Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
Al Qamar Online Blogs


    
| | |
Preview Chanel
Important News International News News From Pakistan News from India Special Reports and Features Columns Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan
Tue, 06 Jan 2009 20:16:02   |   |   |  Text Only Version

Mon, 01 Dec 2008 10:54:00

اسلام دین فطرت ' جبر'جہاد قتال ؟



 اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اور قرآن کریم خدا کا کلام ہے اس میں دی گئی تعلیمات  بغیر کسی تخصیص کے بنی نوع انسان کی  فلاح و بہبود اور روحانی ترقیات کے لئے وقف ہیں۔ اسلام آزادی ء ضمیر 'حریت فکرکا اور مذہبی روا داری کا اس شدت سے داعی ہے کہ اس کی نظیر دیگر مذاہب میں نہیں ملتی۔اسلام روشن خیالی ' اعتدال پسندی  امن و سلامتی اور رواداری کا مذہب ہے اس میں اپنوںسے اور غیر مذاہب کیلئے مذہبی تعصب جبر یا تشدد کی گنجائیش نہیںہے۔ اسلام تو سراسر محبت کے  مذہب کا عالمگیر پیغام ہے اور اس میں محبت سب کے لئے اور نفرت کسی سے نہیں کی تعلیم ہے۔

  ہمارے نبی کریمۖ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رحمتہ للعالمین قرار دیا ۔نوع انسان سے نفرت کا کوئی ایک واقعہ بھی حضور اکرم ۖ کی زندگی میں نہیں ملتا ۔آپۖ نے دشمن تک کو بھی نفرت کی آنکھ سے نہیں دیکھا اور اپنی طرف منسوب ہونے والوں کا تو معاملہ ہی الگ ہے ۔ایک حیرت انگیز جذبہ رحمت شفقت آپۖ کے اندر موجود تھا لیکن ظلم کی یہ انتہا ہے کہ اس زمانہ کے بعض مذہبی علماء اور مسلمان'' راہنما ئوں'' نے جبر و تشدد کے نظریہ کو صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ ہمارے پاک آقاۖ کو بھی اس میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اور اسی طرح اسلام کے مقدس جہاد کی تعلیم میںجبرو تشدد کے خود ساختہ نظریات داخل کردئے گئے ہیں ۔

اسلام دین فطرت ۔ یعنی فطرت جس کی مخالف نہیں ہے  وہاں یہی دین جبر تشددجہاد قتال کو روا رکھنے کی وجہ سے اب ایسے تغیرات کے نیچے آگیا ہے کہ اگر لوگ اس کو فطرت کے مخالف کہیں تو غلط نہیں ۔آج دنیا کے سامنے جو ہمارے جہادی علماء اسلام پیش کرتے ہیں اس کو دیکھ کر اگر کوئی شخص کہہ دے اس مذہب کو اپنے پاس ہی رکھو تو بے جا نہ ہوگا ۔انسانوں میں بھی نقص ہوتے ہیں کہ مگر ایسا بہت ہی کم دکھائی دیتا ہے کہ ان نقائص نے انسان کی پوری شخصیت کو داغدار کردیا ہو ۔مگر ہمارے جہادی علماء نے مروجہ جہاد کو دہہشت گردی اور خود کش حملوں کی شکل دے کر ۔ ا سلام کی موجودہ شکل ایسی بنادی گئی  ہے کہ سر سے لے کر پیر تک اس میں نقص ہی نقص دکھائی دیتے ہیں۔کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام دین فطرت جو صد اقت اور حقانیت سے پُر مذہب جس کے مقابلہ میں تمام دنیا کے فلسفیوں کی نظریں جھک جاتی ہیں اور آنکھیں کھل جاتی ہیں آج سوائے اس کے کہ کوئی اس کو باپ دادا کا مذہب خیال کرکے ( اس کی حقیقت سے بے خبر ) اس کو مانے گویا مسلمانوں کی غالب اکثریت نے نام نہاد علماء کی پیروی میں( حقیقت دین سے بے خبری ہونے کے باعث) اسلام کو چند عبادات اور بہت سی رسوم قیود تک محدود کردیا ہے ۔اور نام نہاد علماء نے اسلام کو ایسا بھیانک کردیاہے مگر جو شخص ( دین فطرت ) کی خوبیوں سے اور اسلام کی حقیقت سے بے خبر ہو وہ اسلام کی موجودہ شکل سے انتہائی خوف ذدہ ہے ۔ الغرض کسی پہلو سے( بالخصوص توحید کے مخالف قبر پرستی پیر پرستی ' و دیگر رسومات  و مروجہ عقائد ) بھی دیکھا جائے  تو اسلام میں خرابیاں خرابیاں ہی پیدا کردی گئی ہیں اور اس قدر نقص ہر طرف سے پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کوئی مصلح ربانی ہی ان کی اصلاح کرسکتا ہے ۔

آج اسلامی ملکوں بالخصوص عراق ' افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے اسلام کا نام آتے ہی  دہشت گردی کا تصور ذہن میں آتا ہے۔اور ایک ڈر یا خوف اس کے ساتھ وابستہ ہوتا جا رہا ہے ۔حقیقت میں قصور اس نام نہاد جہاد ی ملاں کا ہے جس نے اپنے جہادی متشددعمل سے اسلام کو  Exlplot کیا ہوا ہے ۔ اور مٹھی بھر جہادیوں کے نام نہاد جہاد قتال  کے ذریعہ اسلام کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ اسلام کی امن و سلامتی  کی تعلیم کوجبر و تشدد کا جہادی لبادہ پہنا دیا  گیا ہے ۔ گویااسلام کی انسانی رواداری'  مذہبی رواداری و مذہبی آزادی کی صورت مسخ کرکے رکھ  دی ہے۔  اسلام میں جبر تشدد کی قطعاََ گنجائش نہیں اسلام اپنی اشاعت  مین کسی بھی دور میںتلوار کا محتاج نہ تھا ۔اشاعت اسلام میں تلوار کا استعمال ممکن ہی نہیں  ۔ایمان کا دارومدار دل سے ہے ۔جبر تشدد سے کبھی دل قائل نہیں کئے جاسکتے ۔  اشاعت اسلام محبت اور دلائل سے ہوئی ہے ۔اسلام تو ایسا مذہب ہے کہ اپنے مخالفوں سے بھی حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے ۔۔ہاں اسلام صرف دشمن کے خلاف اتنی اجازت دیتا ہے کہ تم اپنا دفاع کرلو ۔دفاع کے بعد مسلمانوں کو زیادتی کی جانب راغب ہونے سے منع فرمایا ہے ۔  سورة الحج کی آیات ٤٠'٤١) میں جہاد بالسیف کے مضمون پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔'' کہ صرف ان لوگوں کو اپنے دفاع میں جہاد بالسیف کی اجازت دی جاتی ہے  جن پر اس سے پہلے دشمن نے کی طرف سے تلوار اُٹھائی گئی  اور ان کو گھروں سے نکال دیا گیا ۔محض اس لئے کہ وہ یہ اعلان کرتے تھے کہ اللہ ہمارا رب  اور پھر انہیں آیات میں یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر دفاع کی اجازت نہ دی جاتی تو صرف مسلمانوں کی مسجدیں ہی منہدم نہ کردی جاتیں بلکہ یہود اور عیسائیوں وغیرہ کے معابد اور خانقاہوں کو بھی برباد کردیا جاتا ۔''

 دور جدید کے جہادیوں نے اسلام کے جہاد مقدس کی اور آنحضرت ۖ کے اسلوب جہاد کی پیروی کرنے کی بجائے مشرکین مکہ کی اسلام دشمن لڑائیوں کو جہاد کا نام دے کر اختلاف مذہب و اختلاف عقیدہ کیوجہ سے مسجدوں امام بار گاہوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں تک کو نشانہ بنایا ہوا ہے ۔ اسلام میں کسی فرد یا گروہ کو جہاد کے نام پر قتال کی اجازت نہیں ۔ بلکہ حکومت وقت اپنے دفاع میں جنگ کا اعلان کرے گی ۔ اسلام نے جنگ کے اصول بھی مقرر فرمائے ہیں۔عورتوں ' بچوں اور لڑائی میں نہ حصہ لینے والے ' مذہبی لوگوں جیسے پادری وغیرہ کو جنگ میں نقصان پہنچانے سے سخت منع کیا ہے ۔

اسلام مذہبی رواداری کی تعلیم دیتا ہے قرآن کریم نے بنیادی طورپر ہر شخص جو چاہے وہ کوئی عقیدہ رکھتا ہو اس سے دین  کے معاملہ میں قتال کا حکم نہیں دیا بلکہ اس سے حسن سلوک کر نے کی تعلیم دی ہے اسلام نے اختلاف  مذہب یا اختلاف عقیدہ کی بناء پر کسی بھی شخص سے اخلاقی برتاؤ یا معاشرت میں کسی سلوک میں کوئی فرق نہیںکیا۔

قرآن کریم کی سورة النحل ٩١ میں ''بلا امتیاز مذہب و ملت عدل اور احسان کا حکم دیا اور بے حیائی نا پسندیدہ  باتوں سے اور بغاوت سے منع کیا ۔'' مگر جہادی تنظیمیں کے نزدیک غیر مسلموں کا قتال تو عین جہا دہے ۔مگر ان کے جہادی وحشت میں اس قدر وسعت پیدا ہوچکی ہے جبکہ پاکستان میں جہاد کے نام پر کلمہ گو دوسرے کلمہ کو شب روز موت کے تحفے بم دھماکوں کی صورت میں دے رہے ہیں۔ بالخصوص پاکستان میں آج ہر طرف اسلام کی تعلیمات کی نہ صرف خلاف ورزی ہو رہی بلکہ مذہبی ' انسانی روداری کی تہذیب کے آثار تک کو مٹایا جا رہا ہے ۔جبکہ ایک جہادی گروہ اختلاف مذہب یا عقیدہ کی بناء پر خودکش حملو ں کے ایک دوسرے کے تحفے دے رہے ہیں اور ساتھ گورنمنٹ کی رٹ کو بھی چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ گورنمنٹ اپنی رٹ کوقائم کرنے کے لئے بم برسا رہی ہے ۔دونوں جانب سے بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے ۔ گویا مروجہ جہا  دنے انسان کو تباہی کے کنارے پر کھڑا کردیاہے ۔ بالخصوص  پاکستان میںجہاد کے نام پرتباہی کے ہتھیاروں کے آپس کے مقابلہ میں انسانیت سوز جنگ جاری ہے ۔

اسلامی دنیا میں ہمارے علماء  اختلاف مذہب  و اختلاف عقید کے نام  مذہبی منافرت جاری ساری کئے ہوئے ہیں ۔ مسلم کو مسلم سے لڑا یا جا رہا ہے ۔ اور جہادی علماء مسلم تشخص کو غیر مسلم تشخص سے لڑانے سے باز نہیں آتے۔ان کی جہادی کاروائیوں سے عا لمی سطح پر اُمتہ مسلمہ کا کردار دنیا کے ہر ملک میں مشکوک ہوکر رہ گیاہے ۔

کیونکہ انہوں نے قرآن مجید میں سورة الحج کی آیات میں جہاد کی کامل تعریف کے باوجود خودحفاظتی جہاد کی اصل روح جہاد کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔جہاد بالسیف کا حکم یعنی مسلما نو ں مشرکین مکہ کے خلاف مخصوص حالات میں ہوا تھا کیونکہ آنحضرت ۖ اور جماعت مومنین جب مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور قتل وغارت کی اسلام دشمن کاروائیوں سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کر چکے تھے ۔مشرکین مکہ نے مکہ سے مدینہ کا سفر طہ کرکے مسلح جنگ اسلام کو مٹانے کے لئے مسلمانوں پر مسلط کردی تو ان حالات میں آنحضرت ۖ اور جماعت مومنین کو مشرکین مکہ کے خلاف تلوار اُٹھانے کا حکم ملا تھا ۔         

ان آیات میں جہاد کی اجازت کی وجہ بھی بیان کردی گئی ہے یعنی مسلمانوں کا قصور فقط یہ تھا کہ وہ خدائے واحد کے آگے سجدہ ریز ہوتے اور خدائے واحد کا نام لینے سے باز نہیں آتے تھے مشرکین مکہ نے توحید یعنی اسلام کو مٹانے کے لئے مدینہ میں مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی گئی تھی ۔تو گویا یہ لڑائی خدائے واحد کی وحدانیت کے قیام یعنی عقیدہ و مذہبی آزادی کے لئے خدائی منشاء کے لئے یہ لڑائی لڑی گئی ۔

لیکن عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان میں مذہبی جہادی تنظیموں کی طرف سے ہر طرف سے جہاد جہاد کے نعروں کی آوازیں آرہی ہیں۔ اور مسلم مسلم کو بھی جہاد کے نام پر اور مسلم غیر مسلم تشخص کو بھی جہاد کے نام پر لڑائی کی دعوت دی جارہی ہے ۔عراق کویت جنگ ' اور عراق ایران جنگ اور روس کے خلاف  افغانستان  میں امریکی مفادات جنگ بھی جہادیوں نے جہاد کے نام پر لڑی ۔کشمیر کی آزادی کی جنگ بھی جہاد کے نام پر لڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔کشمیر کی جنگ میں جہادیوں کے مذہبی تعصب نے کشمیر آزادی کی جنگ کے کاز 'کو زبرد ست نقصان پہنچایا ۔جہادی جنگجوئوں نے کشمیر کی جنگ آزادی کو جہاد کا اور مذہبی تعصب کا نام دے کر کشمیری ہندوئو ں کی حمایت سے اور دنیا کی غیر مسلم حکومتوں کی حمایت سے کشمیر یوں کو محروم کیا ہوا ہے ۔

پس اسلامی دنیا کو چاہیے کہ علماء کو اسلام کے پاک  نام  اور جہاد مقدس کے نام کو t  Exploکرنا قانوناََ ممنوع  قراردیا جائے ۔ اور اسلامی دنیا کی حکومتوں کو یہ  فیصلہ کُن قدم اُٹھانا ہوگا ۔ ایسا قدم  اب تک نہ اُٹھانے کے سبب عالم اسلام میں نسلی قبائلی اور سیاسی مفادات کی سب جنگیں جہاد کے نام پر لڑی جا رہی ہیں۔ ان جنگوں نے عالم اسلام کے اتحاد کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیاہے ۔

 جہادی تنگ نظری ' انتہا پسندی  اور مذہبی تعصب پاکستانی معاشرہ کو اپنی پوری لپیٹ میں لے چکی ہے ۔اور خودکش حملوں اور فرقہ ورایت نے مل کر پاکستان اورپاکستانی معاشرہ کے امن وامان کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔خود کش حملوں کو گورنمنٹ روکنے میں ناکام رہی تو  ہماری معاشرتی تہذیبی جڑوں کے آثار تک مٹ جائیں گے ۔( اختلاف مذہب ' اختلاف عقیدہ ' زبان نسل کے امتیاز کو شدت سے جاری رکھنے کے سبب) جو قوم بحیثیت ایک قوم بننے کے لئے تیار نہ ہو تو ایسی صور ت حال کے بارے فرمایا خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے کے لئے تیار نہ ہو              

 
یہ خبر، مضمون یا کالم درج ذیل لنکس سے اپنی ڈائری میں محفوظ کریں
digg it | Yahoo | Google | Slashdot | del.icio.us | Technorati

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india

Al Qamar Online
Masood Munawar, Al Qamar Online, Norway
|
Mujahid Hussain, Brussles
|
Nasar Malik
|
M.Haroon Abbas
Zabih ul Allah
|
Saeed Akhtar Ibrahim
|
Jamil Ahmed Khan
|
Qamar M.A.
Muhammad Bin Qasim
|
AsGhar Ansari, New Delhi, India
|
Sheikh Abdul Majid
|
Rauf Amir Pappa Baryar, Kot Addu
 

online.urdu.newspaper.pakistan.bbc.jang..poetry.sms.joke.shairi.girl.airline.cricket.woman.embassy.lahore.music.fashion.wedding.india
Jan 2009
SuMoTuWeThFrSa
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

Urdu Bloggers
Urdu Bloggers
HalChal
SMS Guru
SMS Guru
Daily 1 World
Al Qamar Online
© Copy Rights 1999-2008, Al Qamar Online Media City , All Rights Reserved.

Email: General: mail@alqamar.org | For News : news@alqamar.org
Contact : UK: + 44 703 186 7719 | Denmark: +045 22 16 6554 | U.S. +1 516 3142803 | Pakistan: +92 322 5211447, +92 333 78 1751 1

Popular Searches: Urdu News, Urdu Newspaper, Online Urdu News, Online Urdu Newspaper, Urdu News paper, Pakistani Newspaper, Newspaper from England, 24 Hours Live Updated Urdu News, Indian Newspaper, Online Urdu Newspaper, BBC Urdu, Urdu Poetry, Urdu Blogs, Pakistani Fashion, Wedding, india,World News

Al Qamar Online is considered the largest , the most famous and popular web site the world over functioning for the awareness of social, political, economical and cultural issues of the south Asian community.
Islam:
Basic Islamic Teachings and Research Articles

Al QamarNews:
This online Network presents daily live updated news, and we have the largest News archives of past three years on the site.It has the well experienced, intellectual, highly qualified and dedicated journalists, writers on its editorial board (who worked with world’s known organizations like BBC etc.) their articles and column have great impact on the readers. More than 3100 Urdu Columns on Current Issues, International Affairs and Politics are online on this site.
Poetry: This website contains the largest collection of Urdu Poetry and literature. More than 300 poets’ selected poetry is online.
For Women: Find out Recipes and Designs Of Henna( mehndi)
For Kids: Stories, Online Games, etc.
Show biz: Latest Pakistani Fashion, Pictures, images, of Pakistani Stars and Models
Powered by: PHPCow.com