بالکل کمی نہیں آتی
ہم غریبوں کے دیس میں اب تو
بھول کر بھی خوشی نہیں آتی