
ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اس اعتبار سے لائق تحسین ہیں کہ وہ محب وطن پاکستانی ہیں اور اپنی حب الوطنی کو ملک و قوم کی تعمیری و ترقی کیلئے استعمال کرنے کے ہنر سے آگاہ ہیں ۔ SDPI(Sastainable Development Policy Institute)کب وجود میں آئی راقم کو اس کوئی غرض ہے اور نہ تعرض ،محض یہ جانتا ہوں کہ عابد قیوم سلہری اور اس کے ساتھی جس نوع سے اپنی تنظیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اگر اسی طرز کو وطن عزیز کا محب وطن طبقہ بروئے کار لے آئے تو بعید نہیں کہ پاکستان کی وہ محرومیاں اور مشکلات جن کا زکر کرتے ہوئے چشم نم اور دل فگار ہو اٹھتا ہے ،کافور یاکم ہو جائیں ۔
میں گزشتہ چند روز سے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ہوں ۔برادر معظم بھٹی کی رفاقت اور میزبانی میں مجھے شعبہ صحافت سے وابسطہ متعدد احباب سے ملاقات کا موقعہ میسر آیا ہے ۔برادر احمد خلیل جازم سے تفصیلی ملاقات بھی اسلام آباد میں قیام کا حاصل ہے ۔ڈاکٹر عابد قیوم سلہریSDPIکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں ۔ڈاکٹر عابد کی تنظیم پاکستان میں پائدار ترقی اور امن کیلئے کام کر رہی ہے ۔ان دنوں اسلام آباد میں مذکورہ تنظیم کی سالانہ کانفرنس جاری ہے ۔ ڈاکٹر عابد سلہری نے راقم کو بھی اس کانفرنس میں مدعو کر رکھا تھا ۔اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کو'' جنوبی ایشاء میں عالمگیریت کے تناظر میں امن اور پائیدار ترقی ''کا عنوان دیا گیا تھا ۔
مذکورہ کانفرنس میں رضا ربانی ،شفقت کاکا خیل ،رانا نذیر محمود ،شکیل حمد رامے ،شفقت منیر،مبارک زیب ،معظم بھٹی سمیت متعدد صاحبان علم وفہم شریک تھے ۔بہت کچھ کہا اور سنا گیا تاہم کالم کا موضوع محض وہ ایک سیشن ہے جسے جمہوریت اور آمریت کا نام دیا گیا تھا ۔ کہا گیا کہ فہم ،دانائی اور حب الوطنی کو بروئے کار لاتے ہوئے درد دل کا اظہار کریں کہ آمریت بہتر ہے یا جمہوریت ؟آمریت کے دور میں امن ہوتا ہے یا جمہوریت امن کی ضمانت ہے ؟میرے سوا وہاں سارے ہی بولنے والے تھے ۔معظم بھٹی نے کہا آپ بھی تو کچھ کہیں ۔عرض کیا نہیں آج محض سماعت کریں گے ۔ یہی ہوتا اگر ڈاکٹر عابد بولنے کیلئے نہ کہتے ۔وقت کی قلت تھی اور کہنے کو بہت کچھ تھا لہذا اتنا ہی کہا ۔جمہوریت یا آمریت موضوع نہیں ہیں ۔SDPI کو زیبا نہیں کہ وہ پاکستان میں حق حکمرانی کو موضوع بنائے ۔ درد دل اپنی جگہ حب الوطنی کا جذبہ بجا سہی تاہم آج وقت نہیں کہ جمہوریت اور آمریت کی بات کی جائے ۔اس ملک کے سیاسی نظام کو کن خطوط پر استوار ہونا ہے یہ 1973ء میں طے کر لیا گیا تھا ۔ایک مقدس آئین جس میں طے پا گیا تھا کہ جو اس مقدس دستاویز کا احترام نہیں کرے گا اوراسے اس کی حقیقی ہیت سے الگ کرے گا اسے موت کی سزا دی جائے گی ۔ اس میں دو آراء نہیں ہیں کہ ملک اور ریاستیں آئین کے بغیر باقی نہیں رہا کرتیں ۔آئین ایسا قبلہ ہوتا ہے جس کے جانب رخ کیے بغیر کبھی نماز نہیں ہوتی ۔اسی طرح ریاست آئین کی پاسداری کے بغیر کبھی ترقی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ۔آج یہ موضوع ہے اور نہ عنوان ،کہ پاکستان کا سیاسی اور انتظامی نظام کیا ہوگا ؟۔پاکستان کا سیاسی نظام وہی ہوگا جو 1973ء کے آئین میں درج ہے ۔ہاں موضوع ہے تو بس اتنا کہ آئین کی پاسداری کو یقینی کیسے بنایا جاسکتا ہے ۔
اسے ملک کی بدقسمتی کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے کہ 1973ء کا آئین اب تک سترہ بار ترامیم کے مرحلے سے گزرچکا ہے ۔وہ سیاسی وجمہوری وزیر اعظم جس کے سر اس آئین کی تخلیق کا سہراہے اپنے دور اقتدار میں وہ خود اپنے ہی بنائے ہوئے آئین میں دو مرتبہ ترامیم کر چکاتھا ۔یعنی وہ سیاسی شخصیت بیک وقت آئین ساز بھی تھی اور آئین شکن بھی ۔اس کے بعد آنے والے فوجی آمر جسے جنرل ضیا ء الحق کے نام سے جانا جاتا ہے اس نے برسر ااقتدار ہوتے ہی جس بے دردی سے آئین کے بے توقیری کی اس کی نظیردنیا کی کسی غیر مہذب ریاست میں نہیں ملتی ۔یہ وہی فوجی آمر ہے جس نے کہا تھا کہ آئین محض کاغذکا ٹکڑاہے جسے جب چاہوں پھاڑ دوں ۔آج جو سیاسی و مذہبی جماعتیں ملک میں آزاد عدلیہ اور آئین کی مکمل پاسداری کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں بد قسمتی سے یہی وہ جماعتیں ہیں جوجنرل ضیا ء الحق کی آمریت کو تقویت فراہم کرنے کا سبب بنیں ۔جماعت اسلامی اور اس وقت کی مسلم لیگ جس کے سربراہ پیر پگاڑا تھے جنرل ضیاء الحق کی حمائت میں پیش پیش رہے۔ بعد ازاں یہ ''مقدس''فریضہ میاں شریف کے صاحبزادے میاں نواز شریف نے سنبھال لیا ۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق سے مسلم لیگ کی مرکزی صدارت داد دہش میں وصول پائی۔ میاں نواز شریف طیارہ حادثہ تک جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت کے غیر مشروط حامی رہے ۔اسی طرح جماعت اسلامی بھی جنرل ضیاء الحق کو ان کی رحلت تک امیر المومنین تصور کرتی رہی ۔جنرل ضیاء الحق نے جس بے دردی سے آئین کے تقدس کو پامال کیا اس جرم میں سیاسی جماعتوں کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے بھی سیاسی جماعتوں کی مددسے آئین کو اس کی حقیقی ہیت سے الگ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔بد قسمتی سے اس گھناونے اور وطن دشمن اقدام کیلئے جنرل پرویز مشرف کو بھی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا تعاون میسر رہا ۔
قابل زکر امر یہ ہے کہ آئین چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ آئین شکن کی سزا موت ہے جبکہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ہم ایک آئین شکن کو انتہائی ادب واحترام سے بیرون ملک روانہ کرتے ہیں اور اس پر شرمسار بھی نہیں ہوتے ۔جب تک آئین شکنوں کو آئین کے مطابق سزا نہیں دی جائے گی آئین شکنی کے اس عمل کا سد باب کیونکر ممکن ہے؟
مکرر عرض کرتا ہوں زیبا نہیں کہ بحث کی جائے کہ اس ملک کا مقدر جمہوریت ہے یا آمریت ۔یہ فیصلہ 1973ء کے آئین پر چھوڑ دیجئے۔ اگر آئین ملک میں آمریت کی اجازت دیتا ہے تو آمریت کو خوش آمدید کہیں اور اگر آئین آمریت کی مذمت کرتے ہوئے جمہوریت کے فروغ اور استحکام کا مطالبہ کرتا ہے تو تمام تر زاتی انتفاع کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جمہوریت کے حقیقی قیام اور بقا کیلئے کوشش کیجئے اورہر ممکن کوشش کر کے آئین شکنوں کو آئین کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مسقتبل میں کوئی فرد یا ادارہ آئین شکنی کا متحمل نہ ہو سکے ۔ اسی میں ملک کی بقا ہے اور یہی اس ملک کا مقدر ہے یعنی جمہویت۔